معاشی پالیسی فریم ورک تیزی سے اصلاحات کی جانب گامزن

حکومت پراسیسڈ فوڈ، باغبانی،گوشت، ڈیری ،خصوصی فصلوں پر توجہ دے رہی ہے

کراچی:

پاکستان کا معاشی پالیسی فریم ورک بتدریج ایسے شعبہ جاتی اصلاحات کی جانب بڑھ رہا ہے، جن کا مقصد دیرینہ ساختی بگاڑ کو درست کرنا اور معاشی نمو کو بحال کرنا ہے۔

ان اصلاحات میں شوگرسیکٹرکی مرحلہ وار ڈی ریگولیشن، زرعی برآمدات کے لیے جارحانہ حکمتِ عملی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول کی مسلسل کوششیں نمایاں ہیں۔

یہ اقدامات ریاستی کنٹرول پر مبنی نظام سے ہٹ کرمارکیٹ پر مبنی، برآمدات پر مرکوز اورسرمایہ دوست پالیسیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

شوگر سیکٹر طویل عرصے سے حکومتی مداخلت کی علامت رہاہے،جہاں گنے کی سرکاری قیمتیں، درآمد و برآمد پر پابندیاں، ذخائرکی نگرانی اور سبسڈیز معمول کا حصہ تھیں۔

پاکستان بیوروآف شماریات کے مطابق گزشتہ دہائی میں گنے کی پیداوار میں شدیداتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جسکے نتیجے میں چینی کی قلت اور اضافے کے بار بار بحران پیدا ہوئے، جن سے قومی خزانے پر بوجھ پڑا اور کسانوں کو بروقت ادائیگیاں متاثر ہوئیں۔

حالیہ برسوں میں شوگر سیکٹرکی ڈی ریگولیشن کا مقصد انہی مسائل سے نکلنا ہے۔ برآمدات میں نرمی اور انتظامی کنٹرول میں کمی کے ذریعے حکومت مارکیٹ کے اشاروں کو پیداوار اورقیمتوں کے تعین میں مؤثر بناناچاہتی ہے۔ 

اصلاحات زرعی شعبے کے وسیع تر کردار سے بھی جڑی ہوئی ہیں، جو ملکی جی ڈی پی کا تقریباً 20.9 فیصد حصہ فراہم کرتا اور 38.5 فیصد افرادی قوت کو روزگار دیتا ہے۔

حکومت اب پراسیسڈ فوڈ، باغبانی، گوشت، ڈیری اورخصوصی فصلوں کے فروغ پرتوجہ دے رہی ہے۔

سرکاری اعداد وشمارکے مطابق مالی سال 24 میں زرعی برآمدات بڑھ کر 3.14 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، غیر ملکی سرمایہ کاری اس تبدیلی میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر شوگر سیکٹر، زرعی برآمدات اور ایف ڈی آئی سے متعلق اصلاحات کو تسلسل، شفافیت اور ادارہ جاتی صلاحیت کے ساتھ نافذ کیا گیا تو یہ پاکستان کی برآمدی کارکردگی بہتر بنانے، بیرونی کھاتوں کو مستحکم کرنے اور پائیدار و جامع معاشی ترقی کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

متعلقہ

Load Next Story