ٹرمپ کا ایران کے اپوزیشن لیڈرز سے رابطوں کا دعویٰ؛ یہ رہنما کون ہیں؟
ایران میں دسمبر کے اواخر سے مہنگائی اور معاشی بحران کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں نے عالمگیر شہرت حاصل کرلی ہے جس میں درجنوں ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مظاہرے 1979 کے انقلاب کے بعد سے ایران میں برسراقتدار مذہبی حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان بن گئے ہیں۔
ان مظاہروں کے دوران سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں اگرچہ سرکاری اور اپوزیشن اعداد و شمار میں واضح فرق ہے۔
ایسے میں سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ ایران کی اپوزیشن جماعتیں کون کون سی ہیں اور ان مظاہروں میں کیا کردار ادا کر رہی ہیں۔
ایران کی سیاست سے بخوبی واقف ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس وقت ایک منظم اور متحد اپوزیشن کا سامنا نہیں بلکہ مختلف نظریات، پس منظر اور اہداف رکھنے والے بکھرے ہوئے گروہ موجود ہیں۔
حالیہ مظاہروں میں جہاں کچھ اپوزیشن جماعتیں ایران کے اندر سرگرم ہیں جب کہ کئی جلاوطن رہنما بیرونِ ملک سے اپنی آواز ملا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ ایران، یورپ اور امریکا میں مقیم ایرانی تارکینِ وطن نے حالیہ مظاہروں کے حق میں برلن، لندن اور دیگر شہروں میں بھی احتجاجی ریلیاں نکالی جارہی ہیں۔
ایران کی نمایاں اپوزیشن جماعتیں اور رہنما
ایران کے سابق بادشاہ واحد ولی عہد رضا پہلوی اس وقت امریکا میں جلاوطن ہیں وہ ایران کے معزول بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی کے صاحبزادے ہیں۔
رضا پہلوی ’’ایران نیشنل کونسل‘‘ نامی پلیٹ فارم سے ایک سیکولر اور جمہوری نظام کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بادشاہت کی بحالی کے بجائے ریفرنڈم کے ذریعے نظام کے تعین کے حامی ہیں۔
انھیں ایرانی تارکینِ وطن اور کچھ نوجوانوں کی حمایت حاصل ہے، تاہم بائیں بازو اور جمہوری ریپبلکن حلقے ان کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔
ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ رضا پہلوی کے پاس ایران کے اندر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ یا واضح حکمتِ عملی موجود نہیں۔
مجاہدینِ خلق اور مریم رجوی
ایران کی ایک اور توانا اپوزیشن آواز مجاہدینِ خلق تنظیم ہے جو ایک زمانے میں طاقتور بائیں بازو کی مسلح تنظیم تھی اور جس نے شاہِ ایران محمد رضا پہلوی اور امریکی مفادات کے خلاف کارروائیاں کی تھیں۔
تاہم ایران-عراق جنگ میں عراق کا ساتھ دینے کے باعث یہ تنظیم ایران میں انتہائی تیزی سے غیرمقبول ہوتی چلی گئی تھی۔
اس تنظیم کی قیادت اس وقت مریم رجوی کے ہاتھ میں ہے جو ایران سے جلا وطن ہیں۔ اس وقت فرانس اور یورپ سے سرگرم ہیں۔
البتہ انسانی حقوق کے ادارے اس تنظیم پر فرقہ ورانہ اور آمرانہ طرزِ عمل اختیار کرنے کے کے الزامات لگاتے ہیں۔
سیکولر جمہوری اتحاد
سخت گیر مذہبی حکومت اور کڑی پابندیوں کے باوجود 2023 میں بیرونِ ملک قائم ہونے والا ’’سیکولر جمہوری اتحاد‘‘ تیزی سے ایران میں مقبول ہوئی ہے۔
جس نے مذہب اور ریاست کو دو الگ الگ معاملات قرار دیتے ہوئے دونوں کو علیحدہ کرنے کا مقبول بیانیہ قائم کیا ہے۔
علا وہ ازیں اس جماعت کے دیگر مطالبات میں آزاد انتخابات اور آزاد عدلیہ کا قیام بھی ہے جس کا مطالبہ بڑی تعداد میں سامنے آتا رہا ہے۔
یہ اتحاد ترک لڑکی مہسا امینی کی زیر حراست مبینہ ہلاکت پر جنم لینے والی عوامی تحریک کے دوران نمایاں ہوا تاہم ایران کے اندر اسے وسیع عوامی حمایت حاصل نہیں ہوسکی۔
کرد اور بلوچ اقلیتیں
ایران میں آباد کرد اور بلوچ سنی اقلیتوں کی طویل عرصے سے حکومت کے ساتھ کشیدگی کا شکار رہی ہیں لیکن سخت مزاحمت جاری ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایران کے کرد علاقوں اور صوبہ سیستان و بلوچستان میں حالیہ مظاہرے دیگر حصوں کے مقابلے میں زیادہ شدت اختیار کرگئے ہیں۔
اگرچہ ان علاقوں میں بھی حکومت مخالف جذبات مضبوط ہیں مگر یہاں بھی کوئی واحد متحد قیادت موجود نہیں۔ بعض بلوچ علاقوں میں مسلح گروہوں کی موجودگی بھی صورتحال کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
یاد ہے کہ امریکی صدر نے ایران پر بڑی فوجی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایرانی اپوزیشن رہنماؤں سے رابطے میں ہیں۔
تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس اپوزیشن جماعت یا رہنما کے ساتھ رابطے میں البتہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کا اشارہ امریکا میں مقیم جلاوطن ولی عہد رضا پہلوی کی جانب ہے۔
عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی رضا پہلوی کو غیر معمولی مقبولیت ملی ہے۔ ایکس (سابق ٹوئٹر) نے ایران کے قومی پرچم کی ایموجی میں تبدیلی کردی۔
ایکس (سابق ٹوئٹر) پر ایرانی پرچم کی ایموجی میں سے موجودہ حکومت کی علامت ہٹا کر پہلوی خاندان کی بادشاہت کے دور کی علامت لگادی گئی۔