سرحدی فائرنگ پر بنگلا دیش کا سخت ردعمل، میانمار کا سفیر طلب کرلیا

میانمار میں فوجی کارروائیوں کے بعد لاکھوں روہنگیا مسلمان نقل مکانی پر مجبور ہوئے

ڈھاکہ: بنگلا دیش نے میانمار میں جاری خانہ جنگی کے اثرات سرحد پار پہنچنے پر میانمار کے سفیر کو طلب کر لیا ہے۔ سرحدی جھڑپوں کے دوران فائرنگ سے ایک بنگلا دیشی بچی زخمی ہو گئی۔

بنگلا دیشی حکام کے مطابق میانمار کی ریاست راخائن میں فوج، اراکان آرمی اور اراکان روہنگیا سالویشن آرمی (ARSA) کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے، جس کے باعث بنگلا دیش کے ضلع کاکس بازار کے کم از کم ایک درجن دیہات متاثر ہوئے ہیں۔

سرحد پار فائرنگ کے نتیجے میں 12 سالہ حذیفہ افنان گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گئی، جبکہ ایک بنگلا دیشی ماہی گیر سرحد کے قریب بارودی سرنگ پر پاؤں پڑنے سے اپنی ٹانگ سے محروم ہو گیا۔

بنگلا دیش کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سرحد پار بلااشتعال فائرنگ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور ہمسایہ ممالک کے تعلقات کے لیے نقصان دہ ہے۔

منگل کے روز میانمار کے سفیر یو کیاؤ سوئے موئے کو وزارت خارجہ طلب کیا گیا، جہاں انہوں نے زخمیوں اور ان کے اہلِ خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

زخمی بچی کے والد جاسم الدین نے بتایا کہ ان کی بیٹی اسکول جانے والی تھی مگر اب وینٹی لیٹر پر ہے، اور یہ صدمہ ان کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔

واضح رہے کہ میانمار میں فوجی کارروائیوں کے بعد لاکھوں روہنگیا مسلمان نقل مکانی پر مجبور ہوئے، جن میں سے بڑی تعداد بنگلہ دیش کے پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہے۔ پیر کے روز بنگلہ دیشی سرحدی فورسز نے سرحد عبور کرنے والے ARSA کے 53 جنگجوؤں کو بھی حراست میں لیا۔

متعلقہ

Load Next Story