ایمان مزاری، ہادی علی کے خلاف متنازع ٹوئٹس کیس کی سماعت
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں ایمان مزاری، ہادی علی کے خلاف متنازع ٹوئٹس کیس پر سماعت ہوئی، سماعت ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے کی۔
پراسیکیوٹر رانا عثمان اورڈی ایس پی لیگل، وکیل صفائی ریاست علی آزاد عدالت میں پیش ہوئے،
ریاست علی ازاد نے کہا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی عدالت کے سامنے سرنڈر کر دیتے ہیں اور پیش ہو جاتے ہیں۔
عدالت گرفتار کرکے ویڈیو لنک پر پیش کرنے کا حکم معطل کر دے، عدالت نے سماعت میں وقفہ کر دیا۔
ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے کہا کہ سوالنامہ تیار ہے، آپ کو دے دیتے ہیں، کارروائی عدالت میں ہوگی، عدالت نے وارنٹس اور ضمانت خارج کرنے کے لیے جوڈیشل آرڈر جاری کیا تھا،لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق وارنٹ واپس لیے جاسکتے ہیں۔
ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے کہا کہ موجودہ کیس میں سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہو رہی ہے، آپ اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرسکتےہیں، میں قوانین اور کیس پڑھ کر بیٹھا ہوں، ضمانت خارج کرنے کا فیصلہ واپس لے سکتا تو ضرور لیتا۔
وکیل صفائی ریاست علی نے کہا کہ ہمیں عدالت آنے کا ماحول تو دیا جائے، ضمانت خارج کیوں ہوئی؟ وجہ تو دیکھیں، عدالت اپنا فیصلہ واپس لے سکتی ہے، آپکے فیصلے کو چیلنج کوئی نہیں کرے گا کیونکہ فریقین جلد فیصلہ چاہتے ہیں۔
پراسیکیوٹر راناعثمان نے کہا کہ ہائیکورٹ ہی فیصلہ کرسکتی ہے، ملزمان جب تک سرنڈر نہیں کرتے ٹرائل کورٹ فیصلہ واپس نہیں لے سکتا۔