سانپ سے ڈسے ہوئے شخص سانپ کو جیکٹ میں لپیٹ کر اسپتال پہنچ گئے، ویڈیو وائرل
فوٹو: اسکرین گریب
دنیا بھر میں سانپ کو اس کے زہریلے ڈنک کی وجہ سے خطرناک تصور کیا جاتا ہے اور خوف پایا جاتا ہے کیونکہ سانپ کے ڈسنے سے انسان کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔
سانپ اپنے اندر انتہائی زہریلا مواد پیدا کرتا ہے اور اپنے خطرناک دانتوں کے ذریعے جسم میں داخل کرتا ہے اور جب وہ ایسا کر دیتا ہے تو عموماً ڈسے ہوئے انسان کے بچنے کے امکانات معدوم ہوجاتے ہیں، اسی لیے لوگ ان سے دور رہتے ہیں لیکن تمام تر احتیاط کے باوجود ہر سال بڑی تعداد میں انسان سانپ کے ڈسنے سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جبکہ کئی متاثرہ افراد زہر کے اثرات سے بچ بھی جاتے ہیں، چاہے بروقت طبی امداد ملنے کی وجہ سے ہو یا اس لیے کہ انہیں کسی بے ضرر سانپ نے ڈسا ہو۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اسی طرح کا ایک واقعہ گزشتہ روز متھرا میں پیش آیا جہاں ایک ادھیڑ عمر شہری کو کسی میڈیکل سینٹر یا اسپتال کے احاطے میں دیکھا جا سکتا ہے اور وہ کہہ رہے ہیں انہیں سانپ نے ڈس لیا تھا اور وہ اسی وجہ سے میڈیکل سینٹر آئے ہیں مگر ابھی تک کسی ڈاکٹر نے ان کا معائنہ نہیں کیا۔
مذکورہ شہری علاج میں تاخیر پر شکوہ کر رہے ہیں اور جب ان سے پوچھا گیا کہ سانپ کہاں ہے تو وہ انتہائی بے خوفی اور آسانی کے ساتھ اپنی جیکٹ کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہیں اور زپ کھول کر سانپ نکال کر دیکھا دیتے ہیں جو بظاہر کوبرا معلوم ہوتا ہے، جس کا شمار دنیا کے زہریلے ترین سانپوں میں ہوتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ متھرا میں ایک ای رکشا ڈرائیور کو سانپ نے ڈس لیا اور وہ بھی کوئی عام سانپ نہیں بلکہ ایک زہریلا سانپ تھا اور یہ ڈرائیور ضلعی اسپتال میں کھڑ ے ہو کر چیخ رہا تھا کہ اس کا علاج نہیں ہو رہا اور اسی دوران کسی نے ان سے پوچھا کہ ’سانپ کہاں ہے‘ تو انہوں نے اپنی جیکٹ کے اندر سے ایک زندہ سانپ نکال لیا۔
ای رکشا ڈرائیور کی جانب سے سانپ دکھانے کا منظر کیمرے میں محفوظ کیا گیا اور اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی اور دیکھتے ہی دیکھے وائرل ہوگئی۔
मथुरा में एक ई-रिक्शा वाले को सांप ने काट लिया।
सांप ऐसा वैसा नहीं- एकदम फ़नधारी
आदमी जिला अस्पताल में खड़े होकर चिल्ला रहा था कि उसका इलाज नहीं हो रहा।
तभी एक ने कहा - कहां है सांप? तो उसने जैकेट के अंदर से जिंदा सांप निकाल कर दिखा दिया।
ग़ज़ब धुरंधर लोग हैं 😂 pic.twitter.com/k4nSnrIRin