جماعت اسلامی کا وزیراعلیٰ سندھ سے استعفے کا مطالبہ، ملین مارچ کا اعلان
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے سانحہ گل پلازہ پر وزیر اعلیٰ سندھ سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے یکم فروری کو کراچی میں ملین مارچ کا اعلان کردیا۔
منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ یکم فروری کو کراچی میں ملین مارچ نکالیں گے، سارے ڈسٹرکٹ میں لوگوں کو دعوت دیں گے، کیا کراچی کے لوگ کبھی آگ تو کبھی گٹر میں گرتے رہیں گے؟، وزیر اعلیٰ سندھ کو اب استعفیٰ دے دینا چاہئے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آرمی چیف نے کہا تھا کراچی میں ایک سسٹم کام کرتا ہے وہ سسٹم اسلام آباد چلا گیا تو اب کس سے گلہ کریں گے، جو کراچی میں اس مافیا کو لائے ہیں وہی اس کا صفایا بھی کریں، کراچی میں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کام کرتی تو سانحہ گل پلازہ رونما نہ ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ پانی بجھانے والی گاڑیاں دیر سے گل پلازہ پہنچیں پھر گاڑیوں میں پانی اور ڈیزل نہیں تھا، فائر فائٹرز کے پاس کٹس نہیں تھیں، سندھ حکومت والے ہزاروں ارب روپے کھا گئے لیکن فائر فائٹرز کو جدید آلات نہیں دے سکے، تین ہزار تین سو ساٹھ ارب روپے کہاں گئے؟۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بلاول بھٹو نے ونڈر بوائے سمجھنا شروع کردیا ہے، بلاول بھٹو ونڈر بوائے بننے کیلئے میجک شو کرتے رہے، بلاول کی بریفنگ کرپشن کارکردگی اور لوٹ مار گل پلازہ میں جل رہی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پنجاب حکومت بلدیاتی انتخابات کے کالے قانون کو واپس لے، عوامی ریفرنڈم میں ستانوے فیصد لوگوں نے اس کالے قانون کو مسترد کیا ہے، اگر ہماری بات کو نہ مانا گیا تو پنجاب اسمبلی کا گھیراؤ بھی کیا جائے گا۔