سورج سے خارج ہوئی شدید لپٹوں سے امریکا و یورپ جگمگا اٹھے
اتوار کے روز سورج کی خارج کردہ شدید لپٹوں کے سبب 19 اور 20 جنوری کی درمیانی شب یورپ اور امریکا کے آسمان رنگین روشنیوں سے جگمگا اٹھے۔
ماہرینِ موسمیات کے مطابق پیر کے روز شدید متاثر ہونے والی زمین کی مقناطیسی فیلڈ کے سبب شمالی روشنیوں کو امریکا کے مخصوص علاقوں کے بجائے الاباما اور شمالی کیلیفورنیا جیسی دیگر جنوبی ریاستوں میں بھی دیکھا جا سکے گا۔
نیشنل اوشیئنک اینڈ ایٹماسفیرک ایڈمنسٹریشن (این او اے اے) نے خبردار کیا ہے کہ سال کے پہلے سولر فلیئر کے سبب ہونے والا شدید جیو میگنیٹک طوفان ممکنہ طور پر ٹیکنالوجی (بشمول والٹیج کنٹرول اور سیٹلائٹ آپریشنز) کے لیے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
این او اے اے حکام کا کہنا تھا کہ امریکا میں شمالی اور وسطی ریاستوں میں رہنے والے افراد رات کے وقت اورورا کو دیکھ سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق ارورا کو ملک کا شمالی حصہ دیکھ سکے اور ممکنہ طور پر جنوب میں یہ الاباما سے لے کر شمالی کیلیفورنیا تک دیکھا جا سکے گا۔
جیومیگنیٹک طوفان اتوار کے روز سورج کی خارج کردہ شمسی لپٹوں اور مقناطیسی فیلڈز کے سبب پیش آیا۔ سورج کی ان لپٹوں کی شدت کو ایکس 1.95 کا درجہ دیا گیا۔
سورج سے خارج ہونے والا چارجڈ ذرات کا یہ بادل 24 گھنٹے سے کم وقت میں زمین تک پہنچا اور 19 اور 20 جنوری کی درمیانی شب اس سبب بننے والے ارورا کا روس، یوکرین، بیلاروس، مغربی یورپ اور شمالی امریکا میں مشاہدہ کیا گیا۔