خاران میں دہشت گردی

گزشتہ برس فورسز کی جانب سے موثر آئی بی اوز کے ذریعے 900 دہشت گرد مارے گئے ہیں

پاکستان کے اردگرد کے حالات خاصے سنگین اور کشیدہ ہیں۔ افغانستان دہشت گردوں کی پناہ گاہ بنا ہوا ہے جب کہ ایران کی صورت حال بھی سب کے سامنے ہے۔ گو ایران کی حکومت نے مظاہروں پر قابو پا لیا ہے، امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملہ نہ کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا ہے تاہم صورت حال اب بھی خاصی پیچیدہ ہے۔

ایسے حالات میں دہشت گردوں نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کو نشانہ بنایا ہے۔ بلوچستان کے شہر خاران سٹی میں دہشت گردوں کے ایک گروہ نے کارروائیاں کی ہیں۔

انھوں نے بینک لوٹنے کی کوشش کی ہے تاہم پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کر کے دہشت گردوں کو ناکامی سے دوچار کیا ہے۔ اس کارروائی میں 12 کے قریب دہشت گرد مارے گئے ہیں۔

میڈیا کی اطلاعات کے مطابق اگلے روز سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے شہر خاران میں بھارتی سپانسرڈ فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کا بڑا حملہ ناکام بنا دیا ہے۔

جوابی کارروائی میں 12دہشت گرد ہلاک ہوگئے، آئی ایس پی آر کے مطابق تقریباً 15سے20 دہشت گردوں نے متعدد دہشت گردانہ کارروائیاں کرتے ہوئے خاران سٹی پولیس اسٹیشن اور دو قومی بینکوں کو نشانہ بنایا جس کے دوران بینکوں سے 34 لاکھ روپے لوٹ لیے گئے، دہشت گردوں کا مقصد پولیس اسٹیشن میں یرغمالی صورت حال پیدا کرنا تھا تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی سے ان کے عزائم ناکام بنا دیے۔

فورسز نے فوری ردعمل دیتے ہوئے دہشت گردوں کا تعاقب کیا جس پر وہ پسپا ہونے پر مجبور ہو گئے۔ بعدازاں کلیئرنس آپریشن کے دوران تین مختلف مقابلوں میں 12 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔

آئی ایس پی آرکے مطابق نیشنل ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن عزمِ استحکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اپنی انسداد دہشت گردی مہم پوری شدت سے جاری رکھیں گے۔

بلوچستان میں دہشت گردی کی وارداتیں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ خاران میں ہونے والی دہشت گردی کی ٹائمنگ خاصی اہم ہے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں کا مقصد بینکوں کو لوٹنا بھی تھا اور پولیس چوکیوں پر حملہ کر کے انھیں یرغمال بنانا بھی تھا لیکن وہ اپنے اس ٹارگٹ کو حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کوئٹہ میں پریس کانفرنس کے دوران خاران واقعے کی تفصیلات کو بیان کیا ہے۔

انھوں نے تصدیق کی ہے کہ خاران میں بینکوں کو لوٹنے والے دہشت گردوںکے خلاف آپریشن کے دوران 12دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ فورسز کو لیڈ کرنے والے ایک کرنل، میجر اور نائب صوبیدار زخمی ہوئے ہیں، اس پریس کانفرنس میں چیف سیکریٹری بلوچستان اور آئی جی پولیس بلو چستان ان کے ہمراہ تھے۔

وزیراعلیٰ نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اگلے روز25 کے قریب دہشت گرد مختلف راستوں کے ذریعے خاران شہر میں داخل ہوئے اور بینکوں کو لوٹنے کی کوشش کی۔

ایک بینک سے 34لاکھ روپے لوٹ کر فرار ہونے لگے، سیکیورٹی فورسز نے فوری رنسپانس دیا، اس دوران کرنل ودران، میجر عاصم اور کیو آر ایف کے نائب صوبیدار انور زخمی ہوئے جنھوں نے زخمی حالت میں بھی اپنے جوانوں کی کمانڈ کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ناپاک منصوبے کو ناکام بناتے ہوئے چار دہشت گردوں کو موقع پر ہلاک کیا اور بھاگنے والوں کا تعاقب کیا۔

جہاں پر فائرنگ کے نتیجے میں مزید آٹھ دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچایا گیا، یہ لوگ نظریئے سے شروع ہوکر اب بینک ڈکیتی تک پہنچ گئے ہیں، انھوں کہا کہ بلوچ عوام کو ایک لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے اور دہشت گرد اب عام شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو ناقابل برداشت ہے۔

ان تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کا ارادہ خاصا خطرناک تھا۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز چونکہ پوری طرح متحرک اور تیار ہیں، اس لیے دہشت گرد اپنا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

ممکن ہے کہ ان کا ارادہ شاہراہیں بند کرنے کا بھی ہو کیونکہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے اپنی پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں یہ بھی کہا ہے کہ ماضی میں بلوچستان کی شاہراہیں 7 سے 10 دن تک بند رہتی تھیں تاہم اب صورتحال بہتر ہو چکی ہے۔

اگر ایسا ہے تو یہ مثبت پیش رفت ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز بہتر کردار ادا کر رہی ہیں اور وہ مسلسل دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیس آپریشنز کر رہی ہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس حوالے سے بتایا بھی ہے کہ گزشتہ برس فورسز کی جانب سے موثر آئی بی اوز کے ذریعے 900 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ انٹر نیٹ کی بندش کے مسائل کے حل کے لیے حکومت 3 ارب روپے کی لاگت سے تعلیمی اداروں، کالجز، یونیورسٹیز، اسپتالوں اور دیگر اداروں کو فائبر آپٹک کے ذریعے منسلک کر رہی ہے۔

یہ بہت ضروری کام ہے کیونکہ بلوچستان میں جس قدر زیادہ ترقیاتی کام ہوں گے، وہاں مڈل کلاس کا پھیلاؤ ہو گا تاہم وزیراعلیٰ بلوچستان کا یہ کہنا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ٹاوروں میںفور جی چل رہا ہے جس کا کسی کو کوئی پتہ نہیں کہ کون اور کیسے استعمال کررہا ہے، یہ غور طلب بات ہے۔

دہشت گردوں کے پاس پیغام رسانی کے جدید ذرائع موجود ہیں اور وہ انھیں استعمال بھی کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے بھی ایک مؤثر حکمت عملی ہونی چاہیے تاکہ دہشت گردوں کا اطلاعاتی نیٹ ورک توڑا جا سکے۔

ادھر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔

میڈیا کی اطلاع کے مطابق انھوں نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور نے دوبارہ سر اٹھایا ہے، خوارج، ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کا گٹھ جوڑ دشمنوں کی پشت پناہی سے فعال ہے، مگر ہم دہشت گردی کو پاکستان کی سرحدوں سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیں گے۔

وزیراعظم نے قومی پیغامِ امن کمیٹی کے ارکان سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ مئی 2025 میں معرکۂ حق میں افواجِ پاکستان نے دشمن کو ایسا سبق سکھایا جو وہ کبھی نہیں بھولے گا۔ یہ کامیابی اللہ تعالیٰ کی نصرت، افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت، جدید ٹیکنالوجی اور 24 کروڑ عوام کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ جس طرح 2018 میں دہشت گردی کو شکست دی گئی تھی، اسی عزم کے ساتھ اس بار بھی اس کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

پاکستان کو جو چیلنجز درپیش ہیں، ان میں سب سے بڑا چیلنج دہشت گردی اور انتہاپسندی کو ختم کرنے کا ہے۔ جب تک پاکستان سے انتہاپسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوتا، ترقی کا سفر شروع نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کو اس وقت معاشی ترقی اور معاشی گروتھ کی ضرورت ہے۔

دہشت گرد عناصر کا بنیادی مقصد پاکستان کی ترقی کو روکنا ہے۔ انتہاپسندانہ سوچ دہشت گردوں کے لیے غذا کا کام کرتی ہے۔ انتہاپسندی خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہو، وہ سماجی ترقی کے عمل کو روکنے کا باعث بنتی ہے۔

دنیا میں کوئی ملک انتہاپسندی کی پالیسی اختیار کر کے ترقی نہیں کر سکا ہے۔ نظریاتی کٹرپن انفرادی ہو تو وہ قابل برداشت ہو سکتا ہے لیکن حکومتی سطح پر نظریاتی کٹرپن ترقی کا دشمن ہوتا ہے۔

پاکستان میں دہشت گردوں کو گلوریفائی کرنے کے مظاہرے ماضی میں بھی دیکھے گئے ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس قسم کے بیانیے کے خاتمے کے لیے سنجیدگی اور پوری قوت سے کام کیا جائے۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سماجی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ فرسودہ معاشی ڈھانچہ اور اس ڈھانچے پر استوار نظریات اور سماجی نظام ہے۔

اس نظام میں دہشت گردوں کے پنپنے کے لیے خاصی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ آج افریقہ کے کئی ممالک میں خانہ جنگی اور بدامنی کی بنیادی وجہ بھی پرانا سماجی ڈھانچہ ہے۔ قدیم طرز کا قبائلی نظام جدیدیت سے گھبراتا ہے اور اس کے خلاف مزاحمت کرتا ہے۔

یہیں سے انتہاپسندی اور کٹرپن کی ابتداء ہوتی ہے۔ آج جن ممالک میں خانہ جنگیاں ہو رہی ہیں اور وہاں غیرملکی قوتیں مداخلت کر رہی ہیں، اس کی جڑ بھی قدیم طرز کا سماجی نظام ہے۔ پاکستان کی سیاسی قیادت کو اس حوالے سے ایک مشترکہ سوچ اور لائحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے تعلیمی نظام اور تعلیمی نصاب میں تبدیلی لانا انتہائی ضروری ہے۔ جب تک تعلیمی نظام اور نصاب میں مثبت تبدیلیاں نہیں لائی جائیں گی، انتہاپسندی کا خاتمہ ممکن نہیں ہو گا۔

Load Next Story