امریکا کا ‘مونرو ڈاکٹرائن’، ٹرمپ نے وینزویلا پر حملے میں اس کا حوالہ کیوں دیا؟
فوٹو: اے ایف پی
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا میں کارروائی کرکے صدر نیکولس مادورو کو حراست میں لینے کے بعد اس کو اپنی کامیابی قرار دیتے ہوئے اس سے امریکا کی 19 ویں صدی خارجہ پالیسی مونرو ڈاکٹرائن کا حوالہ دیا اور اپنے آپ سے منسوب کرتے ہوئے ڈونرو ڈاکٹرائن بھی کہہ دیا۔
غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے مادورو کے خلاف کارروئی کے بعد پریس کانفرنس میں بتایا کہ مونرو ڈاکٹرائن ایک بڑا معاہدہ ہے لیکن ہم نے اس کو نئی شکل دی اور حقیقی معنوں بہت آگے نکل گئے ہیں۔
ٹرمپ نے مونرو ڈاکٹرائن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اب اس کو ڈونرو ڈاکٹرائن کہا جائے گا اور کہا کہ ویسٹرن ہمسفیئر پر امریکا بالادستی پر دوبار کبھی سوال نہیں اٹھایا جائےگا۔
امریکی صدر نے مونرو ڈاکٹرائن کی اصطلاح میں ترمیم کرتے ہوئے اپنے نام کے ابتدائی الفاظ شامل کرکے اس کو ڈونرو ڈاکٹرائن قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے پالیسی سازوں نے چند ہفتے قبل قومی سیکیورٹی اسٹریٹجی میں اسی منصوبے کو فکری جہت دیتے ہوئے مونرو ڈاکٹرائن سے ٹرمپ کورولری کا اعلان کیا تھا۔
امریکا کی اس پالیسی یا حکمت عملی میں کہا گیا کہ اس کے تحت امریکا کو چند اہداف حاصل کرنے کے لیے لاطینی امریکا میں مداخلت کی اجازت ہوگی، جس میں اسٹریٹجک اثاثے، کرائم کے خلاف جنگ یا امیگریشن کا خاتمہ شامل ہے، جو ٹرمپ کا اندرونی سطح پر سب سے اولین ہدف ہے۔
وینزویلا کے پاس تیل کے دنیا کے سب سے زیادہ تسلیم شدہ ذخائر ہیں اور چین اس کا سب سے بڑا شراکت دار ہے جبکہ ٹرمپ نے اپنی کارروائی کو جواز بخشنے کے لیے وینزویلا سے چھوٹی کشتیوں میں منشیات کی اسمگلنگ کا الزام دیا اور نیکولس مادورو کو بھی اس کا الزام دیا۔
امریکا کی کارروائی کے لیے ایک ایسے وقت کا انتخاب کیا گیا جب چین نے امریکا کے اسلحے کے اہم معاہدے کے بعد بڑی فوجی مشقیں کی تھیں اور چینی سفیر نے مادورو سے ان کی گرفتاری سے چند گھنٹے قبل کراکس میں ملاقات کی تھی۔
مونرو ڈاکٹرائن کیا ہے؟
امریکا کی 19 ویں صدی کی خارجہ پالیسی کو مونرو ڈاکٹرائن کا نام دیا گیا ہے جو امریکا کے پانچویں صدر جیمز مونرو نے 1823 میں متعارف کروائی تھی جس کا مقصد یورپی طاقتوں کو لاطینی امریکا میں مداخلت سے روکنا یا ان کا اثر ورسوخ ختم کرنا تھا۔
جیمز مونرو نے یہ ڈاکٹرائن 2 دسمبر 1823 کو کانگریس کے ساتویں سالانہ اسٹیٹ آف یونین خطاب میں پیش کیا تھا تاہم اس وقت ان کی پالیسی کو مونرو ڈاکٹرائن کا نام نہیں دیا گیا تھا لیکن دہائیوں بعد امریکی خارجہ پالیسی کے اس منصوبے کو مونرو ڈاکٹرائن کا نام دیا گیا۔
امریکا نے اس وقت یورپی طاقتوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ لاطینی امریکا کے امور میں مداخلت نہ کرے اور واضح کیا تھا کہ کسی بھی سرگرمی کو امریکا پر حملہ تصور کیا جائے گا اور جیمز مونرو نے کہا تھا کہ ویسٹرن ہمسفیئر اور یورپ کو بدستور الگ رہنا چاہیے اور ایک دوسرے پر اثر رسوخ نہیں ہونا چاہیے۔
جیمز مونرو نے کہا تھا کہ امریکا اس کے بدلے میں میں موجودی یورپی کالونیوں کو تسلیم کرے گا اور مداخلت نہیں کرے گا یا یورپی ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا تاہم شمالی اور جنوبی امریکا مستقبل میں کسی بھی یورپی طاقت کی کالونی نہیں رہے گا۔
امریکا کے مونرو ڈاکٹرائن کا مطلب یہ تھا کہ لاطینی امریکا میں کسی بھی یورپی ملک کا اثر نہیں ہوگا اور متحدہ ہائے ریاست امریکا کی بالادستی ہوگی۔
روزویلٹ کورولری کا مونروڈاکرئن میں اضافہ
امریکا کے 26 ویں صدر تھیوڈور روزویلٹ نے 1904 میں مونرو ڈاکٹرائن میں روز ویلٹ کورولری کا اضافہ کیا، جس کا مقصد لاطینی امریکا میں یورپی طاقتوں کی مداخلت روکنے کے لیے امریکا کو مداخلت کرنے کا حق حاصل ہوگا۔
یہ پالیسی خاص طور پر ویسٹرن ہیمسفئر میں واشنگٹن کے مفادات کا تحفظ اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے قرض اور عدم استحکام کے حوالے سے تھی۔
امریکی صدر روزویلٹ نے اس کے لیے جواز یہ تراشا تھا کہ چونکہ یورپی قرض فراہم کرنے والے ممالک نے کئی لاطینی امریکی ممالک کو دھمکا رہے ہیں لہٰذا امریکا کو روزویلٹ کورولری کے تحت مداخلت کا اختیار اور نمٹنے کی ذمہ داری بھی مل جائے۔
روزویلٹ کورولری کی اصطلاح وینزویلا کے 1902-1903 کے بحران کے بعد تشکیل پائی تھی جب وینزویلا نے غیرملکی قرض ادا کرنے سے انکار کیا تھا۔
ڈونرو ڈاکٹرائن
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 3 جنوری 2026 کو اعلان کیا کہ ان کی افواج نے وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں کارروائی کرکے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکا منتقل کردیا ہے اور اس کو مونرو ڈاکٹرائن سے منسوب کرتے ہوئے ڈونرو ڈاکٹرائن کا نام دیا تھا۔
گوکہ چند ہفتے قبل قومی سلامتی حکمت عملی میں پالیسی سازوں نے سے ٹرمپ کورولری کی اصطلاح پیش کی تھی لیکن وینزویلا میں کارروائی کے بعد ٹرمپ نے بڑے فخر سے اس کو ڈونرو ڈاکٹرائن کہا اور اس کو مونرو ڈاکٹرائن سے زیادہ منظم قرار دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا نے ماضی میں مونرو ڈاکٹرائن یا روزویلٹ کورولری کا منصوبہ لاطینی امریکا میں اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے یورپی طاقتوں کے خلاف بنایا تھا جبکہ اس وقت لاطینی امریکا میں یورپی ممالک کی مداخلت کا کوئی اشارہ نہیں ملتا ہے۔
ٹرمپ کے ڈونرو ڈاکٹرائن کو لاطینی امریکا خاص طور پر وینزویلا میں کارروائی کے حوالے سے تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ یہ دنیا میں معاشی اور بالادستی کی نئی جنگ ہے جو گزشتہ چند برسوں کے دوران عروج پکڑ رہی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ کے ڈونرو ڈاکٹرائن کی بنیادی وجہ چین اور روس کے وینزویلا میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کا باعث قرار دیا جارہا ہے کیونکہ وینزویلا جہاں تیل کی دولت سے مالامال ہے وہی چین کا بڑا شراکت دار ہے۔
گوکہ ٹرمپ یا امریکی پالیسی سازوں نے ماضی کی طرح لاطینی امریکا میں کسی دوسرے خطے کی قوت کی مداخلت روکنے کا جواز پیش نہیں کیا ہے لیکن نیکولس مادورو کو ہٹانے اور امریکا میں ٹرائل کو چین اور روس کا اثررسوخ روکنے کی حکمت عملی تصور کی جا رہی ہے۔
چین نے امریکی کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
چینی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے، امریکا مادورو اور ان کی اہلیہ کی ذاتی سلامتی یقینی بنائے اور انہیں فوراً رہا کرے۔