ایمان مزاری اور انکے شوہر سمندر پر ہیں یا آسمان پر، گرفتار کرکے پیش کریں، عدالت کا حکم

وارنٹس پر عمل نہ ہوا تو توہین عدالت کی کارروائی کروں گا،

اسلام آباد:

عدالت نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو پیش نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے  ریمارکس دیے کہ ملزمان سمندر پر ہوں یا آسمان پر، گرفتار کرکے پیش کیا جائے۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس  میں  متنازع ٹویٹس کیس  کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 24 گھنٹے میں گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دیا۔ دوران سماعت اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی جواد طارق عدالت کے سامنے پیش  ہوئے، جہاں جج افضل مجوکہ نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔

جج نے ڈی آئی جی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ وارنٹ جاری ہوا،  عمل کیوں نہیں ہوا ؟  اسلام آباد میں وارنٹ پر عمل نہ ہونا کیا ثابت کرتا ہے؟  ان کو پاکستان سے اٹھائیں، انڈیا سے یا افغانستان سے،  24 گھنٹے ہیں آپ کے پاس ۔ وہ سمندر پر ہیں یا آسمان پر ہیں مجھے وارنٹ کی تعمیل چاہیے۔ میں دیکھتا ہوں کیسے پیش نہیں ہوتے ۔ مجھے 24 گھنٹے کے اندر وارنٹس پر عمل درآمد چاہیے۔

ڈی آئی جی نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ وارنٹس پر عمل ہوگا۔ بعد ازاں عدالت نے سماعت میں وقفہ کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ وارنٹ کی تکمیل نہ ہونے کی صورت میں توہین عدالت کی کارروائی ہوگی۔

قبل ازیں سماعت کے آغاز پر عدالت نے ڈی آئی جی اور ڈائریکٹر ایف آئی اے کو ایمان مزاری اور ان کےشوہر کوگرفتار کرکے پیش نہ کرنے پر عدالت طلب کیا۔  کیس کی سماعت کے دوران این سی سی آئی اے پراسیکیوٹر عدالت کے سامنے پیش ہوئے تاہم ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

سماعت کے دوران جج افضل مجوکہ نے استفسار کیا کہ ملزمان کہاں ہیں اور انہیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا گیا؟۔ انہوں نے پولیس کے رویے پر اظہارِ برہمی کرتے ہوئے سوال کیا کہ ملزمان کی گرفتاری اور پیشی کے احکامات پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا؟۔

عدالت نے صورتحال پر سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا جب کہ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر کو بھی ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا۔

جج افضل مجوکہ نے واضح ہدایت دی کہ ڈی آئی جی اور ایف آئی اے ڈائریکٹر کو 10 بجے عدالت میں طلب کیا جائے۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت میں وقفہ کر دیا۔

بعد ازاں سماعت کا آغاز ہوا تو ڈی آئی جی آپریشنز اور ڈائریکٹر این سی سی آئی اے عدالت میں پیش ہوئے، جہاں جج افضل مجوکہ نے استفسار کیا کہ وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کیوں نہیں ہوا، جس پر ڈائریکٹر این سی سی آئی اے نے جواب دیا کہ 4 آفیسرز کی ٹیم تشکیل دی گئی۔ ملزمان ایڈریس پر موجود نہیں تھے ۔ ملزمان جان بوجھ کر چھپے ہوئے ہیں ۔

جج نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد میں ایک بندہ آپ سے گرفتار نہیں ہوتا۔ بلوچستان یا دوسرے صوبوں میں کیا کریں گے ؟۔ وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد چاہیے۔ شیخ عامر سہیل پراسیکیوٹر عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوتے؟۔ پراسیکیوٹر کو اس عدالت سے ہٹایا جائے ۔ عدالت نے ہدایت کی کہ ڈی آئی جی آپریشن وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کروائیں۔ 11 بجے وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کروا کر عدالت میں پیش ہوں۔ عدالت نے ایک بار پھر گیارہ بجے تک سماعت میں وقفہ کیا۔

بعد ازاں سماعت شروع ہوئی تو جج افضل مجوکہ نے پراسیکیوٹر سے پوچھا کہ آپ تنخواہ نہیں لیتے ہیں؟ تو پھر پیش کیوں نہیں ہوتے ؟۔ آپ پراسیکیوٹر ہیں آپ کو این سی سی آئی اے کے ہر کیس میں پیش ہونا ہے ۔ تفتیشی آفیسر عمران حیدر نے بتایا کہ ملزمان روپوش ہیں جس کی وجہ سے گرفتاری نہیں ہو سکی ۔ ٹیمیں نکلی ہوئی ہیں گرفتاری کے لیے، 12 بجے تک کا وقت دے دیں ۔

بعد ازاں عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔ جج افضل مجوکا نے ہدایت کی کہ ڈی آئی جی آپریشن وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کروائیں ۔ ایس پی لیول کا آفیسر وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کے لیے مقرر کریں ۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری کے لیے 24 گھنٹے کا وقت دے رہے ہیں ۔

بعد ازاں سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

Load Next Story