8 فروری کا لائحہ عمل ابھی نہیں بتائیں گے مگر ڈی چوک کوئی نہیں جارہا، علیمہ خان

بانی پی ٹی آئی کا کیس اسلام آباد ہائیکورٹ کیوں نہیں سن رہی؟کیوں چیف جسٹس ڈوگر بانی کے وکالت نامے سائن نہیں کرانے دیتے

فوٹو: فائل

راولپنڈی:

علیمہ خان نے کہا ہے کہ 8 فروری کا کیا لائحہ عمل ہے یہ ہم ابھی نہیں بتا رہے تاہم ڈی چوک کوئی نہیں جارہا۔

انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے باہر اپنے وکیل فیصل ملک کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ پتا نہیں جھوٹے کیسز پر کیوں وقت ضائع کیا جارہا ہے، پچاس سے ساٹھ ججز کو عدالتوں سے ہٹایا گیا ہے، جو ججز ضمیر کے مطابق فیصلے کرنا چاہتے تھے وہ سب ہٹائے گئے، عدلیہ سے کہنا چاہتی ہوں انصاف کا نظام تو دفن ہو چکا ہے، بانی پی ٹی آئی رول آف لاء کی بات کر رہے ہیں، جج سے پہلے ٹی وی پر اینکر بتاتے ہیں کیا فیصلہ آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ عوام ٹیکس اپنی سہولیات اور انصاف کیلئے دیتے ہیں، یہ واضح ہے کہ بندوق سے اس ملک میں سب کچھ نہیں چلایا جا سکتا، بانی پی ٹی آئی کا کیس اسلام آباد ہائیکورٹ کیوں نہیں سن رہی، کیوں چیف جسٹس ڈوگر بانی کے وکالت نامے سائن نہیں کرانے دیتے، سب نے دیکھا کراچی میں لوگ بڑی تعداد میں نکلے، عوام زیادہ دیر تک ان کو برداشت نہیں کرسکتی، ان کو جلدی ہے علیمہ خان کو 8 فروری سے قبل جیل بھیج دو۔

آج علیمہ کیخلاف گواہی میں ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ جیل نے قبول کیا کہ وہ شروع سے اس کیس میں شامل تفتیش نہیں تھے، وکیل

وکیل فیصل ملک نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ 26 نومبر احتجاج کیس میں آج ہم نے ایک گواہ ایڈیشنل سپرینڈنٹ جیل پر جرح کی ہے، الزام یہ ہے کہ علیمہ خان نے بانی کا 24 نومبر کے احتجاج سے متعلق پیغام عوام کو دیا، گواہ نے قبول کیا ہے جس دن پیغام دیا گیا اس دن علیمہ خان کے خلاف کوئی درخواست دائر نہیں ہوئی تھی، علیمہ خان کے خلاف کیس سیاسی انتقامی کارروائی ہے، ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ جیل نے قبول کیا کہ وہ شروع سے اس کیس میں شامل تفتیش نہیں تھے، آج کی جرح میں ثابت ہوا ہے اڈیالہ جیل سے کوئی غیر قانونی یا غیر آئینی کام نہیں ہوا۔

مقدمے کی سماعت، جرح کے لیے 17 گواہان طلب

علیمہ خان اور دیگر کے خلاف 26 نومبر 2024ء احتجاج کے مقدمہ کی سماعت کے دوران استغاثہ کے گواہ اڈیالہ جیل کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ علی شاہ کی شہادت پر ملزمہ کے وکیل نے جرح مکمل کرلی۔ انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے استغاثہ کے 17 گواہان کو جرح کے لیے طلب کرتے ہوئے سماعت کل بدھ تک ملتوی کردی۔

تھانہ صادق آباد میں درج مقدمہ کی سماعت کے موقع پر جرح کے دوران وکیل صفائی اور پراسیکیوشن کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے اعتراض اٹھایا کہ گواہ سے غیر متعلقہ اور غیر ضروری سوالات پوچھے جا رہے ہیں۔ جس پر وکیل فیصل ملک نے کہا کہ جرح کرنا وکیل صفائی کا حق ہے لہذا  پراسیکیوشن مداخلت نہ کرے۔

جرح کے دوران ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ جیل علی امیر شاہ نے وکیل صفائی کے سوالوں کے جوابات دیئے۔ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ جیل نے کہا کہ بانی نے جیل میں احتجاج کی بات کی تھی پُرامن احتجاج کی بات نہیں، جیل میں ٹرائل کے دوران تین سے چار افسران پر مشتمل عملہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ موجود ہوتا ہے، 13 نومبر اور 22 نومبر کو علیمہ خان کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی تھی، جس دن بانی نے احتجاج کی کال دی 6 سے 7 صحافی بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

انہوں ںے کہا کہ اڈیالہ جیل پنجاب حکومت کے ماتحت ہے سیاسی معاملات سے کوئی لینا دینا نہیں، علیمہ خان کے خلاف درج مقدمہ میں کبھی شامل تفتیش نہیں ہوا، 13 دسمبر 2024 کو سی پی او راولپنڈی نے 13 نومبر اور 22 نومبر کے ملاقاتیوں کی فہرست فراہم کرنے کیلئے خط لکھا تھا، میرے علم میں نہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ملاقاتوں کی فہرست سے متعلق کوئی احکامات دیئے ہیں، اڈیالہ جیل میں جو بھی لوگ داخل ہوتے ہیں ان کا ریکارڈ محفوظ رکھا جاتا ہے۔

سماعت سے قبل علیمہ خان کے وکیل نے آئندہ سماعت پر جرح کرنے کی استدعا کی تھی جس پر عدالت نے کہا آپ جرح نہیں کرتے تو ہم اسٹیٹ کونسل مقرر کرینگے۔

عدالت نے علیمہ خان کے خلاف درج مقدمہ کی سماعت کل تک ملتوی کر دی، عدالت نے استغاثہ کے 8 گواہان کو کل جرح کیلئے طلب کرلیا۔ کیس پر سماعت اے ٹی سی کے جج امجد علی شاہ نے کی۔

Load Next Story