مودی سرکار کے اصل عزائم بے نقاب، ہندوتوا کے نام پر بھارت میں مسلمانوں پر منظم تشدد

دی وائر کا کہنا ہے کہ ہندو انتہا پسند عناصر مذہب کے نام پر غریب مسلمانوں کو کھلے عام تشدد کا نشانہ بناتے ہیں

بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف نفرت، تشدد اور انتہا پسندی ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئی ہے۔

بھارتی جریدے دی وائر کی ایک تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں ہندوتوا نظریے کے تحت منظم انداز میں شدت پسندی کو فروغ دیا جا رہا ہے، جسے ناقدین مودی حکومت کی سیاسی حکمتِ عملی قرار دے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف ہونے والے مظالم محض انفرادی واقعات نہیں بلکہ ایک منظم سیاسی اور نظریاتی رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔ دی وائر کا کہنا ہے کہ ہندو انتہا پسند عناصر مذہب کے نام پر غریب مسلمانوں کو کھلے عام تشدد کا نشانہ بناتے ہیں، جبکہ ریاستی ادارے اکثر خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔

دی وائر کے مطابق بی جے پی سے وابستہ کئی رہنما اور کارکن مسلمانوں کو غدار قرار دینے یا نفرت انگیز بیانات دینے میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مودی حکومت اپنی بدعنوانی اور سنگین کرپشن سے توجہ ہٹانے کے لیے ہندوتوا کے نام پر سیاست کر رہی ہے۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ ہندوتوا پسند عناصر جھوٹ، فریب اور مذہبی نعروں کے ذریعے اربوں روپے کی مالی بدعنوانیوں میں ملوث رہے ہیں، تاہم گودی میڈیا ان حقائق کو عوام کے سامنے لانے میں ناکام رہا ہے۔ دی وائر کے مطابق بی جے پی اکثر مسلمانوں پر حملوں کا الزام خود متاثرین پر ڈال دیتی ہے۔

متعلقہ

Load Next Story