سانحہ گل پلازہ کے متاثرہ تاجروں کو صدر پارکنگ پلازہ میں جگہ دی جائے، گورنر سندھ
فوٹو فائل
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرہ دکانداروں کو صدر میں قائم خالی پارکنگ پلازہ کی عمارت میں منتقل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے میئر کراچی کو خط لکھنے کا اعلان کردیا۔
گورنر سندھ نے تاجر برادری کے نمائندوں کے ہمراہ گورنر ہاؤس میں پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ گل پلازہ ایک بڑا المیہ ہے اور اس موقع پر پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے متاثرہ تاجروں کی عملی مدد ہونی چاہیے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ میئر کراچی کو خط لکھیں گے تاکہ پارکنگ پلازہ میں متاثرہ تاجروں کو عارضی طور پر کاروبار کرنے کی اجازت دی جا سکے۔
گورنر سندھ نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے اپیل کی کہ وہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ساتھ مل کر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔
انہوں نے کہا کہ گل پلازہ انتظامیہ کے صدر سے بھی بات ہونی چاہیے تاکہ معلوم ہو سکے کہ معاملات کس طرح چل رہے تھے۔
کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ وہ وزیراعظم پاکستان سے بھی درخواست کریں گے کہ وہ کراچی آئیں اور وفاقی سطح پر فنڈز کے حصول کے لیے بات کریں۔
انہوں نے سندھ حکومت کی جانب سے ایک کروڑ روپے کے معاوضے کے اعلان کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔
گورنر سندھ نے پاک نیوی کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاک نیوی کے اہلکار 20 منٹ میں جائے وقوعہ پر پہنچے اور ریسکیو آپریشن میں بھرپور کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ شہر 70 فیصد ریونیو دیتا ہے، پھر بھی ہمیں بار بار دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑتا ہے، جو لمحہ فکریہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جذبے کی کوئی کمی نہیں، خود دیکھا کہ تمام اداروں کے افسران اور اہلکار دل سے کام کر رہے تھے۔
گورنر سندھ نے اس موقع پر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور ڈاکٹر فاروق ستار کی بھی تعریف کی جنہوں نے اسمبلی میں چار گھنٹے اس مسئلے کو بھرپور انداز میں اٹھایا۔
کامران ٹیسوری نے متاثرہ تاجروں کو یقین دہانی کرائی کہ وہ وزیراعظم کے علاوہ خصوصی اور ایم این اے فنڈز لاکر اُن کا ازالہ بھی کریں گے۔
گورنر سندھ نے کہا کہ اگر اس کیس کی فائل بغیر کسی نتیجے کے روایت کے مطابق بند کرنے کی کوشش کی گئی تو کم از کم میں استعفی دے دوں گا کیونکہ ہمیں منصب پر رہنے کی وجہ سے اللہ کو جواب دینا ہے۔