مودی دور میں متنازعہ قوانین: بھارت میں آزادیٔ اظہار شدید خطرات سے دوچار
بھارت میں مودی حکومت کے دور میں متنازعہ قوانین کے نفاذ اور ان کے استعمال پر ایک بار پھر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
بین الاقوامی جریدے ڈی ڈبلیو (Deutsche Welle) کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ (UAPA) کو بھارتی عوام، خصوصاً اقلیتوں کے لیے ایک خطرناک قانون کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق UAPA کے تحت افراد کو بغیر مقدمہ برسوں تک حراست میں رکھا جانا معمول بنتا جا رہا ہے۔ ڈی ڈبلیو کے مطابق دہلی فسادات کیس میں طالب علم رہنما عمر خالد اور شرجیل امام گزشتہ پانچ برس سے بغیر مقدمہ جیل میں قید ہیں، جبکہ بھارتی سپریم کورٹ نے دونوں کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔
بھارتی کمیونسٹ پارٹی کی رہنما برندا کرات نے اس صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہلی فسادات میں نامزد 18 ملزمان میں سے 16 مسلمان ہیں، جبکہ بی جے پی سے وابستہ رہنما اب تک آزاد ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی رپورٹ میں انسدادِ دہشت گردی کے متنازعہ قانون POTA (Prevention of Terrorism Act) کے ماضی میں ہونے والے مبینہ غلط استعمال کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے سابق سربراہ آکار پٹیل نے UAPA کی مبہم شقوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔