غیروں کی بیساکھیاں اور رسوائی کا سفر

مسلم ممالک کے درمیان اتحاد کا فقدان دراصل ان کی اپنی بقا کےلیے سب سے بڑا خطرہ ہے

مسلم امہ اس وقت مفادات کے چکر میں پھنس کر اپنی حقیقی طاقت کھو رہی ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

ٹرمپ انتظامیہ کے حالیہ یک طرفہ فوجی اقدامات اور مشرقِ وسطیٰ سے متعلق دو ٹوک فیصلوں نے ایک بار پھر عالمی بساط پر یہ واضح کردیا ہے کہ طاقتور کا تھپڑ ہی اس کا قانون ہے۔ لیکن المیہ یہ نہیں کہ واشنگٹن میں بیٹھا کوئی شخص اپنے ملک کے مفاد کے لیے فیصلے کر رہا ہے، بلکہ اصل نوحہ ان مسلم ریاستوں کا ہے جو غیرتِ ایمانی اور خودداری کے تمام تقاضے بالائے طاق رکھ کر محض ’’تلوے چاٹنے‘‘ کی پالیسی پر گامزن ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اسرائیل یا امریکا کی جانب سے کوئی جارحانہ قدم اٹھایا گیا، مسلم دنیا کے حکمرانوں کی جانب سے صرف چند رسمی مذمتی بیانات اور ’’تشویش‘‘ کے اظہار پر اکتفا کیا گیا۔ وہ ممالک جو تیل کی دولت اور تزویراتی مقامات پر قابض ہیں، آج اپنے ہی بھائیوں کے خون پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

مسلم ممالک کے درمیان اتحاد کا فقدان دراصل ان کی اپنی بقا کےلیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ جب تک مسلم ممالک ایک دوسرے کی جڑیں کاٹنے اور غیروں کے اشاروں پر ناچنے میں مصروف رہیں گے، تب تک ٹرمپ جیسے لیڈروں کو ’’یک طرفہ اقدامات‘‘ کرنے کےلیے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

موجودہ صورتحال میں مسلم دنیا کی پالیسی صرف ایک نکتے پر مرکوز نظر آتی ہے: ’’کسی طرح طاقتور کو خوش رکھا جائے‘‘۔ اسی تناظر میں دیکھیں تو مسلم دنیا نے اپنے وسائل (تیل، گیس، معدنیات) غیروں کے حوالے کردیے۔ اپنا دفاعی نظام مغرب سے خریدی گئی بیساکھیوں پر کھڑا کردیا گیا۔ اپنے ضمیر کو آئی ایم ایف ورلڈ بینک اور این جی اور کے ڈالرز کی چمک کے بدلے گروی رکھ دیا گیا۔

یہ بے جا خوشامد اور چاپلوسی کی وہ انتہا ہے جہاں قومی حمیت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔ جو قومیں اپنے دفاع کے لیے دوسروں کی محتاج ہوں، وہ کبھی آزاد فیصلے نہیں کر سکتیں۔

مسلمان ممالک کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مغرب کی دوستی صرف مفادات کی حد تک ہے۔ جس دن آپ کا استعمال ختم ہو جائے گا، آپ کا حشر بھی صدام حسین یا قذافی سے مختلف نہیں ہوگا۔ اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ مسلم ممالک ایک مشترکہ معاشی منڈی بنائیں اور اپنی کرنسی کو مضبوط کریں۔ جب تک ہم اسلحہ کےلیے امریکا یا روس کی طرف دیکھیں گے، ہماری خارجہ پالیسی ان کے دفاتر میں مرتب ہوتی رہے گی۔ اس لیے اپنے دفاعی سازو سامان میں خود کفیل ہوں۔

اللہ نے مسلم دنیا کو توانائی کے بے پناہ ذخائر سے نوازا ہے، اگر اسے ’’ہتھیار‘‘ کے طور پر استعمال کیا جائے تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔ تمام مسلم ممالک (سنی اور شیعہ بلاک سے بالاتر ہو کر) ایک ایسا پلیٹ فارم بنائیں جہاں فیصلے تہران، ریاض یا انقرہ میں ہوں، نہ کہ واشنگٹن یا تل ابیب میں۔

اگر امریکا وینزویلا جیسے پڑوسی ملک کے صدر کو اغوا کرسکتا ہے اور اس کے وسائل پر قبضہ کرسکتا ہے، تو وہ عرب یا عجم کے ان مسلم حکمرانوں کو کیسے بخشے گا جو صرف امریکا کی خوشامد پر اکتفا کر رہے ہیں؟

ان سارے واقعات سے ایک یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ وسائل ہی دشمنی کی وجہ ہیں جس ملک کے پاس تیل یا تزویراتی مقام ہے، وہ امریکا کے ریڈار پر ہے۔ وہ مسلم ممالک جو اپنی حفاظت کےلیے امریکی فوجوں کو بلاتے ہیں دراصل اپنے ہی ملک کے خلاف معاہدے پر دستخط کر تے ہیں۔ جب تک مسلم دنیا اپنے وسائل (تیل، گیس، معدنیات) کو ایک مشترکہ بلاک کے ذریعے محفوظ نہیں کرتی، وہ ایک ایک کرکے اسی طرح ’’پامال‘‘ ہوتے رہیں گے۔

مسلمان ممالک کےلیے یہ بیداری کا آخری لمحہ ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیاں اور حالیہ فوجی اقدامات اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ عالمی سیاست میں اخلاقیات یا دوستی کی کوئی جگہ نہیں، یہاں صرف طاقت اور مفاد کی زبان بولی جاتی ہے۔ ٹرمپ کے اقدامات دراصل ایک ’’ویک اپ کال‘‘ ہیں۔ اگر اب بھی ہم نے اپنی بے حسی کی چادر نہ اتاری اور غلامی کے طوق کو گلے کا ہار بنائے رکھا، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ یاد رکھیے، مدد آسمان سے تبھی اترتی ہے جب زمین والے خود اپنی حالت بدلنے کا ارادہ کرتے ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story