سکھ رہنما کو بھارتی ایجنٹوں سے سنگین خطرہ، برطانوی انٹیلیجنس نے وارننگ جاری کر دی
خالصتان ریفرنڈم کمپین کے یوکے اور یورپ کے کوآرڈی نیٹر سرگرم خالصتانی رہنما پرم جیت سنگھ پما کی جان کو بھارتی ریاستی ایجنٹوں سے سنگین خطرات لاحق ہونے کی وارننگ برطانوی انٹیلیجنس ایجنسی ایم آئی فائیو نے دے دی ہے۔
ذرائع کے مطابق برطانوی انٹیلیجنس نے مسٹر پما کو حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔
برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق خطرات کی نوعیت اس قدر سنگین ہے کہ پرم جیت سنگھ پما اب لندن کے علاقے ساوتھ آل میں اپنے گھر میں بھی مقیم نہیں رہے، جبکہ انہیں اپنی موجودہ رہائش گاہ کا مقام کسی کے ساتھ شیئر کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔
پرم جیت سنگھ پما، کینیڈا میں 2023 میں قتل ہونے والے خالصتانی رہنما ہردیپ سنگھ نجر اور سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔
وہ باقاعدگی سے لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے ہونے والے مظاہروں میں شریک ہوتے رہے ہیں۔
گزشتہ دنوں بنگلہ دیشی ہائی کمیشن پر بھارتی مظاہرے کے جواب میں احتجاج کے دوران ان کی مودی حامیوں سے تکرار بھی ہوئی تھی۔
مسٹر پما کے مطابق وہ کافی عرصے سے برطانوی پولیس کو موصول ہونے والی دھمکیوں سے آگاہ کرتے آ رہے تھے تاہم ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے بعد پولیس نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا شروع کیا۔
یاد رہے کہ نجر کے قتل کے بعد اس وقت کے کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے بھارتی ایجنسیوں پر براہِ راست الزامات عائد کیے تھے۔
اسی سال امریکا میں بھی ایک بھارتی حکومت کے ایجنٹ پر گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کرنے کی سازش کا الزام سامنے آیا تھا۔
برطانوی ہوم آفس نے کہا ہے کہ وہ انفرادی کیسز پر تبصرہ نہیں کرتا تاہم برطانوی سکھ کمیونٹی ملک کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور سکھوں کی حفاظت دیگر شہریوں کی طرح حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
دوسری جانب بھارتی ہائی کمیشن نے اس معاملے پر کسی بھی قسم کے تبصرے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ بھارتی حکومت ماضی میں مسٹر پما کا تعلق 1985 میں تباہ ہونے والی ایئر انڈیا کی پرواز 182 سے جوڑتی رہی ہے۔
پرم جیت سنگھ پما نے ان الزامات کو پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں اور کسی بھی غیر جانبدار تحقیقات کا خیرمقدم کریں گے۔
پما کے بڑے بھائی کو 1991 میں خالصتانی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے الزام میں قتل کر دیا گیا تھا۔
خود پرم جیت سنگھ پما متعدد بار بھارتی پولیس کے تشدد کا نشانہ بننے کے بعد سال 2000 میں برطانیہ میں سیاسی پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔
2015 میں پرتگال میں تعطیلات کے دوران انہیں گرفتار کیا گیا، تاہم عدالت نے بھارت کی جانب سے مقدمہ چلانے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔
ذرائع کے مطابق 2015 میں ایک سینئر بھارتی سفارتکار سمنت کمار گوئل نے پرم جیت سنگھ پما سے ملاقات کر کے مالی فوائد کے بدلے خالصتان تحریک سے دستبردار ہونے کی پیشکش کی تھی جس کی اطلاع مسٹر پما نے فوری طور پر برطانوی انٹیلیجنس کو دے دی تھی۔