جب دیوار سے لگایا جاتا ہے تو پھر احتجاج کا آپشن ہی بچتا ہے، وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی
فوٹو: فائل
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ میں اپنے لیڈر عمران خان سے ملنا چاہتا ہوں لیکن کسی نے نہیں سنی، جب دیوار سے لگایا جاتا ہے تو پھر احتجاج کا آپشن ہی بچتا ہے۔
سندھ ہائیکورٹ میں تقریب سے خطاب کے دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان حقیقی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے، میرا لیڈر جیل میں ہے اور وہ پاکستان کا مقبول ترین لیڈر ہے، چیف جسٹس بھی ملاقات کو تیار نہیں اور نہ لیٹر کا جواب دیا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ احتجاجی سیاست میں ہم تب جاتے ہیں جب کوئی راستہ نہیں بچتا جبکہ آئین و قانون اسکی اجازت دیتا ہے۔ وزیر اعلیٰ بنا تو وزیر اعلیٰ پنجاب اور چیف جسٹس کو خط لکھا۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز حکم دیتے ہیں کہ میں عمران خان سے مل سکتا ہوں، تین ججز نے یہ حکم دیا لیکن اس حکم کو ردی کی ٹوکری میں ایک جیل سپرنٹنڈنٹ پھینک دیتا ہے۔ یہ میری بی عزتی نہیں بلکہ عدلیہ اور وکلاء پیشے کی بے توقیری ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ آئین و قانون کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے، اداروں کا نہیں پورے پاکستان کا نقصان ہو رہا ہے، انصاف برائے فروخت نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے پی آئی اے کو بھی نیلام کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ بار کے تمام وکلاء کا مشکور ہوں اور مجھے خوشی ہے میں وکلاء کے سامنے اپنی بات رکھ رہا ہوں، سندھ کی عوام بہادر، جرأت مند اور دلیر ہے۔
وزیر اعلیٰ نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ سندھیوں نے اپنے دارالخلافہ میں سب قوموں کو جگہ دی ہے، سندھیوں کا دل بڑا ہے جو مہمانوں کو عزت دیتے ہیں لیکن سندھ کی حکومت نے مہمانوں کے ساتھ اچھا نہیں کیا اور اجرک ٹوپی کے عزت نہیں کی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ جب تک وکلاء کھڑے نہیں ہوں گے عدلیہ آزاد نہیں ہوگی، جتنی بھی تحریک چلی سندھ ہائیکورٹ بار کھڑا رہا۔ وکلاء تحریک شروع کریں میں آئین و قانون کی بالادستی کے لیے کھڑا رہوں گا، وکلاء پر گولی چلانے سے پہلے مجھ پر گولی چلانا پڑے گی۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ وکلاء بہادر ہیں، دلیر ہیں جبکہ زندگی و موت اللہ کے ہاتھ میں ہے تو پھر ہم کیوں ڈریں، ہم نے اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہونا ہوگا اس کے بغیر ناممکن ہے۔ لوگ جتنا ڈریں گے یہ لوگ آپ کو اتنا دبائیں گے، قوم اور ہم وکلاء کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
خطاب سے قبل، سندھ ہائیکورٹ بار کے صدر حسیب جمالی نے وزیر اعلیٰ کے پی کو سندھی اجرک و ٹوپی پہنائی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ آج میں اپنے گھر میں موجود ہوں، ہم آئین و قانون کی بات کرتے ہیں، آئین و قانون کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے حقوق قائم رہیں، ہم اپنی دھرتی پر کہیں بھی چل سکتے ہیں جبکہ آئین کہتا ہے ہم بول سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس شہر کے ووٹ پر ڈاکا ڈالا گیا، پاکستان کے عوام کو دبانے کی کوشش کی گئی، ہمیں بیابانوں میں دھکیل دیا گیا، موٹر وے بند کر دیا گیا۔
سلمان اکرم راجا کا کہنا تھ اکہ بلوچ کے لاپتا افراد کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں، کے پی کے میں آپریشن کے نام پر لوگوں کو بے گھر کیا جا رہا ہے۔