پی ایس ایل، 200 کروڑ تک کا سفر
کئی برس پرانی بات ہے،میرے ایک سابق باس ایک دن دفتر آئے تو دلچسپ واقعہ سنایا جسے اب بھی یاد کرتا ہوں تو ہنسی آ جاتی ہے،وہ ایک دن آفس آ رہے تھے تو جس بس پر سوار تھے اسے ٹریفک پولیس نے روک لیا،انھیں دیر ہو رہی تھی اس لیے اتر کر معاملہ حل کرانے کا سوچا،پھر ایک اعلیٰ افسر کو کال کی جنھوں نے ٹریفک اہلکار کو کہہ دیا کہ بس کو جانے دو۔
ابھی وہ اس سے بات ہی کر رہے تھے کہ بس روانہ ہو گئی، پھرانھیں رکشے پر بیٹھ کر دفتر آنا پڑا ،چلتی بس پر سوار نہ ہونا یہ بات اکثر بڑے ہمیں بھی سمجھاتے تھے لیکن کبھی کبھی بڑوں سے بھی غلطی ہو جاتی ہے۔
جیسے نجم سیٹھی نے گزشتہ دنوں ایک سابق کرکٹر کے معاملے میں ٹویٹ کر دی ،شاید انھیں مکمل تفصیلات کا علم بھی نہ تھا ،بعد میں ان کرکٹر کا مسئلہ تو حل ہو گیا لیکن سیٹھی صاحب کے خوامخواہ اس معاملے میں شامل ہونے سے موجودہ بورڈ کے ساتھ تعلقات خراب ہو گئے۔
خیر اس کی مزید تفصیلات میں جانے کا فائدہ نہیں ،کہنے کا مقصد یہ ہے کہ آج اگر پی ایس ایل قائم ہے تو اس کا بڑا کریڈٹ نجم سیٹھی کو ہی جاتا ہے،انھوں نے اس کے آغاز کیلیے بہت کام کیا۔
ایک دہائی قبل جب ٹیمیں فروخت کرنے کا معاملہ آیا تو اس وقت عاطف رانا،سمین رانا،جاوید آفریدی،ندیم عمر،سلمان اقبال اور علی نقوی جیسے لوگ آگے آئے۔
اس وقت کسی کو علم نہ تھا کہ لیگ چلے گی یا نہیں،ٹی وی رائٹس سے کتنی رقم ملے گی،کون کھیلنے آئے گا وغیرہ وغیرہ ،البتہ اس کے باوجود رسک لیا،اس کے لیے سیٹھی صاحب کو بڑے پاپڑ بیلنا پڑے ،کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو کوئی خریدنے کیلیے تیار نہ تھا۔
سچ بتاؤں تو اس وقت میں نے بھی کسی سے یہی کہا تھا کہ شاید کمرشل طور پر یہ فیصلہ مفید ثابت نہ ہو لیکن میں غلط تھا ، یہ تسلیم کرتے ہوئے مجھے افسوس نہیں فخر محسوس ہو رہا ہے کیونکہ ہمارے ملک کا ایک پروجیکٹ بڑی کامیابی سے ہمکنار ہوا۔
چند کروڑ سے شروع ہونے والی ٹیموں کی مالیت اب اربوں تک پہنچ چکی ہے،پی ایس ایل کی وجہ سے ابو سے جیب خرچ لینے والے لڑکے بھی آج کروڑوں میں کھیل رہے ہیں ، لائف اسٹائل تبدیل ہو گیا،وہ خود کو کسی سپر اسٹار سے کم نہیں سمجھتے۔
پی سی بی کے مارکیٹنگ و دیگر شعبوں کے کئی لڑکے اپنے ذاتی فارم ہاؤس بھی بنوا کر کہیں اور نکل پڑے ،لوگوں نے دبئی میں لیگ ہونے سے خوب کمائی کی، اسٹیک ہولڈرز نے بھی بہت پیسہ بنایا ،اب بھی لوگ پی ایس ایل کے نام پر ٹورز کر رہے ہیں۔
10 سال مکمل ہونے کے بعد اب لیگ میں 2 نئی ٹیمیں شامل ہونے جا رہی ہیں ،کہاں نجم سیٹھی کو 5 افراد نہیں مل رہے تھے جو لیگ پر پیسہ لگاتے اب 10 لوگ اربوں روپے دینے کیلیے تیار ہیں۔
اچھی بات یہ ہوئی کہ اس وقت پی سی بی کی سربراہی محسن نقوی جیسے دبنگ شخص کے ہاتھ میں ہے جو کرکٹ کی بہتری کیلیے متواتر انتھک کوشش کر رہے ہیں،جس طرح ہمارے فوج نے بھارت کو جنگی میدان میں شکست دی،اسی طرح نقوی صاحب نے کرکٹ میں بھارتی غرور توڑا۔
اب وہ پی ایس ایل کو مزید اونچائی پر لے جانے کیلیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں، اسی وجہ سے ٹیم خریدنے کیلیے نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک سے بھی پارٹیز میدان میں ہیں۔
علی ترین نے اپنی انا کے چکر میں ملتان سلطانز گنوا دی ،ایک دن آئے گا جب انھیں اپنے فیصلے پر پچھتاوا ہو گا یا شاید دل ہی دل میں اب بھی افسوس کر بھی رہے ہوں گے،نئی ٹیم کی بڈنگ میں وہ شامل ہیں۔
مگر لاجک دیکھیں تو اس کے مطابق شاید زیادہ بڑی بڈ نہ دے سکیں،دیگر اونرز گوکہ ایولیویشن اور فیس میں اضافے سے مطمئن نہیں لیکن انھوں نے خاموشی سے نئے معاہدے پر دستخط کر دیے ، کوئی انٹرویو دیا نہ متنازع ٹویٹ کی، ان کی بورڈ کو قدر کرنی چاہیے،روڈ شوز میں بھی مدعو کرنا چاہیے تھا لیکن چلیں وہ اب ہو چکے تو نیلامی میں بلائیں۔
ان اونرز نے کئی برس تک پی ایس ایل میں نقصان اٹھایا تب جا کر کچھ کمانے کے قابل ہوئے،انھیں عزت دیں ،اچھے وقت میں تو سب آ جاتے ہیں برے وقت میں جو ساتھ کھڑا ہو اسے فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
نجم سیٹھی کو بھی مدعو کریں ، کئی برس بعد میں دیکھ رہا ہوں کہ پی ایس ایل کی ہائپ بن چکی ہے،اس کا کریڈٹ محسن نقوی کو جاتا ہے جو لیگ کو نئی بلندیوں پر لے جا سکتے ہیں،انھوں نے پی ایس ایل کے معاملات الگ تو کر دیے مگر سلمان نصیر اپنی ٹیم نہیں بنا پا رہے ہیں۔
اگر عثمان واہلہ ’’شیک ہینڈ‘‘ تنازع میں نہ الجھتے تو وہ لیگ میں نہیں آ سکتے تھے اور اب بھی انٹرنیشنل کرکٹ کے معاملات دیکھ رہے ہوتے،کمرشل معاملات بھی تو دیکھنا ہیں،آگے میڈیا رائٹس اور اسپانسر شپ کے معاہدے ہونا ہیں۔
اب تو 2نئی ٹیمیں آ رہی ہیں ان کو بھی حصہ دینا ہوگا اس لیے کمرشل ویلیو میں بڑا اضافہ ضروری ہے،ساتھ نئے اونرز کا انتخاب اچھی طرح دیکھ بھال کر کرنا ہوگا، لیگ کی ساکھ کا ہر لحاظ سے تحفظ ضروری ہے۔
ایسا اچھے لوگوں کے ہاتھوں میں ٹیمیں تھمانے سے ہی ممکن ہو سکے گا،2بار فیس کی وجہ سے ملتان سلطانز کے اونرز الگ ہوئے ہیں،جو بھی آئے اس کو دیکھ لیجیے گا کہ کہیں وہ شوق میں تو نہیں آ رہا اور ایک برس بعد شکایات کرنے تو نہیں بیٹھ جائے گا۔
پی ایس ایل کو مزید بڑا بنانا،نئے ملکی وینیوز کو شامل کرنا ،بڑے اسپانسرز لانا،اسٹار کرکٹرز کی شمولیت یقینی بنانا،کمرشل ویلیو بڑھانا یہ سب کرنا اب آفیشلز کی ہی ذمہ داری ہے، ہر کام محسن نقوی پر نہ چھوڑیں دیگر بھی محنت کریں، یہ عزم کریں کہ اگلے 10برس میں ہمیں پی ایس ایل کو اور آگے لے کر جانا ہے،
ابھی ابتدائی بولی کی رقم سامنے نہیں آئی لیکن کیا ہی اچھا ہو اگر نیلامی کے دن ہوسٹ کہے 200 کروڑ ایک،200 کروڑ 2 ،200 کروڑ تین اور ٹیم آپ کی ہوئی،دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے لیکن آثار بہتری کے ہی نظر آ رہے ہیں۔
(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)