پاکستان بین الاقوامی طورپر ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق سرگرمیوں میں فعال ہے، وزیر خزانہ
—فوٹو: فائل
وفاقی وزیرِ برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ بین الاقوامی طورپر ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق سرگرمیوں میں پاکستان فعال ملک کے طورپرشامل ہے، مواقع اور خطرات کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے ضابطہ کاری ناگزیر ہے۔
انہوں نے یہ بات آئی کوئن ٹیکنالوجی کے وفد سے ملاقات میں کہی جس کی قیادت چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر چیٹ سلویستری کر رہے تھے۔
وزیرِ خزانہ نے وفد کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے منظم اور ذمہ دارانہ فریم ورک کی تشکیل کے لیے جاری کوششوں سے آگاہ کیا۔
انہوں نے وفد کو پاکستان کرپٹو کونسل اور پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام سے متعلق پیش رفت سے بھی آگاہ کیا اور ان اقدامات کے پس منظر، پالیسی اقدامات کی ترتیب، مارکیٹ کی ترقی، مالی شمولیت، شفافیت اور صارفین کے تحفظ پر ان کے وسیع تر اثرات کی وضاحت کی۔
وزیرِ خزانہ نے بین الاقوامی تجزیاتی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے عالمی سطح پر ڈیجیٹل اثاثہ جات سے متعلق سرگرمیوں میں پاکستان کی بڑھتی شمولیت کو اجاگر کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ان سرگرمیوں کو ایک ایسے بہتر طور پر منظم ماحول میں ڈھالنا چاہتی ہے جو صارفین کے تحفظ کو یقینی بنائے اور ساتھ ہی جدت اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بالخصوص ایسے وقت میں جب پاکستانی شہریوں کی جانب سے ڈیجیٹل اثاثوں کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ،مواقع اور خطرات کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے ضوابط ناگزیر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تشکیل پانے والا پالیسی فریم ورک مارکیٹ کے شرکا کو واضح رہنمائی فراہم کرنے، بین الاقوامی بہترین طریقہ کار سے ہم آہنگ ہونے اور سٹیٹ بینک سمیت تمام متعلقہ ریگولیٹرز کے درمیان ہم آہنگی یقینی بنانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے تاکہ منظم مارکیٹ ترقی اور ادارہ جاتی شمولیت ممکن ہو سکے۔
چیٹ سلویستری نے امریکا اور کینیڈا کی مارکیٹوں کے تجربات کی روشنی میں اپنے خیالات کا تبادلہ کیا اور بینکوں، ایکسچینجز اور بڑے صارفین پر مشتمل پلیٹ فارمز کے ساتھ آئی کوائین ٹیکنالوجی کے کام کا حوالہ دیا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ترقی یافتہ مارکیٹوں میں ریگولیٹری وضاحت نے روایتی مالیاتی اداروں کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ بنیادی بینکاری نظام کو ازسرِ نو تشکیل دیے بغیر موجودہ انفراسٹرکچر کے ذریعے ڈیجیٹل اثاثوں سے وابستہ ہو سکیں۔
انہوں نے والٹ پر مبنی مڈل ویئر اور سوئچنگ ٹیکنالوجیز کے کردار پر بھی روشنی ڈالی جو بینکوں کو ایکسچینجز کے ساتھ محفوظ انداز میں منسلک کرنے، لیکویڈیٹی کے انتظام، تعمیل کو بہتر بنانے اور صارفین کو ان کی مانوس بینکاری ایپس کے ذریعے ڈیجیٹل اثاثہ جاتی خدمات فراہم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
وفد نے اس بات پر زور دیا کہ بلاک چین ٹیکنالوجی اور سٹیبل کوائنز مالیاتی انفراسٹرکچر کو جدید بنانے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ یہ تیز تر، کم لاگت اور زیادہ شفاف لین دین کو ممکن بناتے ہیں جبکہ ریگولیٹری نگرانی بھی برقرار رہتی ہے۔
اس ضمن میں امریکا میں ہونے والی حالیہ قانون سازی کا حوالہ بھی دیا گیا جس کا مقصد ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق ضابطہ کاری بالخصوص سٹیبل کوائنز اور بینکاری نظام کے اندر ڈیجیٹل اثاثوں کے انضمام میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔وفد نے نشاندہی کی کہ مختلف ممالک میں نوجوان اور ٹیکنالوجی سے واقف آبادی پہلے ہی ڈیجیٹل اثاثوں کے ساتھ منسلک ہے اور بینکوں کے ذریعے منظم شمولیت اس سرگرمی کو رسمی مالیاتی نظام کے اندر برقرار رکھنے میں مدد دے رہی ہے۔
ملاقات میں آئی کوائن کی عالمی سرگرمیوں پر بھی تبادلہ خیال ہوا جن میں ایسے شراکت داری کے منصوبے شامل ہیں جو بڑے صارفین کو ڈیجیٹل اثاثہ جاتی خدمات تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔
وفد نے مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر پاکستان میں مواقع تلاش کرنے میں کمپنی کی دلچسپی کا اظہار کیا اور متعلقہ ریگولیٹری راستوں، لائسنسنگ کے تقاضوں اور بینکوں اور ریگولیٹرز سمیت متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کاری کے طریقہ کار کے بارے میں رہنمائی طلب کی۔
وزیرِ خزانہ نے مشورہ دیا کہ چونکہ ریگولیٹری منظرنامہ ابھی ارتقائی مرحلے میں ہے اس لیے دلچسپی رکھنے والے بینکوں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ ابتدائی سطح پر روابط قائم کرنا مثبت قدم ہوگا جبکہ سٹیٹ بینک سمیت ریگولیٹرز کے ساتھ مسلسل مکالمہ بھی جاری رکھا جائے۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان ڈیجیٹل اثاثہ جاتی ایکو نظام کی تشکیل کے ابتدائی مگر اہم مرحلے میں ہے ،ہم قومی ترجیحات سے ہم آہنگ علم کے تبادلے اور ذمہ دارانہ سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
فریقین نے باہمی روابط برقرار رکھنے، تعاون کے ممکنہ شعبوں کا جائزہ لینے، اور پاکستان میں شفاف، جامع اور بہتر طور پر منظم ڈیجیٹل اثاثہ جاتی مارکیٹ کی تشکیل کے لیے تبادلہ خیال جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
آئی کوائن ٹیکنالوجی اِنک بلاک چین انفراسٹرکچر کمپنی ہے جو کرپٹو کرنسی کے لیے جدید ہارڈویئر والٹ سسٹم تیار کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ وفد میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) ٹیری روبلنگ( جو آئیکون ٹیکنالوجی کے مشیر ہیں)، محمود اظہر جبار چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹیک ایکسس اور طارق حفیظ ملک چیف ٹیکنالوجی آفیسر ٹیک ایکسس بھی شامل تھے۔