رکن قومی اسمبلی نور عالم خان کا شناختی کارڈ منسوخ ہونے کا انکشاف 

میرا شناختی کارڈ بلاک نہیں بلکہ بلکل منسوخ کر دیا گیا، میرے بینک اکاؤنٹس اور کریڈٹ کارڈز بھی بلاک کیے گئے

فوٹو فائل

رکن قومی اسمبلی نور عالم خان کا شناختی کارڈ منسوخ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت جاری قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے نور عالم خان نے کہا کہ میرا شناختی کارڈ نادرا نے منسوخ کر دیا، ایس این جی پی ایل نے نادرا کو خط لکھا اور انھوں نے میرا شناختی کارڈ منسوخ کیا، میرا شناختی کارڈ بلاک نہیں بلکہ بلکل منسوخ کر دیا گیا، میرے بینک اکاؤنٹس اور کریڈٹ کارڈز بھی بلاک کیے گئے۔

نور عالم خان نے کہا کہ 2023 میں کسی نے غصے میں میرا کوئی گھر نکالا اور اس پر بل کا ایشو بنایا، نہ وہ میرا گھر تھا نہ میرے نام پر تھا۔

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ آپ مجھے لکھ کر دیں، میں اس معاملے کو دیکھتا ہوں۔

نادرا ترمیمی بل 2025 سمیت تین بل قومی اسمبلی میں پیش

قومی اسمبلی میں نادراترمیمی بل 2025 سمیت تین بل پیش کردئیے گئے، قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرمیلافاروقی نے ایوان میں نادراترمیمی بل 2025 پیش کرنے کی اجازت چاہی،اجازت ملنے پر انہوں نے بل ایوان میں پیش کردیا۔

شرمیلا فاروقی نے کہاکہ یہ بل سینئر سیٹیزن کے شناختی کارڈ کے دوبارہ اجراء سے متعلق ہے۔

سحرکامران نے علاقہ دارلحکومت اسلام آبادبیٹریاں انتظام ودوبارہ کارآمدبنانے کابل 2025ایوان میں پیش کرنے کی اجازت چاہی۔

ڈاکٹرشذرہ منصب علی نے کہا کہ اس معاملہ پرورکنگ گروپ کام کررہاہے، اس بل میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جوورکنگ گروپ میں شامل نہیں ہے۔

سحرکامران نے کہاکہ یہ اہم بل ہے تاکہ گرین اکانومی کو فروغ دیا جائے۔اجازت ملنےپر انہوں نےبل ایوان میں پیش کردیا۔طاہراقبال نے کوآپریٹوسوسائٹیزترمیمی بل ایوان میں پیش کرنے کی اجازت چاہی،اجازت ملنے پرانہوں نے بل ایوان میں پیش کردیا۔

اسلام آباد میں درختوں کی بے دریغ کٹائی سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس

قومی اسمبلی اجلاس میں اسلام آباد میں درختوں کی بے دریغ کٹائی سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا گیا،  وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے توجہ دلاؤ نوٹس پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ  درخت تین وجوہات کی وجہ سے کاٹے گئے ہیں۔ اسلام آباد ماسٹر پلان میں کہیں گرین اور کہیں براؤن تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ سیکٹرز ڈیویلپ نہ ہونے تک ان جگہوں کو گرین سمجھتے رہے، ایمبیسی روڈ کی مثال ہمارے سامنے ہیں، ایمبیسی روڈ پر درخت کاٹ کر سڑک نہیں بنائی گئی بلکہ وہ روڈ سڑک کی تھی، ان درختوں کی جگہ پر ان سے کئی گنا زیادہ درخت لگائے گئے، اسلام آباد کے پراجیکٹ پر صحافیوں کو بریفنگ دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی درخت ہٹایا گیا تو چار گنا درخت لگائے گیے، انتیس ہزار دو سو پندرہ درخت کاٹے گئے،  چالیس ہزار سے زائد درخت لگائے گئے، مارچ میں ان ہی جگہوں پر ساٹھ ہزار درخت لگائے جائیں گے، اسلام آباد میں گرین ایریا بڑھا ہے کم نہیں ہوا، یہ کسی ایک افسر کا فیصلہ نہیں بلکہ حکومت کا فیصلہ ہے، چیئرمین سی ڈی اے پر تنقید کی بجائے تعریف ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہی محکموں کے لوگ اچھے کام بھی کر رہے ہیں، یہاں کال سینٹرز ہیں جو پوری دنیا میں ملک کو بدنام کر رہے ہیں، ان کال سینٹرز سے مالی فراڈ ہوتے ہیں، ان کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔

Load Next Story