سپریم کورٹ کا پینشن سے متعلق اہم فیصلہ جاری، ‘پینشن کوئی رعایت نہیں بلکہ آئینی حق ہے’
فوٹو: فائل
سپریم کورٹ نے پینشن سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ پینشن کوئی رعایت نہیں بلکہ آئینی حق ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں جسٹس شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعت کی اور جسٹس شفیع صدیقی نے 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا۔
سپریم کورٹ نے محمد عثمان کی پینشنری فوائد سے متعلق دائر درخواست منظور کر لی اور قرار دیا کہ پینشن کوئی رعایت نہیں بلکہ آئینی حق ہے۔
سپریم کورٹ نے فیڈرل سروس ٹریبونل کا پینشن مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور کہا ہے کہ درخواست گزار نے ستمبر 2007 میں سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دیا تھا اور استعفے کے وقت درخواست گزار 20 سالہ کوالیفائنگ سروس مکمل کر چکے تھے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ محکمے نے 25 سالہ سروس شرط پر پینشن درخواست مسترد کی تھی، قانون میں 20 سال سروس پر پینشن کی شرط لاگو تھی، پینشن دیر سے مانگنے پر حق ختم نہیں ہوتا اور پینشن پر لمیٹیشن ایکٹ لاگو نہیں ہوتا ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے ریگولیشن 418 کے تحت پینشن کی مخالفت کی، ریگولیشن 418 کا تعلق صرف سروس گنتی سے ہے، محکمہ اور ٹریبونل کی تشریح قانونی طور پر ناقابل قبول ہے اور محمد عثمان قانون کے مطابق پینشنری فوائد کے حق دار ہیں۔
عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ محمد عثمان نے ستمبر 2007 میں استعفیٰ دیا، اس وقت 20 سالہ سروس والی ترمیم شدہ قانون نافذ تھا، سول سرونٹس ایکٹ 1973 میں 2001 کے ذریعے ترمیم کرکے پینشن کے لیے اہلیت سروس 25 سال سے کم کرکے 20 سال کردی گئی تھی۔