ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحانہ پالیسی دنیا کیلئے خطرہ، بین الاقوامی قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا!!

ماہرین امور خارجہ کا ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں اظہار خیال

عکاسی: وسیم نیاز

 امریکا نے حال ہی میں وینزویلا پر حملہ کرکے اس کے صدر اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کیا اور امریکا میں ان کے ٹرائل کا آغاز کر دیا۔ اس کے علاوہ امریکی صدر نے ایران میں جاری مظاہروں کے تناظر میں ایران کو جنگ کی دھمکی دی جبکہ گرین لینڈ بھی ان کے ریڈار پر ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحانہ پالیسی اور دنیا پر اس کے اثرات کا جائزہ لینے کیلئے ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک خصوصی مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں ماہرین امور خارجہ کو مدعو کیا گیا۔ فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

ڈاکٹر فاروق حسنات

(ماہر امور خارجہ)

وینزویلا پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حملے کے مختلف پہلو ہیں۔ پہلے اس کے اندرونی پہلو کا جائزہ لیتے ہیں۔ امریکا کے آئین میں واضح طور پر درج ہے کہ جنگ کے اختیارات سینیٹ کے پاس ہیں، اگر سینیٹ اجازت دے تو صدر اس پر عملدرآمد کرتا ہے۔

اس کی ایک مثال موجود ہے کہ جب ریچرڈ نکسن کا مواخذہ کیا تو اس وقت ایک الزام تو وارٹر گیٹ کا تھا کہ اس نے ڈیموکریٹک پارٹی کی خفیہ ریکارڈنگ کی تھی لیکن ایک بات یہ بھی تھی کہ اس نے کمبوڈیا پر سینیٹ کی اجازت کے بغیر بمباری کی حالانکہ کمبوڈیا اس زمانے میں ویتنام کے معاملے میں نیوٹرل ملک تھا۔ چونکہ امریکا میں طاقت کا توازن ہے، چیک اینڈ بیلنس ہے لہٰذا صدر کے اختیارات کو کم کیا گیا ہے، جنگ کاا ختیار اس کے پاس نہیں ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس اور سینیٹ سے بالکل نہیں پوچھا اور جنگ جیسا قدم اٹھایا ہے لہٰذا اب امریکا میں یہ آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ ٹرمپ کا مواخذہ کیا جائے۔

عمومی طور پر صدر یہ کہہ دیتے ہیں کہ بڑا خطرہ تھا جس پر فوری ایکشن لینا ضروری تھا لیکن یہاں تو ایسا کوئی معاملہ نہیں ہے، یہ تو بہت سوچا سمجھا حملہ تھا جس میں انہوں نے صدر اور ان کی اہلیہ کو اغواء بھی کر لیا۔ امریکا کے تقریباََ ہر شہر میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور نعرے لگا رہے ہیں کہ ہمیں بادشاہ نہیں چاہیے، صدر کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کا یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی بھی ہے۔

اقوام متحدہ کا چارٹر کسی ملک کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ دوسرے ملک کی میںاس طرح کا حملہ کرے جس سے اس کی سالمیت اور خود مختاری ختم ہو۔ ہر ملک اپنی سرحدوں کے اندر اپنے معاملات دیکھتا ہے اور باہر سے کوئی اس پر نہ حملہ کر سکتا ہے اور نہ مداخلت۔ اگر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوتی رہی تو دنیا میں افراتفری پھیل جائے گی، جس کو موقع ملے گا وہ دوسرے پر چڑھ دوڑے گا۔چین آج بھی تائیوان کو اپنا حصہ مانتا ہے جوامریکا کی سپورٹ سے الگ ملک بن گیاتھا، تو کیا چین حملہ کرکے اسے ضم کرلے؟اسی طرح کیا روس، یوکرین پر حملہ کرکے وہاں قبضہ کرلے؟ اگر یہ ہوا تو امریکا اور دنیا کس منہ سے اس کی مخالفت کریں گے؟ یہ ٹرینڈ دنیا کیلئے بڑا خطرناک ہو گا ۔

یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکا دوسرے ممالک کے ساتھ بھی ایسا کرے گا؟امریکا دوسرے ممالک پر قبضہ کرتا ہے، ویتنام، عراق اور افغانستان کی مثالیں موجود ہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ کیا کسی دوسرے ملک میں جاکر حالات ٹھیک کر سکتے ہیں؟ وہاں گوریلا وار شروع ہوجاتی ہے، لوگ کسی دوسرے کا قبضہ قبول نہیں کرتے۔ کیا امریکا میں اتنی معاشی قوت ہے کہ وہ مقابلہ کرسکے؟ تینوں ممالک میں امریکا کو مالی اور جانی نقصان ہوا، ثابت ہوا کہ امریکا میں یہ طاقت نہیں ہے۔ اسی طرح روس نے افغانستان پر قبضے کی کوشش کی، اس کے معاشی ادارے وزن نہیں اٹھا سکے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔

یہ نوآبادیاتی دور کی پالیسی ہے، ٹرمپ اسے دہرا رہے ہیں۔ فرانس نے الجیریا پر قبضہ کیا تو وہاں اتنی شدت سے آزادی کی تحریک چلی کہ فرانس کا بہت نقصان ہوا اور اسے وہاں سے نکلنا پڑا۔ یہ کہنا آسان ہے کہ ہم کسی دوسرے ملک پر حملہ اور قبضہ کر لیں گے مگر اس کے اثرات پر قابو پانا مشکل ہوتا ہے۔ ایران کی بات کریں تو ایرانی ایک مضبوط قوم ہے جس کی ایک طویل تاریخ ہے۔ماضی میں ان کی فوجیں یونان تک گئیں۔ جب امریکی سی آئی اے نے محمد مصدق کا تختہ الٹا تو اس پر بھی ایران میں شدید ردعمل آیا

میرے نزدیک ایرانی عوام کسی بھی طور یہ قبول نہیں کریں گے کہ غیر ملکی ان پر مسلط ہو، وہاں گوریلا وارفیئر شروع ہوجائے گی، اس میں افغانستان اور عراق بھی شامل ہو جائیں گے اور پاکستان سے بھی ایک طبقہ ایران کی مدد کرے گا، اس طرح امریکا کیلئے مشکل صورتحال پیدا ہو جائے گی اور اسے وہاں سے نکلنا پڑے گا۔ایران کے ساتھ پاکستان کے بہت پرانے تعلقات ہیں۔ ثقافتی اور تاریخی طور پر پاکستان ایران سے جڑا ہے۔ شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؒ کی زیادہ شاعری فارسی زبان میں ہے۔ ہماری قومی زبان اردو میں بھی فارسی شامل ہے۔ ہمارے ہاں بھی بلوچستان ہے اور ایران میں بھی۔ اگر ایران میں عدم استحکام ہوا تو ہمیں بھی نقصان ہوسکتا ہے۔ پاکستان کو اس سب میں بہت احتیاط سے کام لینا ہوگا۔ جب بھی کوئی ملک دوسرے پر قبضہ کرتا ہے تو مختلف طرح کے طبقات بن جاتے ہیں۔ کوئی خوش آمد کرتا ہے تو کوئی مخالفت، کچھ لوگ آرام سے بیٹھ جاتے ہیںا ور کچھ مذاحمت کرتے ہیں۔

اس وقت میڈیا میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک بڑی طاقت کے طور پر بتایا جا رہا ہے حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ یہ اٹھارہویں صدی نہیں ہے جب یورپینز کالونیاں بنا لیتے تھے۔ یہ سوشل میڈیا کا دور ہے،ا س میں ہر انسان صحافی ہے اور سوشل میڈیا پر انفارمیشن شیئر کرتا ہے۔ اسرائیل کو دیکھ لیں، وہ غزہ پر قبضہ نہیں کرسکا، حماس سے نہیں نمٹ سکا۔ اسرائیل نے پھر ٹرمپ سے کہا اور اس کے لیے اب ایک بین الاقوامی فورس تیار کی جا رہی ہے۔ دنیا بین الاقوامی قوانین کی وجہ سے چل رہی ہے، اگر قانون ختم ہوا تو جنگل کا قانون ہوگا اور کوئی بھی ملک چاہے چھوٹا ہو یا بڑا، اس سے بچ نہیں سکے گا۔

اگر امریکا نے اپنے جنگی عزائم کو وسعت دی تو اسے نقصان اٹھانا پڑے گا اور افراتفری کے ماحول میں چین ابھرے گا۔ افغانستان میں امریکا نے بیس سال جنگ لڑی ۔ افغانیوں کے پاس جدید ہتھیار بھی نہیں تھے مگر امریکا کو وہاں سے بھاگنا پڑا۔ اسی طرح عراق میں چار ہزار امریکی فوجی مارے گئے، اسے کھربوں ڈالر کا نقصان ہوا اور عراق نے امریکا کو تیل کی ایک بوند بھی نکالنے نہیں دی۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے سسٹم کو بھی نقصان پہنچا ہے ہیں۔ امریکیوں کو خود ڈونلڈ ٹرمپ کو روکنا ہوگا ورنہ امریکا کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔

ڈاکٹر زمرد اعوان

(اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ سیاسیات ایف سی کالج یونیورسٹی)

 امریکا کی طرف سے وینزویلا پر حملہ دراصل ٹرمپ آرڈر کے تحت کیا گیا ہے جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، اسے امریکا کے سیاسی نظام، کانگریس اور سینیٹ نے سپورٹ نہیں کیا۔ امریکا کے اس اقدام سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا پول کھل گیا ہے، اس نے کسی دوسرے ملک کی سالمیت پر حملہ کرتے ہوئے اس کے صدر اور اہلیہ کو اغوا کیا اور اپنے ملک میں لا کر اپنے طریقے سے ٹرائل کیا، اس سے جمہوریت کی دھجیاں بکھر گئیں۔ وینزویلا پر حملہ کرنے کے پیچھے سب سے بڑا مقصد معاشی ہے یعنی امریکا وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔ بین الاقوامی تعلقات میں ’ریسورس ٹریپ‘ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاستوں کے پاس موجود قدرتی وسائل جن میں ہیرے، تیل، گیس و دیگر شامل ہیں، ان کے لیے آزمائش بن جاتے ہیں اور دنیا کے طاقتور ممالک یہ وسائل حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ قدرتی وسائل کے حامل ممالک میں اگر حکومتیں کمزور ہوں تو عالمی طاقتیں وہاں پر حکومتیں ختم کروانے میں بھی کردار ادا کرتی ہیں۔ وینز ویلا کے صدر مادورو نے امریکا کو وسائل کے حوالے سے انکار کیا تو امریکا نے تمام اقدام، حقوق اور قوانین کی دھجیاں اڑا کر وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو اغوا کیا۔

وینزویلا اکیلا نہیں ہے جو ایسی صو رتحال سے گزر رہا ہے، ایسی بہت ساری مثالیں موجود ہیں جہاں عالمی طاقتوں نے حکومتیں تبدیل کروا دیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا طرز سیاست شروع سے ہی غیر متوازن، جارحانہ اور جنگ پسندانہ نظر آتا ہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک طرف تو وہ عسکری مداخلت ، اغواء اور طاقت کا استعمال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں تودوسری طرف وہ نوبل امن انعام حاصل کرنے کے خواہشمند بھی ہیں، یہ بہت بڑا تضاد ہے۔ جب وہ پچھلی مرتبہ حکومت میں آئے تھے تو انہوں نے ایران کے ساتھ وہ ڈیل ختم کر دی جو بہت مشکل سے کی گئی تھی۔

اب انہوں نے اغوا کاری شروع کر دی ہے۔ ٹرمپ غیر مقبول ہو رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں میں پچاس امریکی ریاستوں میں ’نو کنگز ڈے‘ کے نام سے ٹرمپ کے خلاف 2600 سے زائد مظاہرے ہوچکے ہیں۔ آغاز تو ان کا امریکا کی امیگریشن فورس کی طرف سے ایک خاتون کو قتل کرنے سے ہوا تھا مگر اس کے پیچھے تاریخ یہ بھی ہے کہ پہلے عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا کر وینزویلا کے صدر ااور ان کی اہلیہ کو اغوا کیا گیا اور پھر میناپولیس میں خاتون کو قتل کر دیا گیا۔ لوگوں کا ردعمل سامنے آرہا ہے کہ ہم ایسے شخص کو نہیں مانتے جو بادشاہ کی طرح ہو۔ ٹرمپ خود کہتے ہیں کہ مجھے کوئی روک نہیں سکتا۔ حالیہ گیلپ سروے میں عوام نے ٹرمپ کے اندرونی اور بیرونی معاملات کے حوالے سے ویژن پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

ہم نے آج تک کسی بڑی سپر پاورکے صدر کو کسی ایک کمیونٹی کو اس طرح ٹارگٹ کرتے نہیں دیکھا جس طرح انہوں نے صومالیہ کے مسلمانوں کو ٹارگٹ کیا۔ کسی بھی سیاستدان کے الفاظ اس کی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس صورتحال میں پاکستان سمیت دنیا بھر کی ریاستوں کو وینزویلا میں ہونے والے امریکی اقدام کی مخالفت کرنی چاہیے کیونکہ اگر اس ایکشن کو سپورٹ کیا گیا تو یہ راستہ کھل جائے گا کہ کوئی بھی طاقت تمام بین الاقوامی قوانین اور اقدار کو پس پشت ڈال کر کسی بھی ملک پر حملہ کرکے اس کے وسائل پر قبضہ کرلے۔اگر آج ٹرمپ کے اقدامات کے خلاف واضح موقف نہ اپنایا گیا تو اس کے اثرات دیگر کمزور ریاستوں کی طرف پہنچ سکتے ہیں۔ سپرپاورز قرضوں سے کمزور ریاستوں کو مینج کرتی ہیں، وہ خود جاکر کارروائی نہیں کرتیں لیکن اب جو ہو رہا ہے اس سے دنیا واپس نوآبادیاتی نظام کی طرف بڑھتی ہوئی نظر آرہی ہے۔

یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس میں ریاستوں کو اپنا لائن آف ایکشن بنانا چاہیے۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ جغرافیائی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ممالک کو اپنا سکیورٹی سسٹم بنانا چاہیے جس طرح ایران، افغانستان و دیگر ممالک ہیں، انہیں آپس میں تعلقات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ چھوٹے ریجنل الائنسز بنانے ضرورت ہے جو صرف میٹنگ تک محدود نہ ہوں بلکہ عملی طور پر فعال ہوں اور ایک مضبوط سکیورٹی نیٹ ورک بنانے کی قابلیت بھی رکھتے ہوں۔

ڈاکٹر توقیر حسین سرگانہ

(اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ سیاسیات و بین الاقوامی امور، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد)

وینزویلا کے حوالے سے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس کی بنیادی وجہ تیل ہے،کچھ اسے وینزویلا کی ناقص حکمرانی کا نتیجہ سمجھتے ہیں اور بعض اسے محض جیوپولیٹکس کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ موجودہ حالات کے اصل محرکات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس بحران کا جائزہ بین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں لیا جائے۔

بین الاقوامی تعلقات بنیادی طور پر ریاستوں کے باہمی تعلقات، اقدامات اور ردِعمل کا مطالعہ کرنے کا ایک مربوط علمی نظام ہے جو کہ ریاستوں کو ان کی صلاحیتوں اور اثر و رسوخ کی بنیاد پر مختلف زمروں میں تقسیم کرتا ہے۔ زیادہ تر چھوٹی ریاستیں ہیں، چند ایک درمیانے درجے میں آتی ہیں جبکہ صرف وہی ریاستیں جن کے پاس مضبوط اور پائیدار معاشی، عسکری، تکنیکی اور سیاسی نظام موجود ہوں، وہ بڑی طاقتیں کہلاتی ہیں لہٰذا وینزویلا کے بحران کو سمجھنے کے لیے بنیادی سوال یہ ہے وہ کس قسم کی ریاست ہے؟ اس کا جواب تلاش کرنے کے لیے امریکا کو سمجھنا ضروری ہے جو بین الاقوامی سیاست میں سب سے طاقتور ریاست کی حیثیت سے کلیدی اور اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عالمی سطح پر امریکا کے علاوہ بھی کچھ ریاستیں مضبوط اور پائیدار معاشی، عسکری، تکنیکی اور سیاسی نظام رکھتی ہیں مگر امریکا کی ریاست ایک ایسی مستقل صلاحیت کی حامل ہے جو اپنے مفادات کو حاصل کرنے کے لیے دنیا کے کسی بھی خطے کے حالات اور ماحول کو اپنے حق میں تشکیل دینے، بدلنے اور موڑنے سے وابستہ ہے۔ یہی منفرد صلاحیت واشنگٹن کو محض ایک بڑی طاقت سے آگے بڑھا کر ایک حقیقی جیوپولیٹیکل ایکٹربنا دیتی ہے۔ اگرچہ بڑی طاقتیںنظام کے اعلیٰ درجے پر فائز ہوتی ہیں تاہم ایک تضاد یہ ہے کہ ان میں سے بہت سی ریاستیں مستقل طور پر جیوپولیٹیکل ماحول کو ازخود تبدیل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی جو انہیں مکمل جیوپولیٹیکل ایکٹر بننے سے روکتی ہے۔

مضبوط قومیں پاور پالیٹکس کے قانون کو اپناتے ہوئے، طاقت کے توازن کو اپنے حق میں جھکانے کی مسلسل جدوجہد سے ہمکنار رہتی ہیں، یہ کشمکش بین الاقوامی نظام میں اپنی حیثیت کو اہم بنانے سے لے کر بہترین بنانے کے عمل تک جاری رہتی ہے۔بین الاقوامی سیاست میں اس عمل کو پاور ٹرانزیشن سے منسوب کیا جاتا ہے۔ طاقتور قومیں یعنی جنہیں ہم بڑی طاقتیںکہتے ہیں، انہیں اپنے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے درمیانے درجے کی طاقتوںکی مسلسل ضرورت رہتی ہے۔ جوبڑ ی طاقتیں، مڈل پاورز کو اپنی طرف کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، وہ پاور ٹرانزیشن کے عمل کو تیز کرتے ہوئے ایک رائج نظام میں اپنی جگہ بناتے ہوئے مستقل طور پر نظام پر اپنی دسترس حاصل کر لیتی ہے۔اس کے برعکس چھوٹی ریاستوں کا انتظامی اور سیاسی ڈھانچہ کمزور ہوتا ہے اور وہ اپنی بقاء اور دفاع کے لیے دو طرح کی حکمت عملی ہی اپنا سکتی ہیں۔

پہلی حکمت عملی طاقتور ریاست کے تسلط کو ذائل یا پھر کم کرنے کے لیے، مدمقابل ریاستوں کے ساتھ مل کر اتحاد بنانا ہے اور دوسری حکمت عملی بینڈ ویگنگ پر مشتمل ہوتی ہے یعنی طاقتور ملک کے ساتھ ہی اتحاد کرنے کا ٹرینڈ بنانا۔ اگرچہ وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل کے ذخائر موجود ہیں لیکن توانائی کے شعبے کے موثر انتظام میں ناکامی، سیاسی تنہائی اور معاشی بدانتظامی نے اسے مڈل پاورکے بجائے واضح طور پر چھوٹی ریاست کے زمرے میں لا کھڑا کیا ہے، یہی ساختی کمزوری وینزویلا کو ایسے راستے پر لے گئی جس کے تحت اس نے امریکا کے مدمقابل چین اور روس کے ساتھ صف بندی کی۔ جب تک چین اور روس کی وینزویلا میں سٹرٹیجک پیش قدمی نے امریکا کی تاریخی جیوپولیٹیکل حد بندیوں کو چیلنج نہیں کیا تب تک امریکا نے اپنی جارحانہ پالیسی میں نسبتاً کم پروفائل اختیار کیے رکھا ۔جغرافیائی سرحدوں سے منسلک امریکی اثرورسوخ کی پالیسی 1823ء کی مونرو ڈاکٹرائن سے وابستہ ہے۔

اس پالیسی کے تحت امریکا نے ہمیشہ ویسٹرن ہیمی سفیئرمیں کسی بھی بیرونی طاقت کی مداخلت کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ وینزویلا کے صدر مادوروکی سب سے بڑی سٹرٹیجک غلطی یہی تھی کہ اس نے دو صدیوں پر محیط اس جیوپولیٹیکل سرخ لکیر کو نظرانداز کیا۔ 1962ء میں کیوبا کے صدر فیدل کاسترو نے بھی یہی غلطی کی کہ انہوں نے سوویت یونین کے ساتھ مل کر امریکی جغرافیائی سرحدوں کو غیر محفوظ کیا۔ اس واقعہ کو امریکا اور سوویت یونین کی جوہری طاقت نے محدود کیا وگرنہ فیدل کاسترو کا سوویت یونین کے ساتھ مل کر امریکی جغرافیائی سرحدوں کو غیر محفوظ کرنے کا یہ عمل تیسری جنگ عظیم کا پیش خیمہ ثابت ہوتا۔اگرچہ وینزویلا کا تیل امریکا کے لیے اہم ہے مگر یہ اس کے مجموعی سٹرٹیجک حساب کتاب کا بنیادی عنصر نہیں۔

امریکا کی اصل ترجیح اپنی جغرافیائی سرحدوں اور علاقائی اثرورسوخ کو محفوظ اور قائم رکھنا ہے۔ واشنگٹن بخوبی جانتا ہے کہ اگر چین یا روس وینزویلا کے ذریعے خطے میں کامیابی سے قدم جما لیتے ہیں تو اس سے نہ صرف ویسٹرن ہیمی سفیئربلکہ دنیا کے دیگر خطوں میں بھی ایک ڈومینو افیکٹ شروع ہو سکتا ہے جہاں اب تک امریکی اثرورسوخ نے چینی اور روسی مفادات کو محدود کر رکھا ہے۔یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ وینزویلا کا موجودہ بحران نہ صرف تیل کا معاملہ ہے اور نہ ہی محض داخلی بدانتظامی کا نتیجہ بلکہ یہ واضح پاور پالیٹکس کا مظہر ہے۔

محمد علی بیگ

(ڈپٹی ڈائریکٹر، انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز، اسلام آباد)

امریکا نے وینزویلا میں جو کیا وہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ امریکا کا 1823ء میں جو مونرو ڈاکٹرائن آیا، وہ آج بھی نظر آرہا ہے۔ یہ معاملات بہت پرانے ہیں۔ دسمبر میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جو نیشنل سیکیورٹی سٹرٹیجی آئی تھی،اس میں بھی انہوں نے یہ بات کی تھی کہ ویسٹرن ہیمی سفئیر کو ہم دیکھیں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ کینیڈا سے شروع ہو کر نیچے چلے اور پیرو تک، شمالی اور جنوبی امریکا ان کی دسترس میں ہوگا۔

بدقسمتی سے وینزویلا میں جو ہوا اس کے بہت بھیانک نتائج ہوں گے۔ کل کو اگر پیوٹن، شی جن پنگ یا دیگر طاقتور حکمران بھی اپنے مخالفین کو اٹھا کر لے جائیں تو اس سے ورلڈ آرڈر خراب ہو جائے گا۔ امریکی صدر نے ایک طرف تو فوجی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے تو دوسری طرف بین الاقوامی قوانین کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ یہ عمل پائیدار نہیں ہوگا۔ دنیا بھر میں مظاہرے شروع ہو گئے ہیں، اس سے امریکا کی طاقت اور امیج متاثر ہوگا۔ امریکا نے صدیوں میں اپنا تشخص بہتر کیا، اس کیلئے امریکا نے امدادی ادارے بنائے جن سے دنیا بھر میں امیج کو بہتر کیا۔ امریکا کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ طاقت کے بے جا استعمال سے اسے نقصان ہوسکتا ہے۔

Load Next Story