افغان مہاجر یا سیکیورٹی خطرہ؟ یورپ میں خطرے کی گھنٹی بج گئی

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان ایک بار پھر دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے

افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد ابھرنے والی انتہا پسند سوچ یورپ سمیت مختلف خطوں کے لیے ایک سنجیدہ سیکیورٹی چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ حالیہ واقعات کے بعد یورپی ممالک میں افغان مہاجرین سے متعلق سیکیورٹی خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اور عرب نیوز کے مطابق جرمنی کے شہر میونخ میں ہجوم پر گاڑی چڑھانے والے افغان شہری کے خلاف عدالت میں مقدمے کی باقاعدہ سماعت شروع ہو گئی ہے۔

استغاثہ کے مطابق ملزم نے دانستہ طور پر لوگوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک ماں اور اس کی بیٹی ہلاک جبکہ متعدد افراد شدید زخمی ہوئے۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ مذکورہ افغان شہری پر اس سے قبل بھی دو قتل اور 44 قتل کی کوششوں کے الزامات عائد کیے جا چکے ہیں۔ واقعے کے بعد جرمن چانسلر نے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افغان مہاجرین کے خلاف سخت اور فیصلہ کن اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ اس واقعے سے ایک ماہ قبل جرمنی کے شہر آشفن برگ میں ایک اور افغان شہری نے چاقو حملے میں دو افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ اسی طرح گزشتہ برس واشنگٹن میں ایک افغان شہری کی فائرنگ سے نیشنل گارڈ کے مرد اور خاتون اہلکار جان سے گئے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان ایک بار پھر دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے، جہاں سے ہمسایہ اور دیگر ممالک کو شدید سیکیورٹی خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

Load Next Story