سندھ ہائیکورٹ: کراچی میں چنگچی رکشوں پر پابندی کیخلاف درخواست پر فریقین سے جواب طلب

سندھ حکومت نے ابتدائی طور پر 12 روٹس پر چنگچی رکشوں پر پابندی عائد کی تھی

کراچی:

سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے شہر کی مرکزی شاہراہوں پر چنگچی رکشوں پر پابندی کیخلاف درخواست پر آئندہ سماعت پر تمام فریقین سے جواب طلب کرلیا۔

ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو شہر کے مرکزی شاہراہوں پر چنگچی رکشوں پر پابندی کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ اسسٹنٹ کمشنر و محکمہ ٹرانسپورٹ کے افسران پیش ہوئے۔  سرکاری حکام نے جواب جمع کرانے کیلئے مہلت مانگ لی۔

درخواستگزار کے وکیل صلاح الدین گنڈاپور نے موقف دیا کہ حکومت نے 2 نوٹیفیکیشن پہلے ہی جاری کئے تھے۔ اب ایک تیسرا نوٹیفیکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ جواب آنے دیں، اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ ہوگا۔

درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ رمضان آنے والا ہے، اپریل سے پابندی کا سامنا ہے۔ رکشہ ڈرائیور معاشی تنگی کا شکار ہوگئے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ  یہ کوئی قانونی دلیل نہیں ہے، جواب آنے کے بعد آپ دلائل دیجئے گا۔

عدالت نے سماعت 4 فروری تک ملتوی کردی، عدالت نے آئندہ سماعت پر تمام فریقین سے جواب طلب کرلیا۔ درخواست میں سندھ حکومت، کمشنر کراچی، سیکریٹری ٹرانسپورٹ و دیگر فریق ہیں۔

سندھ حکومت نے کمشنر کراچی کے ذریعے ابتدائی طور پر 12 روٹس پر چنگچی رکشوں پر پابندی عائد کی تھی۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ نوٹیفکیشن میں ترمیم کرکے 30 روٹس کو بند کردیا گیا۔ شہر بھر میں 60 ہزار چنگچی رکشے چلتے ہیں۔ قوانین میں ترمیم کے بعد پابندی کا اختیار کمشنر کراچی کے بجائے بلدیاتی نمائندوں کا ہے۔

Load Next Story