میری جعلی آواز میں لوگوں سے پیسے مانگے گئے، اسپیکر قومی اسمبلی کا انکشاف
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی جعلی آواز میں لوگوں سے پیسے مانگے گئے ہیں۔
قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں شروع ہوا، جس میں اراکین کی کم حاضری کے باعث وقفہ سوالات مؤخر کر دیا گیا۔
اجلاس کے دوران آن لائن فراڈ، قانون سازی، پی آئی اے نجکاری، ایوانی نظم و ضبط اور شہری مسائل سے متعلق اہم معاملات زیر بحث آئے۔ آن لائن فراڈ سے متعلق گفتگو کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے انکشاف کیا کہ ان کی آواز میں جعل سازی کے ذریعے لوگوں سے پیسے مانگے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک شخص نے اعتماد کی بنیاد پر فون کر کے تصدیق کی، جس کے بعد اس معاملے کو قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔
آن لائن فراڈ کے معاملے پر وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے ایوان کو بتایا کہ یہ ایک منظم مافیا ہے جو شہریوں کو بلیک میل کرتا ہے اور رینٹ اے اکاؤنٹ کے ذریعے فراڈ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ این سی سی آئی اے کے پاس 523 اہلکار اور 23 تھانے ہیں، ادارے کی کارکردگی میں بہتری آ رہی ہے تاہم اس میں وقت لگے گا۔
اجلاس میں پی آئی اے نجکاری کی قانونی حیثیت پر بھی ایوان میں سوالات اٹھائے گئے، جس پر وفاقی وزیر خزانہ نے بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل مکمل ہو چکا ہے، تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے اور نیلامی کے عمل کو مکمل طور پر شفاف بنایا گیا۔ وزیر خزانہ کے مطابق 135 ارب روپے کے 75 فیصد شیئر فروخت کیے گئے، جن میں سے 10 ارب روپے حکومت کو ملیں گے جبکہ 125 ارب روپے پی آئی اے میں دوبارہ سرمایہ کاری کے لیے استعمال ہوں گے۔
اجلاس کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی نے گوشوارے جمع نہ کروانے پر 32 اراکین کی رکنیت معطل کرنے کا اعلان کیا اور واضح کیا کہ معطل اراکین ایوان میں نہیں بیٹھ سکتے۔ اگر کوئی معطل رکن ایوان میں موجود ہے تو وہ باہر چلا جائے۔
ایوان میں اس موقع پر دلچسپ لمحات بھی دیکھنے میں آئے، جب اسپیکر نے وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری کی تیاری کی تعریف کی، جس پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے مزاحیہ انداز میں طلال چوہدری کا مجسمہ بنوانے کی تجویز دی، جس پر ایوان میں قہقہے لگ گئے۔ بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کے روز شام پانچ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔