پائیڈ پائپر
وینز ویلا کے ساتھ جوکچھ ہوا وہ حیران کن تھا لیکن پریشان کن نہیں تھا کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ امریکا کو آسمان کی بلندیوں پر دیکھنے کی خواہش مند ہے، اس کے لیے وہ سب کچھ کرنے اور کرگزرنے کے لیے تیار ہے۔
’’ بھائی وینزویلا کے عوام خوش ہیں وہ شادیانے بجا رہے ہیں لیکن پاکستان میں لوگ تو رونے ڈال کے بیٹھ گئے ہیں؟؟‘‘
’’اور اب باری ہے ایران کی۔‘‘
یہ کمنٹس ہم جیسے محب وطن لوگوں کے لیے تکلیف دہ تھے لیکن پاکستان سے باہر خاص کر یورپی ممالک میں ہواؤں کا رخ پہلے ہی نوٹ کر لیا گیا تھا کہ اب حالات کس کروٹ پر بیٹھیں گے، لیکن پھر بھی ایسا ہو سکتا ہے، ایک اندازہ ضرور تھا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ مسائل انسانی سوچ سمجھ اور شعور پر بری طرح اثرانداز ہوتے ہیں لیکن انھیں ایک نہج پر دھکیلا جاتا ہے اور رخ اسی طرف ہو جاتا ہے۔ پھرکیا اچھا اورکیا برا سب بہتے چلے جاتے ہیں۔
عراق، لبنان کی کہانی بھی کچھ اسی طرح سے بنائی گئی۔ معمر قذافی نے لیبیا پر بیالیس سال حکومت کی، عوام کو بے بہا سہولیات فراہم کیں، صحت اور تعلیم کے شعبے میں ترقی ہوئی عوام پرسکون تھے۔
تیل کا خزانہ تھا اور راوی چین کی بنسری بجاتا تھا، پھر وہی چین و سکھ لیبیا کے عوام کے گلے کا طوق بنتا گیا۔ کہاں کہ لیبیا ایک امیر ملک قرار پایا تھا۔ جی ڈی پی کی شرح بھی خاصی بلند تھی۔
حالات مستحکم تھے لیکن اندر سے زیادہ باہر کے لوگوں میں وحشت اتری تھی کہ ایسا کیوں ہے اور پھر رخ بدلنے کی مہم چلی، کہتے ہیں کہ جب خزاں آتی ہے تو سب پر چھا جاتی ہے اور یوں خزاں کو لانے کی بھرپور تیاری کی گئی۔
پہلے کہا گیا آمرانہ نظام ہے۔ معمر قذافی اپنے آپ کو بادشاہ کہلواتا ہے اور بادشاہ کے آگے کون سر اٹھا سکتا ہے کہ سارے اختیارات ان کے پاس ہیں۔ تیل کے علاوہ دوسرے شعبوں کو نظراندازکیا گیا۔ اقربا پروری اور ایک وجہ بے روزگاری بھی بتائی جا رہی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ نیٹو کی مداخلت سے معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے لے کر اب تک حالات معمر قذافی کے دور حکومت جیسے نہیں رہے، گویا جس کو مجرم گردانا گیا سزا سنائی گئی اور فارغ کرایا گیا، عوام کو خوش خبری دے دی گئی، لیکن سکون پھر بھی نہ ملا۔
یہ ایک بدصورت مثال ہے عوام کو ہنکا کر ان کی خوش حالی کو پار لگانے کی، بہرحال وینز ویلا کی حالت کا لیبیا سے موازنہ کرنا مناسب نہیں، لیکن ایک ریل سی گھومتی ہے اور چیدہ چیدہ معاملات ابھرتے نظر آتے ہیں۔
تیل کی دولت سے مالا مال وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ پر منشیات کے حوالے سے جو الزامات کا سلسلہ چلا تو عوام میں بے چینی محسوس کی گئی کہ لہر تو ابھرتی ہی ہے پر سب سے اونچا قد رکھنے والے بہت سی اہم باتوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ایران نے وینزویلا پر اس فوجی مداخلت کے خلاف بیان بازی بھی کی تھی۔ ایران تیل کی دولت سے مالا مال ملک جو ان دنوں اندرونی انتشارکا شکار تھا لیکن اتنا جلدی ردعمل یہ ثابت کر رہا ہے کہ پلاننگ بہت پہلے سے ترتیب دی جاتی رہی تھی۔
تیل کے بڑے ذخائر رکھنے والے تین بڑے ممالک تناؤکا شکار ہیں، صرف یہی نہیں، سوڈان بھی اسی فہرست میں شامل ہے جو افریقہ میں سونے کے بڑے ذخائر رکھنے والا ملک ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ تیل کے ذخائر بھی کم نہیں ہیں، ایک ایسا ملک جسے عرب دنیا کی روٹی کی ٹوکری کہا جاتا ہے لیکن پھر بھی مسائل سے پُر، یہاں تک کہ انتشارکی صورت میں جو کچھ وہاں ہوا وہ انتہائی خوفناک تھا۔
دنیا میں قدرتی ذخائر رکھنے والے بڑے عظیم ممالک بظاہر بہت کچھ اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں لیکن وہ ممالک اس نعمت سے مستفید نہیں بلکہ اذیتوں کا شکار ہیں۔ ایک کے بعد ایک گمبھیر مسئلہ جس کے تانے بانے بیرونی طاقتوں سے الجھے نظر آتے ہیں۔
یہ طے ہے کہ دنیا بھر میں قدرتی ذخائر کا بٹوارہ کون چاہتا ہے، غریب ممالک کو مزید پستیوں میں دھکیلنے کی کوشش میں بڑی طاقتوں کے اپنے مفادات ہیں کہ ان کو اپنے زیر استعمال لانا یا ترقی کرنا ان کا حق نہیں یا برترکوئی اور ہی قوم ہے باقی دنیا حقیر ہے۔
امیری اور غریبی کے ترازو کو امریکی ڈالر کے پیمانے میں رکھنے کی کوشش انسانی فساد میں اضافہ اور جنگی ہواؤں کو تیز تر کرنے میں جتی ہے۔
دنیا ایک سرد جنگ کی جانب بڑھ چکی ہے، اس جنگ کے بڑھنے کے امکانات ٹرمپ انتظامیہ کی نااہلی کا بڑا ثبوت ہے جو ظالمانہ حد تک اپنی کارروائیوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اس ترقی یافتہ دور میں بھی دو سو سالہ پرانے دور کو دہرایا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا جہاں لمحوں میں دنیا کو خبر ہو جاتی ہے کس بے باکی سے اپنے وسائل استعمال کرتے ایک ملک پر اپنے اختیارات لاگو کرکے ان کے تیل کے ذخائر کو اپنے لیے استعمال کرتے کون روک سکتا ہے۔
کیا دنیا میں کوئی ایسی طاقت بھی ہے جو گریٹ ملک کو سمجھا سکے کہ آپ جو کر رہے ہیں وہ اخلاقیات کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ آپ کو کسی نے یہ اختیار نہیں دیا کہ آپ کسی ملک پر اپنی طاقت کے بل بوتے قبضہ کریں اور اس کے معدنی ذخائر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کریں۔
پچھلے پچھتر سالوں کی تاریخ میں یورپی ممالک کی فہرست میں برطانیہ امریکا کے ساتھ ساتھ نظر آتا تھا لیکن جس تیزی سے امریکا نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے قلابازیاں لگائی ہیں اس نے تاج برطانیہ کی پیشانی عرق آلود کر دی۔
حالیہ دنیا کے انقلابات، مسائل اور جنگی صورت حال کے پیچھے یقینا کوئی نہ کوئی ایسی طاقت پوشیدہ ہے جو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے عوام کو ہنکانے اور بہکانے پر معمور ہے۔ گویا کٹھ پتلی چلتی تو نظر آ جاتی ہے پر چلانے والا ہاتھ نادیدہ۔
عوام ایک ایسا بہتا دریا ہے جس کی ڈور اگرکسی کم عقل، نادان، اقربا پرور کے سپرد کر دی جائے تو وہ اسے پائیڈ پائپرکی مانند لے کر چلے چلا جاتا ہے اور جس طرح وہ شہر بھر کے چوہوں کو اندھے کنوئیں میں گرا کر عوام کو شریر چوہوں سے نجات دلا دیتا ہے بس اسی طرح وہ عوام کے لیے بھی ایک گڑھا تیار رکھتا ہے۔
عوام کو اس قسم کے پائیڈ پائپر سے بچانے کے لیے ان نادیدہ ہاتھوں سے محفوظ رہنا ہوگا۔ اس کے لیے ہمیں بدعنوانی اور تعصب کی عینک اتار کر ایک جانب رکھنا ہوگی۔