ایک زمانہ تھا جب خط صرف کاغذ پر سیاہی نہیں ہوتا تھا وہ پورا ایک جذبہ ہوتا تھا۔ آج کی جدت نے نہ صرف خط لکھنا ختم کردیا بلکہ انتظار، بے قراری اور خوش خطی کو بھی ریٹائر کردیا۔
اب سوال یہ نہیں کہ خط کیوں نہیں لکھے جاتے بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم نے خط لکھنا کیوں چھوڑ دیا؟ علامہ اقبال اپنی والدہ محترمہ کی رحلت پر لکھے نوحہ میں کہتے ہیں کہ ’’کون میرا خط نہ آنے سے ہوگا بے قرار‘‘۔ اس سے یہ ثابت ہے کہ اقبال کے خطوط بھی موجود ہیں۔
یقین کامل ہے کہ پہلے خط سنبھالے جاتے تھے۔ صندوقوں میں، کتابوں کے اندر، تکیے کے غلاف میں یا الماری کے خفیہ خانے میں۔ خط پھینکے نہیں جاتے تھے, نبھائے جاتے تھے۔ بعض خط تو اتنے پرانے ہوجاتے کہ کاغذ زرد اور سیاہی مدھم ہو جاتی مگر جذبات تازہ رہتے۔ جدت نے یہ کر دکھایا کہ آج کے موبائل پیغامات ’’Seen‘‘ کے بعد کہاں جاتے ہیں، خود موبائل کو بھی معلوم نہیں۔
کہا جاتا تھا کہ لکھنے سے لکھائی بہتر ہوتی ہے۔ خط لکھنے کا مطلب تھا بیٹھ کر لکھنا، سوچ کر لکھنا، جملے کاٹنا، لفظ بدلنا اور آخر میں یہ سوچنا کہ کہیں برا تو نہیں لگے گا؟ الفاظ کا چناؤ، جملوں کی ترتیب اور تحریر کی خوبصورتی یہ سب کچھ ہم نے سیکھا تھا خط کے ذریعے۔ آج کل لکھائی بہتر ہونے کی واحد نشانی یہ ہے کہ آٹو کریکٹ نے کتنی غلطیاں پکڑ لیں۔
پہلے ڈاک آتی تھی۔ آہستہ، سست، مگر باوقار انداز سے، ڈاکیہ محلے کا اہم فرد ہوتا تھا جیسے خبریں اسی کے پاس ہوتی ہوں۔ اب ڈاک نہیں آتی کوریئر آتا ہے۔ تیز تر، بے حس اور جذبات سے مکمل طور پر ناواقف۔ کوریئر والے نے کبھی کسی سے یہ نہیں کہا ’’بیٹا‘‘ آج تمہارا خط آیا ہے ذرا دھیان سے پڑھنا۔ ماں جی چائے بناؤ بیٹے نے منی آرڈر بھیجا ہے، ارے حاجی صاحب منہ میٹھا کرائیے سعودی عرب سے چٹھی آئی ہے۔
ہائے کیا دور تھا، کس قدر انتظار رہتا تھا سندیسوں کا، منی آرڈرز کا، خیریت مطلوب کا۔ جوں جوں جدت آتی گئی، سہولت بڑھی، لکھنا کم ہوتا گیا۔ پوچھنا بھی کم ہوتا گیا اور قربت ایسی کہ ایک دوسرے سے ملنا بھی دوریوں پر چلا گیا۔
پہلے خط لکھنے کے لیے وقت نکالنا پڑتا تھا، اب پیغام بھیجنے کےلیے صرف ’’انگلی‘‘ کافی ہے۔ اس دور میں یہ انگلی بھی کافی شہرت پاگئی ہے۔ تحریر مختصر ہوتی گئی، جذبات ایموجی میں بدل گئے، اور باتیں وائس نوٹ کی نذر ہوگئیں۔ اب تو کسی فوتگی کی خبر پر بھی انگوٹھے کا نشان لگانا یہ بتاتا ہے کہ ’’مجھے پتہ‘‘ ہے۔ زمانہ طالبعلمی میں ہم نے راجہ انور کے خطوط پر مبنی کتاب ’’جھوٹے روپ کے درشن‘‘ بار بار پڑھی، احمد ندیم قاسمی کے خطوط پر مشتمل کتاب بھی نظروں سے گزری۔ غالب اور غمگین کے خطوط سب سے بڑھ کر حضرت ابوبکر صدیق کے سرکاری خطوط بھی محفوظ ہیں۔ مرزا اسداللہ خاں غالب کی کتاب ’’عود ہندی‘‘ اور مولانا ابوالکلام آزاد کی ’’غبار خاطر‘‘، پنڈت جواہرلعل نہرو کی ’’فادرز لیٹر ٹو ڈاٹر‘‘ چیسٹر فیلڈ نے ’’لیٹر ٹو سن‘‘ اور لیڈی میری ورٹلی ماؤنٹیگ نے اپنی کتاب جو خطوط پر مشتمل ہے، میں ذہین، خوددار مہذبانہ ترقی یافتہ خواتین کی زندگی کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔
خطوط نویسی کے ساتھ ساتھ جو اہم کام معدوم ہوا وہ روزنامچہ یا ڈائری لکھنا تھا۔ بے شمار واقعات قلمبند ہوتے اور ریفرنس کے طور پر استعمال کیے جاتے، مگر اب یہ بھی شاذونادر ہی ہوتا ہو، کیوں کہ اب ہاتھ میں کاپی قلم نہیں موبائل ہیں۔ نہ محبوب رہے نہ خط، اور یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ جب خط ختم ہوئے تو محبوب بھی بدل گئے۔ پہلے محبوب ایک ہوتا تھا، خط کئی ہوتے تھے۔ اب محبوب کئی ہوتے ہیں مگر بات سب سے ایک جیسی ’’کیا حال ہے‘‘، ’’بس ٹھیک ہوں‘‘۔ خط محبوب کو خاص بنا دیتے تھے۔ ہر خط منفرد، ہر جملہ ذاتی، آج کے پیغامات کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ فارورڈ بھی ہوسکتے ہیں اور راز جلد ہی فاش ہوجاتا ہے۔ آج ہم ہر وقت جڑے ہوئے ہیں۔ ایک کلک پر آواز، تصویر، ویڈیو سب کچھ موجود ہے۔
قربت ہے، سہولت ہے، مگر وہ بے قراری نہیں جو خط کے انتظار میں ہوتی تھی۔ وہ لمحہ جب ڈاکیے کی سائیکل کی گھنٹی بجتی تھی اور دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی تھی۔ وہ کیفیت کہ لفافہ کھولنے سے پہلے ہی مسکراہٹ آجاتی تھی۔ آج پیغام آتا ہے تو نوٹیفکیشن بھی خاموش موڈ میں چلا جاتا ہے۔ یہ کہنا آسان ہے کہ زمانہ بدل گیا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم سب کچھ بدلنے پر مجبور ہیں؟ اب تو محبت کے بھی معنی بدل گئے ہیں، آئے روز کی لیک وڈیوز نے اس لفظ کی حرمت ہی پامال کردی ہے۔ عشق صرف پرانے قصوں میں رہ گیا ہے۔
خط نہ سہی مگر کبھی کوئی طویل تحریر تو لکھی جاسکتی ہے۔ کبھی کسی کو وقت دے کر، سوچ کر، پورے جملوں میں بات تو کی جاسکتی ہے۔ میرا کہنا یہی ہے کہ ہم سہولت کے غلام نہ بنیں، جدت کو استعمال کریں، مگر جذبات کو رد نہ کریں۔ خط شاید واپس نہ آئیں، مگر خط کا مزاج واپس آسکتا ہے۔ ٹھہراؤ، خلوص، انتظار اور سچائی اگر ہم نے یہ نہ سیکھا تو ممکن ہے آنے والی نسلیں پوچھیں ’’جدت نے خط لکھنا ختم کیا تھا یا انسان نے احساس‘‘؟ اور اس سوال کا جواب شاید کسی اسکرین پر نہ ملے، شاید کسی پرانے صندوق میں، کسی زرد کاغذ کے خط میں چھپا ہو۔ میں آج بھی ایک خط روز لکھتا ہوں مگر پوسٹ نہیں کرپاتا وجہ یہی ہے کہ جس کےلیے لکھتا ہوں اس تک ڈاک نہیں جاتی۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔