ایران کے مسائل
msuherwardy@gmail.com
ایران میں حالات خراب ہیں لیکن کتنے خراب ہیں اس پر ابہام ہے ۔ میں سمجھتا ہوں ابھی یہ اہم نہیں کہ کتنے خراب ہیں۔ اہم یہ ہے کہ لوگ حکومت اور ایرانی رجیم کے خلاف سڑکوں پر آرہے ہیں۔ ہمیں لوگوں کے مسائل سمجھنا ہونگے تب ہی اس تحریک کے مستقبل پر بات ہو سکتی ہے۔ ایران ایک معاشی بحران کا شکار ہے،اس کی کرنسی کی قدر بہت گر گئی ہے، ڈالر آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا ہے، مہنگائی بڑھ گئی ہے، تیل اور بجلی مہنگی ہو گئی ہیں۔ بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ عام ایرانی شدید مالی بحران کا شکار ہے۔
لوگ سڑکوں پر آئے ہیں،انھوں نے احتجاج کیا ہے۔ لوگوں کے خلاف کریک ڈاؤن بھی کیا گیا ہے۔ جیسے ہر ملک کی حکومت کرتی ہے احتجاج کو ختم کرنے کے لیے بھر پور طاقت کا استعمال کیا گیا ہے۔ لوگ مارے بھی گئے ہیں، گرفتار بھی ہوئے ہیں۔ اس لیے مجھے ایسا لگتا ہے کہ وقتی طور پر ایران میں احتجاج کی شدت میں کمی آئی ہے۔ لیکن یہ کوئی مستقل حل نہیں ہے۔ اگر وقتی طور پر احتجاج کی شدت کم بھی ہوئی ہے تو احتجاج دوبارہ ہوں گے کیونکہ مسائل حل نہیں ہوں گے۔ جب تک مسائل موجود رہیں گے لوگوں کے پاس احتجاج کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔
ایران پر معاشی پابندیاں ختم ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ اس لیے معاشی پابندیوں کی وجہ سے ایران میں جو معاشی بحران ہے، اس کے کم یا ختم ہونے کا بھی کوئی امکان نہیں۔ ڈالر کی قدر اور اوپر جائے گی، ایرانی کرنسی کی قدر مزید کم ہوگی۔ مہنگائی مزید بڑھے گی۔ ایرانی حکومت کے پاس کوئی حل نہیں۔ بے روزگاری بڑھے گی۔ اس لیے اگر امریکا یا اسرائیل ایران پر حملہ کا سوچ بھی رہے ہیں تو شائد وہ سوچیں ان کی پابندیوں کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ اس لیے پابندیوں کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ مطلوبہ نتائج خود ہی حاصل ہو جائیں گے۔
اسی لیے ایران پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے کہ احتجاج کرنے والوں کے ساتھ سختی نہ کی جائے۔ ایرانی حکومت پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے کہ وہ طاقت کے استعمال سے گریز کرے ورنہ اس پر حملہ کر دیا جائے گا۔ اس طرح اندر جو احتجاجی تحریک ہے اس کو بڑھنے کا موقع دینا مقصود ہے۔ امریکا چاہتا ہے کہ ایران کے اندر جو خلفشار ہے وہ بڑھے اور ایرانی حکومت اس کو ختم کرنے کے لیے طاقت کا استعمال نہ کرے۔ اور اگر طاقت کا استعمال کرے تو حملہ کیا جائے۔ اس طرح ایران دوہرے منجدھار میں پھنس گیا ہے۔ اندر بھی لڑائی ہے باہر بھی لڑائی ہے۔ فی الحال اس کے پاس کسی بات کا بھی کوئی حل نہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے جوہری پروگرام پر مذاکرات کرنے کے لیے رابطہ کیا ہے۔انھوں نے ایران سے ملاقات کا عندیہ بھی دیا ہے۔ لیکن اس وقت ایران ،مشکل میں ہے۔ شائد ایران زیادہ رعائتیں دے کر بھی معاشی رعائتیں نہ حاصل کر سکے۔ امریکا ایران میں انٹرنیٹ کی بحالی پر کام کر رہا ہے۔ وہ عوام کو انٹرنیٹ دینا چاہتا ہے۔ شائد ایرانی حکومت کو ریلیف نہیں دیا جائے گا۔ ایران کے اندر جو ہو رہا ہے اس کووقت دیا جائے۔ اس کے نتائج دیکھے جائیں۔ اس وقت ایران کو ریلیف نہیں دیا جا سکتا ہے، پابندیاں نرم نہیں کی جا سکتیں۔ معاشی طور پر کوئی ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔ امریکا کو اس کے نتائج مل رہے ہیں، اس کو لگ رہا ہے کہ اس نے ایران کی رجیم کو پھنسا لیا ہے۔ اب نتائج آرہے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ ایران کے پاس عوام کے مسائل کا کیا حل ہے۔ میں مانتا ہوں کہ کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی اس ملک کے مفادات کے تحت ہونی چاہیے۔ لیکن ملک کا مفاد عوام کا مفاد ہوتا ہے۔ یہ تو ممکن نہیں کہ آپ ایسی خارجہ پالیسی بنائیں جو آپ کے عوام کے لیے مسائل پیدا کرے۔ آزادی اور خود مختاری اہم ہے۔ لیکن عوام کی فلاح بھی اہم ہے۔ عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرنا بھی اہم ہے۔ کوئی بھی حکومت ایک ایسی پالیسی کب تک چلا سکتی ہے جو اس کے عوام کے معاشی قتل کا باعث بن جائے۔ لوگوں کے لیے زندہ رہنا مشکل ہو جائے۔ لوگ کسی بم سے تو نہ مریں لیکن معاشی بم سے مر جائیں۔
آپ جو بھی خارجہ پالیسی بنائیں اس میں عوام کو سامنے رکھیں۔ اگر آپ کے پاس معاشی پابندیوں کا کوئی حل نہیں۔ آپ بند گلی میں ہیں تو یہ کوئی کامیاب حکمت عملی نہیں ہے۔ تیل ہے مگر بیچ نہیں سکتے، وسائل ہیں لیکن عوام کی فلاح پر خرچ نہیں ہو سکتے۔ یہ درست ہے کہ ایران نے اپنے دفاع پر بہت خرچ کیا ہے۔ حالیہ اسرائیل لڑائی میں اس نے ثابت کیا ہے کہ وہ ناقابل تسخیر ہے، اس کے میزائیل اور ڈرون اسرائیل پہنچے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ابھی تک ایران پر اسرائیل حملہ نہیں کر رہا۔ امریکا بھی دھمکیاں دیتا ہے لیکن حملہ نہیں کرتا۔ امریکا کو علم ہے ایران کے پاس موثر جواب دینے کی طاقت ہے۔
لیکن آج مضبوط دفاع ایران کے لیے کافی نہیں۔ امریکا اور اسرائیل شائد عسکری جنگ تو نہ جیت سکے لیکن معاشی جنگ میں ایران کی شکست نظر آرہی ہے۔ ایران کو باہر کے حملے سے تو شکست نہیں دی جا سکی۔ لیکن اندر سے ایران کمزور ہو رہا ہے۔ لوگ میزائل کھا تو نہیں سکتے۔ ڈرون کھا تو نہیں سکتے۔ روٹی دینا بھی حکومت کی ذمے داری ہے۔ کب تک دفاع کے نام پر لوگوں کو معاشی مسائل میں رکھا جائے گا۔ شائد لوگ تنگ آگئے ہیں۔
اسی لیے کہتے ہیں کہ مضبوط دفاع کے ساتھ مضبوط معیشت بھی ناگزیر ہے۔ اگر آپ معاشی طور پر کمزور ہوتے جائیں گے تو مضبوط دفاع بھی کسی کام کا نہیں ہوگا۔ معاشی دفاع بھی ناگزیر ہے۔ایرانی سپریم لیڈر کو اب سمجھنا ہوگا کہ انھیں اب عوام کے مسا ئل کو حل کرنے کا کوئی راستہ نکالنا ہوگا۔ امریکا مخالفت پر قوم کو مزید ساتھ نہیں رکھ اجا سکتا۔ اب مسائل کے حؒ کرنے کا وقت ہے۔
دنیا چین اور روس سے بہت ناامید ہے۔ وینیز ویلا کا معاملہ سامنے ہے۔ ایران کے بھی معاشی مسائل کا چین اور روس کے پاس کوئی حل نہیں۔ جب چین اور روس بے بس ہیں تو پھر امریکا کی حاکمیت کو ابھی چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کو بھی اندازہ ہوا ہے کہ صرف چین پر معیشت نہیں چلائی جا سکتی۔ پاکستان کو بھی آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا ہے۔ اور آئی ایم ایف کے پاس جانے کے لیے امریکا چاہیے۔ اس لیے ایران کے معاملہ پر چین اور روس نے دنیا کو نا امید کیا ہے۔ یہی ایران کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس کے دوست کمزور نکلے ہیں۔ امریکا کے سامنے اس کے دوست بھی بے بس ہیں۔جہاں تک ایران میں بادشاہت کی واپسی کی بات ہے۔ مجھے نہیں لگتا وہاں کچھ نیا ہو سکتا ہے۔ لیکن بادشاہت کی واپسی ممکن نہیں۔