امریکا کا پاکستان سمیت 75 ممالک کیلیے ’ویزا پروسیسنگ‘ معطل کرنے کا اعلان

ویزا پروسیسنگ کی معطلی کا فیصلہ 21 جنوری سے نافذ العمل ہوگا

امریکا نے پاکستان سمیت 74 ممالک کی ویزا پروسیسنگ فی الحال بند کردی

ایران کے ساتھ کشیدگی اور ممکنہ حملوں کے دوران امریکا نے 75 ممالک کے لیے ویزا پروسیسنگ کو معطل کردیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بات کا اعلان امریکی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کیا گیا جس کا اطلاق 20 جنوری سے ہوگا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام امریکی امیگریشن قوانین اور حفاظتی جائزوں کو سخت کرنے کے ایک وسیع پروگرام کا حصہ ہے۔ 

امریکی وزارتِ خارجہ نے اس فیصلے کی تفصیلات جاری نہیں کیں لیکن محکمہ کے اندرونی میمو میں کچھ واضح احکامات دیئے گئے ہیں۔

جن میں امریکی سفارت اور قونصل خانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ موجودہ قوانین کے تحت ویزوں کو مسترد کریں جب تک کہ نئے جائزے مکمل نہیں ہوں گے۔

ابتدائی رپورٹس کے مطابق یہ معطلی خاص طور پر امیگرینٹ ویزوں (ایسے ویزے جو مستقل رہائش یا مستقل داخلے کا راستہ ہیں) پر لاگو ہوتی ہے۔

غیر امیگرینٹ ویزوں جیسے سیاحت، کاروبار یا تعلیم کے ویزے کے بارے میں ابھی واضح ہدایات سامنے نہیں آئی ہیں۔

متاثرہ ممالک میں ایران، روس، افغانستان، صومالیہ، برازیل، نائیجیریا، تھائی لینڈ،عراق، مصر، یمن، ایتھوپیا، سوڈان وغیرہ شامل ہیں۔

چند آزاد ذرائع کا دعویٰ ہے کہ غیر حتمی فہرست میں پاکستان، بنگلا دیش، نیپال، عراق، اردن، مراکو، لبنان، سریا، یوگنڈا، اریٹیریا، غانا، جیورجیا، اور کئی افریقی و ایشیائی ملک بھی شامل ہیں۔

امریکی وزارت خارجہ نے تاحال متاثرہ ممالک کی مکمل فہرست جاری نہیں کی ہے تاہم وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ درستگی کے ساتھ امیگریشن کی جانچ اور سکریننگ کے طریقہ کار کا دوبارہ جائزہ لینے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ خاص طور پر ایسے درخواست دہندگان کے بارے میں جنہیں ممکنہ طور پر مستقبل میں امریکی عوامی فائدوں یا ویلفیئر پروگراموں پر منحصر قرار دیا جا سکتا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے حکام نے واضح کیا ہے کہ اس معطلی کے دوران قونصلر افسران کو موجودہ قوانین کے تحت ویزا درخواستیں مسترد کرنے اور نئے جائزے کے مکمل ہونے تک مزید درخواستیں قبول نہ کرنے کا اختیار ہے۔

یاد رہے کہ ویزا پروسیسنگ کی معطلی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں جاری سخت امیگریشن پالیسیوں کا تسلسل ہے۔

صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال بھی مختلف ممالک کے خلاف امیگریشن پابندیاں اور سخت اسکریننگ قوانین نافذ کیے تھے۔

جن میں پبلک چارج یعنی وہ درخواست دہندگان جو ممکن ہے کہ امریکی ویلفیئر پروگراموں پر انحصار کریں کے بارے میں سخت فیصلے شامل کیے۔

یہ نئی پابندی خاص طور پر ان ممالک کے شہریوں کے لیے حیران کن ہو سکتی ہے جن کے لوگوں کو پہلے ویزا حاصل کرنے میں نسبتاً آسانی ہوتی تھی۔

جیسے برازیل یا تھائی لینڈ، جبکہ ایران، افغانستان اور صومالیہ جیسے ممالک پہلے ہی سخت چیلنجز کا سامنا کر رہے تھے۔

Load Next Story