ٹیکس کارکردگی پر بحث، وفاق بمقابلہ صوبے؛ مشیر وزیر خزانہ نے حقائق سامنے رکھ دیے
وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ مالی سال 2025 میں وفاق نے 130 کھرب (13 ٹریلین) روپے سے زائد ٹیکس اور لیویز جمع کیے ہیں، وفاقی ٹیکس وصولی معیشتت کے حجم کے 11.3 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور پاکستان جیسے ممالک میں ٹیکس کا معیشت سے تناسب کا عالمی معیار 18 فیصد ہونا ہے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے مشیر برائے وزیر خزانہ خرم شہزاد نے ٹیکس کارکردگی سے متعلق تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی ٹیکس وصولیاں جون 2028 تک معیشت کے 15 فیصد کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ دوسری طرف تمام صوبوں کی مجموعی ٹیکس وصولی مالی سال 2025 میں صرف 979 ارب روپے رہی ہے، صوبائی ٹیکس وصولی معیشت کے محض 0.85 فیصد کے برابر ہے۔
مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد نے مزید کہا کہ صوبوں سے متوقع ٹیکس حصہ کم از کم معیشت کا 3 فیصد ہونا چاہیے، صوبوں کو ہدف حاصل کرنے کے لیے 2028 تک وصولیاں تین گنا کرنا ہوں گی اور اصل مسئلہ ٹیکس بیس کا نہیں بلکہ اس سے حاصل ہونے والی آمدن کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سروسز سیکٹر کا ٹیکس بیس 29 کھرب، مگر صوبائی وصولی صرف 2.2 فیصد اور اشیا پر وفاقی ٹیکس وصولی 13 فیصد ہے جبکہ سروسز پر صوبائی وصولی نہایت کم ہے۔ زرعی آمدن کا ٹیکس بیس 37 کھرب، مگر صوبائی وصولی صرف 0.2 فیصد ہے۔
انہوں کہا کہ پراپرٹی کا ٹیکس بیس 217 کھرب مگر صوبائی ٹیکس وصولی صرف 0.3 فیصد ہے۔ پاکستان میں پراپرٹی ٹیکس خطے میں سب سے کم صرف 0.08 فیصد ہے۔ اس کے علاوہ ملائیشیا میں 0.5 فیصد، فلپائنز میں 0.5 فیصد، نیپال میں 0.4 فیصد، انڈونیشیا میں 0.3 فیصد، بھارت میں 0.2 فیصد اور پاکستان میں 0.08 فیصد ہے۔
مشیر وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ صوبائی ٹیکس صلاحیت اب تک بڑی حد تک استعمال نہیں ہو سکی، مالی وفاقیت پر فیصلہ حقائق اور اعداد و شمار کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ وفاق اور صوبے شراکت دار ہیں، مضبوط ٹیکس نظام سب کے مفاد میں ہے۔