ایران؛ احتجاج کے دوران ہلاک اہلکاروں کی سرکاری اعزاز کیساتھ تدفین، ہزاروں شریک

جنازوں کو جلوس کی شکل میں لے جایا گیا جس میں شرکا نے ایرانی پرچم اور آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر اُٹھا رکھی تھیں

ایران میں مظاہروں کے دوران شرپسندوں کے ہاتھوں جاں بحق پولیس اہلکاروں اور شہریوں کی اجتماعی نماز جنازہ

ایران میں حکومتی سطح پر مظاہروں کے دوران شرپسندوں کے ہاتھوں جاں بحق ہونے والے 100 کے قریب سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔

ایرانی میڈیا کے مطابق دارالحکومت تہران میں ہزاروں افراد نے جلوس کی صورت میں جنازوں کو آخری آرام گاہ تک لے کر گئے۔

میتوں کو بڑے ٹرکوں میں رکھا گیا تھا جسے پھولوں سے سجایا گیا تھا اور جاں بحق اہلکاروں کی تصاویر بھی آویزاں تھیں۔

جنازہ جلوس کے شرکا نے احتجاجی مظاہروں کے دوران جاں بحق ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

اس موقع پر اعلیٰ سرکاری حکام اور حکمراں جماعت کے رہنما بھی شریک تھی۔ آیت اللہ خامنہ ای کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ 

جنازوں کو الگ الگ قبرستان لے جایا گیا جہاں ان کے اہل خانہ نے سپرد خاک کیا۔ جلوس میں ایرانی پرچم اور اپنے رہبر معظم کی تصاویر اُٹھائے ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ امریکا میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ مظاہرے کو طاقت سے کچلنے کی کوشش میں ہلاکتیں ڈھائی ہزار کے قریب پہنچ چکی ہیں۔ 

انسانی حقوق کی اس تنظیم نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے کریک ڈاؤں آپریشن کے دوران کم از کم 18 ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ہیومن رائٹس تنظیم نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان گرفتار مظاہرین کو سزائے موت دینے کا امکان ہے اور آج ایک پھانسی کی سزا پر عمل درآمد بھی کیا جائے گا۔

 

Load Next Story