سانحہ گل پلازہ؛ انتظامی ناکامیوں پر مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب نے سوالات اٹھا دیے
سانحہ گل پلازہ پر سنگین انتظامی ناکامیاں سامنے آنے پر مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن نے سوالات اٹھا دیے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گل پلازہ میں پیش آنے والے آتشزدگی کے سانحے پر ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں آگ پر قابو پانے میں ناکامی افسوسناک اور شرمناک ہے۔
مفتی تقی عثمانی نے اپنے بیان میں سوال اٹھایا کہ گل پلازہ میں آگ لگنے کے بعد بروقت امدادی کارروائیاں کیوں نہ ہو سکیں اور مدد تاخیر سے کیوں پہنچی۔ انہوں نے کہا کہ چند ہی گھنٹوں میں قیمتی انسانی جانیں بے بسی کے عالم میں ضائع ہو گئیں ، متعدد متوسط درجے کے تاجر اربوں روپے کے نقصان سے قلاش ہو گئے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس سانحے کی غیر جانبدار اور بے لاگ تحقیق ناگزیر ہے تاکہ اصل وجوہات سامنے آ سکیں۔ مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ حفاظتی انتظامات کو مضبوط اور مؤثر بنانا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، البتہ جن افراد نے مشکل حالات میں انسانی جانیں بچانے کی کوشش کی وہ قابلِ تحسین ہیں۔
انہوں نے واقعے میں جاں بحق ہونے والے افراد اور ان کے لواحقین کے لیے دعا بھی کی۔
دریں اثنا ممتاز عالم دین مفتی منیب الرحمان نے بھی گل پلازہ سانحے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو نے ایوان صدر میں سندھ حکومت کی کارکردگی بیان کی، مگر گل پلازہ کی آگ نے ان کے تمام دعووں پر پانی پھیر دیا۔
مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ تاجر تنظیموں کے مطابق گل پلازہ سانحے میں کم از کم 3 ارب روپے کا نقصان ہوا، جو ایک بہت بڑا معاشی دھچکا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ 3 کروڑ آبادی کے شہر میں آگ بجھانے کا مؤثر نظام کیوں موجود نہیں ؟
اپنے بیان میں مفتی منیب الرحمان نے جاں بحق افراد کی مغفرت، لواحقین کے لیے صبر جمیل اور متاثرین کے لیے بہتر نعم البدل کی دعا کی۔