اسلام آباد میں ڈکیتیاں ہو رہی ہیں، کوئی اور نہیں پولیس والے ڈکیتیاں کر رہے ہیں، شیر افضل مروت

نیشنل سائبر کرائم ایجنسی نے اسلام آباد میں انٹیلیجنس ایجنسی کا نام استعمال کر کے چھاپا مارا۔

رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ڈکیتیاں ہو رہی ہیں، کوئی اور نہیں پولیس والے ڈکیتیاں کر رہے ہیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پانچ ایسے پوائنٹ تھے جس میں این سی سی آئی اے نے انٹیلی جنس ایجنسی کا نام لے کر چھاپہ مارا، وہاں سے لیپ ٹاپ سمیت ساری اشیاء اٹھا کر لے گئے۔

شیر افضل مروت نے کہا کہ اسلام آباد میں ڈکیتیاں ہو رہی ہیں، ایک ڈکیٹی کا میں نے وزیر صاحب کو بتایا،  ڈکیتی پولیس والے کر رہیں، تھانے دار نے دو کروڑ روپے واپس کیے، نیشنل سائبر کرائم ایجنسی نے اسلام آباد میں انٹیلیجنس ایجنسی کا نام استعمال کر کے چھاپا مارا۔

سیکٹر آئی نائن میں چھاپا مار کر لوگوں کو گرفتار کیا، سارا فرنیچر اور سامان چوری کر کے لے گئے، یہ ڈاکو ہیں یا افسران ہیں ، اسلام آباد میں 41 جگہوں پر ناکے ہیں لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔

شیر افضل مروت کی تقریر پر طلال چوہدری نے کہا کہ مروت صاحب میرے نوٹس میں لائے،  پولیس افسران گرفتار ہوئے اور چارج شیٹ ہوئے، اس طرح کے کسی بھی معاملے پر زیرو ٹالرنس ہے، این سی سی آئی کے افسران معطل ہیں اور تحقیقات ہو رہی ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ انہی محکموں کے لوگ اچھے کام بھی کر رہے ہیں، یہاں کال سینٹرز ہیں جو پوری دنیا میں ملک کو بدنام کر رہے ہیں، ان کال سینٹرز سے مالی فراڈ ہوتے ہیں، ان کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔

Load Next Story