سردیوں میں صبح جلدی اٹھنا مشکل کیوں ہو جاتا ہے؟ وجوہات اور آسان حل
اگر خواتین دیر سے جاگیں تو یہ عادت ان میں ڈپریشن کی وجہ بن سکتی ہے (فوٹو: فائل)
پاکستان میں جیسے ہی سردیوں کا آغاز ہوتا ہے، گھڑی میں صبح کا الارم سب سے بڑا دشمن بن جاتا ہے۔ چاہے اسکول جانے والے بچے ہوں، دفتر جانے والے ملازمین یا گھریلو خواتین، ہر کوئی یہی شکایت کرتا نظر آتا ہے کہ سردیوں میں بستر چھوڑنا ایک امتحان بن جاتا ہے۔
آخر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ گرمیوں میں جو کام آسان لگتا ہے، وہی سردیوں میں مشکل ہو جاتا ہے؟ ماہرین اس کے پیچھے کئی جسمانی اور نفسیاتی وجوہات بتاتے ہیں۔
سرد موسم اور جسم کا قدرتی ردِعمل
سرد موسم میں انسانی جسم قدرتی طور پر توانائی بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ کم درجہ حرارت میں جسم حرارت برقرار رکھنے کے لیے میٹابولزم کو سست کر دیتا ہے، جس کے باعث سستی اور نیند کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جسم صبح بیدار ہونے کے بجائے مزید آرام چاہتا ہے۔
دن چھوٹے، راتیں لمبی
پاکستان میں سردیوں کے دوران دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہو جاتی ہیں۔ سورج دیر سے نکلتا ہے اور روشنی کم ملتی ہے، جس سے جسم کے اندر موجود ’’باڈی کلاک‘‘ متاثر ہوتا ہے۔ روشنی کی کمی کی وجہ سے جسم میں میلاٹونن نامی ہارمون زیادہ بنتا ہے، جو نیند کو بڑھاتا ہے۔ یہی ہارمون سردیوں میں صبح آنکھ کھولنا مشکل بنا دیتا ہے۔
کم دھوپ اور وٹامن ڈی کی کمی
سردیوں میں دھوپ کم ملنے کی وجہ سے وٹامن ڈی کی کمی عام ہو جاتی ہے۔ وٹامن ڈی نہ صرف ہڈیوں بلکہ توانائی اور موڈ کو بہتر رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی کمی سے تھکن، سستی اور ڈپریشن جیسی علامات پیدا ہوسکتی ہیں، جو صبح جلدی اٹھنے میں رکاوٹ بنتی ہیں۔
بھاری غذا اور غیر متوازن روٹین
سردیوں میں دیسی کھانوں، تلی ہوئی اشیاء اور چکنائی والی غذا کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ رات کا بھاری کھانا نظامِ ہاضمہ پر بوجھ ڈال دیتا ہے، جس کے باعث نیند تو گہری ہو جاتی ہے مگر صبح جسم بوجھل محسوس کرتا ہے۔ اس کے ساتھ دیر سے سونا اور موبائل فون کا زیادہ استعمال بھی نیند کے معمول کو بگاڑ دیتا ہے۔
کم جسمانی سرگرمی
ٹھنڈ کے باعث لوگ ورزش اور واک سے کترانے لگتے ہیں۔ جسمانی سرگرمی میں کمی سے توانائی کی سطح کم ہو جاتی ہے، جس کا براہِ راست اثر صبح کی تازگی پر پڑتا ہے۔ جو لوگ سردیوں میں بھی ہلکی ورزش کو معمول بنائے رکھتے ہیں، وہ نسبتاً آسانی سے جاگ پاتے ہیں۔
نفسیاتی اثرات اور موڈ میں تبدیلی
سردیوں میں دھند، ابر آلود آسمان اور محدود سرگرمیاں بعض افراد میں اداسی یا بیزاری پیدا کر دیتی ہیں۔ ماہرین نفسیات کے مطابق یہ کیفیت بھی صبح اٹھنے کی خواہش کو کم کر دیتی ہے، خاص طور پر ان افراد میں جو پہلے ہی ذہنی دباؤ کا شکار ہوں۔
سردیوں میں صبح جلدی اٹھنے کے آسان اور مؤثر طریقے
ماہرین صحت کے مطابق سونے اور جاگنے کا ایک مستقل وقت مقرر کرنا سب سے مؤثر حل ہے۔ رات کو جلدی سونا اور سونے سے پہلے موبائل یا ٹی وی کا استعمال کم کرنا نیند کے معیار کو بہتر بناتا ہے۔
صبح اٹھتے ہی پردے ہٹا کر قدرتی روشنی کو اندر آنے دیں، چاہے سورج مکمل طور پر نہ نکلا ہو۔ نیم گرم پانی پینا جسم کو جگانے میں مدد دیتا ہے۔ ہلکی اسٹریچنگ یا چند منٹ کی واک خون کی روانی کو بہتر بناتی ہے۔
رات کے کھانے میں ہلکی اور متوازن غذا، جیسے سبزی، دال یا سوپ، شامل کریں۔ صبح کے لیے کپڑے پہلے سے تیار رکھنا اور کمرے کو قدرے گرم رکھنا بھی بستر چھوڑنے میں آسانی پیدا کرتا ہے۔
دیسی طریقے جو مددگار ثابت ہو سکتے ہیں
گھریلو نسخوں میں صبح سویرے ادرک والی چائے یا قہوہ پینا عام ہے، جو جسم کو گرم اور ذہن کو چاق و چوبند رکھتا ہے۔ شہد ملا نیم گرم پانی بھی توانائی بحال کرنے میں مدد دیتا ہے۔
سردیوں میں صبح جلدی اٹھنا واقعی مشکل ہوسکتا ہے، مگر یہ کوئی ناقابلِ حل مسئلہ نہیں۔ چند معمولی تبدیلیاں، بہتر نیند کا نظام اور صحت مند طرزِ زندگی اپنا کر نہ صرف جاگنا آسان بنایا جا سکتا ہے بلکہ دن کا آغاز بھی تازگی اور توانائی کے ساتھ ممکن ہے۔