امریکی عدالت نے فلسطین حامی رہنما محمود خلیل کی رہائی کا حکم منسوخ کردیا
امریکا کی ایک اپیل عدالت نے فلسطین حامی سرگرم رہنما محمود خلیل کی رہائی کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا ہے، جس کے بعد ان کی دوبارہ گرفتاری کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق یہ فیصلہ جمعرات کو جاری کیا گیا۔
محمود خلیل امریکا کے قانونی مستقل رہائشی ہیں، ان کی اہلیہ امریکی شہری ہیں جبکہ ان کا بیٹا امریکا میں پیدا ہوا۔ انہیں مارچ میں امیگریشن حکام نے حراست میں لیا تھا اور تین ماہ تک قید رکھا گیا، جہاں ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ امریکی خارجہ پالیسی کے مفادات کے لیے خطرہ ہیں۔
کولمبیا یونیورسٹی کے سابق طالبعلم محمود خلیل امریکا بھر میں ہونے والے فلسطین حامی طلبہ احتجاج کی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ انہیں جون میں رہائی ملی تھی، تاہم ان کے خلاف ملک بدری کی کارروائی جاری رہی۔
نیو جرسی کے وفاقی جج مائیکل فربیاز نے خلیل کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا تھا، تاہم فلاڈیلفیا میں قائم اپیل عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ضلعی عدالت کو اس کیس کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں تھا اور معاملہ امیگریشن عدالت میں سنا جانا چاہیے تھا۔
عدالت کے 2-1 فیصلے کے بعد محمود خلیل کی دوبارہ گرفتاری کی راہ ہموار ہو گئی ہے، تاہم یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ نہیں ہوگا، جس کے باعث وہ فی الحال آزاد رہیں گے۔ محمود خلیل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ مایوس کن ہے لیکن فلسطین اور انصاف کے لیے ان کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتا