جعلی ڈگریوں کا بحران، بھارتی طلبہ کا بیرونِ ملک مستقبل خطرے میں پڑ گیا
نئی دہلی / سڈنی: بھارت میں جعلی تعلیمی اسناد کے بڑھتے ہوئے معاملات کے بعد آسٹریلیا نے بھارتی طلبہ کے لیے اسٹوڈنٹ ویزا جانچ کے عمل کو مزید سخت کر دیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق آسٹریلیا نے بھارت کو طلبہ ویزا فریم ورک کے تحت ’ہائیسٹ رسک کیٹیگری‘ میں شامل کر لیا ہے۔
بھارتی جریدے ٹائمز آف انڈیا کے مطابق نئی درجہ بندی کے بعد بھارتی طلبہ کی مالی حیثیت، تعلیمی ریکارڈ اور انگریزی زبان کے ٹیسٹ کو پہلے سے زیادہ سختی سے جانچا جائے گا۔ آسٹریلوی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ویزا سسٹم میں سامنے آنے والے ممکنہ خطرات اور جعلی دستاویزات کے خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کی انٹرنیشنل ایجوکیشن ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹو فل ہنی ووڈ نے جعلی ڈگریوں کے معاملے کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا، برطانیہ اور کینیڈا میں سخت ویزا پالیسیوں کے باعث متعدد طلبہ اب آسٹریلیا کا رخ کر رہے ہیں، جن میں سے بعض کے تعلیمی کاغذات مشکوک پائے گئے ہیں۔
دی کمیون کی رپورٹ کے مطابق بھارتی پولیس اب تک جعلی ڈگری مافیا کے خلاف کارروائیوں میں 100 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی جعلی اسناد ضبط کر چکی ہے، جس سے مسئلے کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس مسئلے پر مؤثر قابو نہ پایا گیا تو بھارتی طلبہ کو مستقبل میں مزید سخت ویزا پالیسیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔