پاکستان، ایران میں حالات جلد معمول پر آنے کیلیے پرامید

عدم استحکام زیادہ عرصہ جاری رہا تو اسکے خطے پر اثرات ہونگے، سرکاری عہدیدار

اسلام آباد:

پاکستان، ایران کی صورتحال کا گہری نظر سے جائزہ لے رہا ہے اور اس حوالے سے پرامید ہے کہ وہاں صورتحال جلد معمول پر آ جائیگی۔

ایک سرکاری عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مظاہرے ایران کا اندرونی مسئلہ ہے، ہم صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں، عدم استحکام اگر زیادہ عرصہ جاری رہا تو اس کے خطے پر اثرات ہونگے پاکستان اس سے متاثر ہونیوالے اولین ممالک میں سے ایک ہوگا۔

پاکستان سمجھتا ہے کہ ایران میں عدم استحکام آنے سے سرحد پار تجارت میں رکاوٹ آئیگی، بلوچستان میں بارڈر مینجمنٹ میں مشکلات پیدا ہونگی اور مہاجرین کا دباؤ آئیگا۔

امریکہ  یا اسرائیل کی ایران میں مداخلت سے پاکستان کو پیچیدہ سفارتی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اس لئے پاکستان کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ایران میں استحکام برقرار رہے۔

ایک پاکستان سفارتکار نے کہا کہ پاکستان کی ایسی کوئی خواہش نہیں کہ ایران کمزور ہو۔افراتفری کی صورتحال سرحدوں کے اندر محدود نہیں رہتی، اس لئے پاکستان امید کرتا ہے کہ ایران کا اندرونی بحران خطے کو اپنی لپیٹ میں نہیں لے گا۔

بین الاقوامی امور کے ایرانی نژاد ماہر محمد حسین باقری نے ایکسپریس ٹربیون سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران ایران میں چار احتجاجی تحریکیں دیکھیں ہیں۔

متعلقہ

Load Next Story