ایران کی سائنسی اور دفاعی ترقی ’’امریکہ اوراسرائیل کے لیے خطرہ‘‘ کیوں؟

آج امریکا اور اسرائیل کی خارجہ پالیسی تضاد اور دہرے معیار کی واضح مثال بن چکی ہے

عالمی سیاست کی تاریخ گواہ ہے کہ طاقتور ریاستیں ہمیشہ اصولوں کی بات تب کرتی ہیں جب ان کے مفادات محفوظ ہوں، اور جب مفادات کو خطرہ لاحق ہو تو یہی اصول بوجھ بن جاتے ہیں۔

آج امریکا اور اسرائیل کی خارجہ پالیسی اسی تضاد اور دہرے معیار کی واضح مثال بن چکی ہے۔ ایک طرف شمالی کوریا جیسا ملک ہے جو کھلے عام میزائل تجربات کرتا ہے، جوہری صلاحیت کا اظہار کرتا ہے اور امریکا کو براہِ راست آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہے، مگر دوسری طرف ایران اور فلسطین ہیں جنہیں صرف اس لیے مستقل دباؤ، پابندیوں اور عسکری دھمکیوں کے ساتھ ساتھ غزہ میں انسانیت کی تذلیل اور لاکھوں جانوں کو خود امریکا اور اسرائیل نے ایٹمی ہتھیاروں کا نوالہ بنادیا ہے کہ وہ مسلم دنیا سے تعلق رکھتے ہیں اور طاقت کے عالمی نظام میں آزادانہ فیصلے کرنے کی جسارت کرتے ہیں۔

شمالی کوریا کو اگر عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ایک غیر معمولی مثال ہے۔ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا 52 واں بڑا ملک ہونے کے باوجود یہ دنیا کی چوتھی بڑی فوج رکھتا ہے۔ اندازوں کے مطابق اس کے فوجی اخراجات مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 25 فیصد تک پہنچتے ہیں، جبکہ تقریباً ہر مرد شہری کسی نہ کسی سطح پر فوجی تربیت حاصل کرتا ہے۔ اتنی بڑی عسکری طاقت کے باوجود شمالی کوریا نے آج تک کسی کمزور یا ہمسایہ ملک پر جارحانہ جنگ مسلط نہیں کی۔ اس کی فوجی تیاری اور دفاعی حکمت عملی کا ہدف ہمیشہ وہی طاقتیں رہی ہیں جو دنیا پر حکمرانی کا دعویٰ کرتی ہیں، بالخصوص امریکا۔

حالیہ دنوں میں شمالی کوریا کی جانب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے اسٹرٹیجک کروز میزائل کا کامیاب تجربہ اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔ رہنما کم جونگ اُن نے خود اس تجربے کا معائنہ کیا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ میزائلوں نے اپنے مقررہ اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق پیانگ یانگ کے قریب سے لانچ کیے گئے ان میزائلوں کو مسلسل ٹریک کیا گیا، مگر اس پیش رفت پر عالمی طاقتوں کی جانب سے نہ کوئی شدید ردعمل سامنے آیا اور نہ ہی پیشگی حملوں یا ’’عالمی امن کو خطرہ‘‘ قرار دینے کی بازگشت سنائی دی۔ یہ خاموشی دراصل اس حقیقت کی تصدیق ہے کہ طاقت کا توازن بولتا ہے، اصول نہیں۔

اس کے برعکس ایران کا معاملہ دیکھ لیجیے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر جوہری تعمیرات جاری رہیں تو ایران پر ’’قیامت برپا‘‘ کر دی جائے گی۔ فلوریڈا میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ مشترکہ گفتگو میں انہوں نے نہ صرف ایران کے خلاف فوری حملوں کی حمایت کا عندیہ دیا بلکہ اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کا اعلان بھی کیا۔ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب ایران کسی جارحیت کے بجائے سائنسی اور تکنیکی ترقی کے میدان میں پیش رفت کر رہا تھا۔

ایران نے حال ہی میں روسی سویوز راکٹ کے ذریعے تین مقامی طور پر تیار کردہ سیٹلائٹس پایا، ظفر-2 اور کوثر 1.5، کامیابی سے خلا میں بھیجے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ سیٹلائٹس شہری اور تحقیقی مقاصد کے لیے ہیں، جن میں ماحولیاتی نگرانی، آبی وسائل کا بہتر انتظام، زرعی منصوبہ بندی اور قدرتی آفات کے دوران امدادی کارروائیاں شامل ہیں۔

پایا سیٹلائٹ میں جدید مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں شامل کی گئی ہیں، ظفر-2 یونیورسٹی کے محققین کی کاوش ہے اور کوثر 1.5 ایک نجی ایرانی کمپنی کی جانب سے تیار کیا گیا ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ ہے۔ یہ تمام حقائق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران کی پیش رفت سائنسی اور شہری نوعیت کی ہے، مگر اس کے باوجود اسے خطرہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

امریکا اور اسرائیل شمالی کوریا سے ’’پنگا‘‘ لینے سے اس لیے گھبراتے ہیں کہ وہاں طاقت کا توازن حقیقی اور فوری ردِعمل کی شکل میں موجود ہے، یعنی قیمت بہت بھاری ہے۔ شمالی کوریا ایک مضبوط عسکری ڈھانچہ رکھتا ہے، بڑی مستقل فوج، انتہائی جارحانہ ڈیٹرنس (بازدارانہ حکمتِ عملی) اور میزائل/جوہری صلاحیت کے ذریعے یہ پیغام دیتا ہے کہ کسی بھی حملے کا جواب صرف سفارتی احتجاج نہیں بلکہ براہِ راست عسکری کارروائی ہوگا۔

اس کے نتیجے میں جنگ کا پھیلاؤ فوری طور پر خطے میں موجود امریکی اتحادیوں (خصوصاً جنوبی کوریا اور جاپان) اور امریکی فوجی اڈّوں تک جا سکتا ہے، جس سے انسانی، معاشی اور سیاسی لاگت ناقابلِ برداشت ہو جاتی ہے۔ دوسری طرف شمالی کوریا اندرونی طور پر انتہائی کنٹرولڈ ریاست ہے، اس پر ’’دباؤ ڈال کر نظام بدلنے‘‘ کے روایتی حربے کم اثر رکھتے ہیں، جبکہ چین اور روس جیسے عوامل بھی خطے میں جنگ کو پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ اسی لیے امریکا اور اسرائیل شمالی کوریا کے ساتھ ٹکراؤ میں جانے کے بجائے اسے ’’کنٹرول‘‘ کرنے، مذاکرات یا پابندیوں کے ذریعے محدود رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ یہاں کمزور فریق نہیں، بلکہ ایسا فریق موجود ہے جو نقصان پہنچانے کی صلاحیت اور ارادہ دونوں کا تاثر قائم رکھتا ہے۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر شمالی کوریا کے میزائل اور جوہری صلاحیتیں ’’دفاعی ضرورت‘‘ ہیں تو ایران کی سائنسی اور دفاعی ترقی ’’عالمی امن کے لیے خطرہ‘‘ کیوں قرار دی جاتی ہے؟ اگر اسرائیل کو اپنی سلامتی کے نام پر غزہ میں بمباری کی اجازت ہے تو فلسطینیوں کی مزاحمت دہشت گردی کیوں بن جاتی ہے؟ یہی وہ سوالات ہیں جو عالمی نظام کے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہیں، مگر طاقت کے ایوانوں میں ان سوالات کی کوئی گونج سنائی نہیں دیتی۔

ایران نے امریکا اور اسرائیل کو واضح پیغام دیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ایران کی میزائل اور دفاعی صلاحیتیں کسی بیرونی دباؤ کے تحت محدود نہیں کی جا سکتیں اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ مؤقف دراصل خودمختاری کے اسی اصول کی یاد دہانی ہے جسے شمالی کوریا کے معاملے میں خاموشی سے تسلیم کیا جا چکا ہے۔

اصل مسئلہ جوہری ہتھیار یا میزائل نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ کون سا ملک آزادانہ فیصلے کر رہا ہے اور کون عالمی طاقتوں کے زیرِ اثر ہے۔ جو ملک دب کر چلنے پر آمادہ نہ ہو، اسے ’’خطرہ‘‘ بنا دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران اور فلسطین مسلسل نشانے پر ہیں، جبکہ شمالی کوریا کی سخت گیر پالیسی کو عملاً برداشت کیا جاتا ہے۔

موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی انصاف و امن کے اداروں کی ذمہ داری محض رسمی بیانات جاری کرنے تک محدود نہیں رہ سکتی۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل، عالمی عدالتِ انصاف، انسانی حقوق کونسل اور دیگر مؤثر عالمی فورمز کو اس امر کا ادراک کرنا ہوگا کہ طاقتور ریاستوں کی یکطرفہ عسکری دھمکیاں اور جنگی زبان عالمی امن کے لیے براہِ راست خطرہ بن چکی ہیں۔

اگر بین الاقوامی نظام نے طاقت اور مفاد کے دباؤ میں آ کر خاموشی اختیار کیے رکھی تو یہ خاموشی خود تاریخ کے کٹہرے میں کھڑی ہوگی۔ عالمی اداروں کو غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے ہر ریاست کو بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہنے کا پابند بنانا ہوگا، چاہے وہ امریکا ہو، اسرائیل ہو یا کوئی اور بااثر ملک۔ جنگ کو روکنے کے لیے مکالمہ، سفارت کاری اور قانون کی بالادستی ہی واحد راستہ ہے، ورنہ موجودہ محاذ آرائی کسی بھی لمحے ایک وسیع تر عالمی تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

یہ حقیقت واضح ہے کہ اگر اقوامِ متحدہ اور عالمی انصاف کے ادارے آج مؤثر اور اصولی کردار ادا کرنے میں ناکام رہے تو آنے والی نسلیں اس نظام کو امن کا ضامن نہیں بلکہ طاقتوروں کی بدمعاشی کا محافظ سمجھیں گی۔ عالمی امن کا تقاضا ہے کہ قانون کو طاقت پر، اور انصاف کو مفاد پر فوقیت دی جائے، ورنہ دنیا ایک اور تباہ کن جنگ کے دہانے پر کھڑی رہے گی۔

اگر دنیا واقعی امن اور استحکام چاہتی ہے تو اسے دہرے معیار کی سیاست ترک کرنا ہوگی۔ عالمی قوانین سب کے لیے یکساں ہونے چاہییں، ورنہ طاقت کے اس عدم توازن کا نتیجہ مزید تنازعات، جنگوں اور انسانی المیوں کی صورت میں سامنے آئے گا۔ تاریخ یہ ثابت کر چکی ہے کہ بدمعاشی وقتی فائدہ تو دے سکتی ہے، مگر پائیدار امن صرف انصاف اور برابری سے ہی ممکن ہے۔ آج سوال یہی ہے کہ کیا عالمی طاقتیں اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں، یا دنیا کو اسی دہرے معیار کے ساتھ مزید عدم استحکام کی طرف دھکیلا جاتا رہے گا؟

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story