پاکستان کو بائی پاس کرنا بھارت اور طالبان کیلیے ناممکن

چا بہار بندرگاہ امید کی کرن بنا مگر امریکی پابندیوں کے خوف نے اسے بھی بجھا دیا

اسلام آباد:

گزشتہ ہفتے طالبان حکومت کے تحت مقرر ہونے والے پہلے افغان ناظم الامور نور احمد نور نے نئی دہلی پہنچتے ہی بھارت کی وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔ بعد ازاں وزارتِ خارجہ نے ایک تصویر جاری کی جس میں نور احمد نور بھارت کے جوائنٹ سیکریٹری برائے پاکستان، افغانستان  و ایران کے ساتھ کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔

تصویر میں پیش کردہ منظر ایک خاموش لیکن اہم تبدیلی کی نشاندہی  کر رہے ہیں۔  وہ تبدیلی بھارت اور افغان طالبان حکومت کے درمیان تعلقات میں بڑھتی ہوئی گرمجوشی ہے۔ 

ایک طرف پاک  بھارت تعلقات منجمد ہیں اور دوسری طرف طالبان پاکستان تعلقات تیزی سے بگڑ رہے ہیں۔ ایسے میں نئی دہلی اور کابل دونوں اپنے اپنے تزویراتی مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک  ’’ ٹیکٹیکل ری سیٹ ‘‘ کو آزمانے کی طرف جاتے دکھائی دیے۔  

تاہم افغانستان بھارت کی اس قربت کو ایک سخت جیو پولیٹیکل رکاوٹ کا سامنا ہے اور وہ رکاوٹ جغرافیہ ہے۔ عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے افغانستان کا تمام تر انحصار پاکستان پر ہے۔

اس دوران کابل اور نئی دہلی نے متبادل راستے تلاش کیے۔ ان متبادل راستوں میں سب سے پرجوش منصوبہ ایران کی چاہ بہار بندرگاہ تھی۔ افغانستان اور بھارت کو چا بہار منصوبے سے ثمرات ملنے کی امید پیدا ہوئی تھی۔ 

تاہم اب وہ امیدیں دم توڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔ ایران پر ممکنہ امریکی پابندیوں کے خوف سے بھارت خاموشی سے چاہ بہار میں فعال شمولیت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ 

پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ جوہر سلیم نے اس حالیہ پیش رفت کو بھارت کی خارجہ پالیسی کے ایک گہرے تضاد کی علامت قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا چا بہار کو  سیاسی طور پر ضرورت سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تھا۔  اب ہم جو دیکھ رہے ہیں وہ تزویراتی خودمختاری  کے نام پر بھارت کی تزویراتی منافقت کا ایک اور مظہر ہے۔

جوہر سلیم نے کہا یہ تصور ہی شروع سے ناقص تھا۔ پاکستان کو بائی پاس کرنے کا یہ خیال ہمیشہ عملی سے زیادہ سیاسی رہا ہے۔ جغرافیہ کو خواہشات سے نہیں بدلا جا سکتا۔ چاہ بہار کو صرف ایک متبادل کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا لیکن یہ کبھی بھی گوادر کی لاجسٹک سہولیات کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔

ایران میں پاکستان کے سابق سفیر آصف درانی نے بھی اسی تشخیص کی تائید کی اور رابطوں کی معاشیات پر خاص زور دیا۔ انہوں نے کہا چا بہار کی تکمیل پر بھارت کو معلوم ہوا کہ یہ راستہ اقتصادی طور پر فائدہ مند نہیں اور کراچی بندرگاہ یا واہگہ کے زمینی راستے کے مقابلے میں 40 سے 45 فیصد زیادہ مہنگا ہے۔

بھارت چا بہار میں اپنی شمولیت کم کر دیتا ہے تو کابل کے پہلے سے محدود تجارتی آپشنز مزید سکڑ جائیں گے جو اسے دوبارہ پاکستان کی بندرگاہوں، سڑکوں اور ٹرانزٹ انفراسٹرکچر پر انحصار کی طرف دھکیل دیں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق تمام تر علامتی اہمیت کے باوجود بھارت ۔ طالبان روابط کے گرد موجود جغرافیہ  و معاشیات کی تلخ حقیقتیں اور بیرونی دباؤ  ہی حتمی نتائج کی تشکیل کرتے رہیں گے۔

Load Next Story