سردیوں میں بچوں کی روزمرہ روٹین کیسے بہتر بنائیں؟ والدین کے لیے مفید رہنمائی

بچوں کی روٹین اس طرح ترتیب دیں کہ ان کی صحت بہتر رہے اور پڑھائی و ذہنی نشوونما بھی متاثر نہ ہو

سردیوں کا موسم جہاں بڑوں کے لیے سستی اور کاہلی لے کر آتا ہے، وہیں بچوں کی روزمرہ روٹین بھی بری طرح متاثر ہو جاتی ہے۔ صبح دیر سے اٹھنا، اسکول جانے میں سستی، کھانے پینے میں بے ترتیبی اور موبائل یا ٹی وی کے سامنے زیادہ وقت گزارنا عام مسئلہ بن جاتا ہے۔

سرد موسم میں والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کی روٹین کو اس طرح ترتیب دیں کہ نہ صرف ان کی صحت بہتر رہے بلکہ پڑھائی اور ذہنی نشوونما بھی متاثر نہ ہو۔

سرد موسم بچوں کی روٹین کو کیوں متاثر کرتا ہے؟

سردی میں درجہ حرارت کم ہونے کے باعث بچوں کا جسم زیادہ آرام طلب کرتا ہے۔ دھند اور کم دھوپ کی وجہ سے نیند کے ہارمون میں اضافہ ہو جاتا ہے، جس سے بچے دیر تک سونا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹھنڈے فرش، ٹھنڈا پانی اور صبح کی خنکی بھی بچوں کو بستر چھوڑنے سے روکتی ہے، خاص طور پر نرسری اور پرائمری کلاس کے بچوں میں یہ مسئلہ زیادہ دیکھا جاتا ہے۔

سونے اور جاگنے کا متوازن شیڈول بنائیں

والدین کے لیے سب سے اہم قدم یہ ہے کہ بچوں کے سونے اور جاگنے کا وقت باقاعدہ اور مستقل رکھیں۔ سردیوں میں رات کو تھوڑا جلدی سلا دینا بہتر ہوتا ہے تاکہ صبح جاگنا آسان ہو۔ سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے موبائل، ٹی وی اور ٹیبلیٹ کا استعمال بند کروا دیں کیونکہ اسکرین کی روشنی نیند میں خلل ڈالتی ہے۔

صبح کا آغاز خوشگوار بنائیں

بچوں کو اچانک جگانے کے بجائے آہستگی سے اٹھائیں۔ نیم گرم پانی سے منہ دھلوانا یا ہلکے گرم کپڑوں میں لپیٹ کر جگانا بچوں کو سردی کے جھٹکے سے بچاتا ہے۔ اگر ممکن ہو تو صبح ہلکی دھوپ میں چند منٹ کھڑا کرنا بھی فائدہ مند ہے، جس سے جسم متحرک ہوتا ہے۔

غذائیت سے بھرپور ناشتہ معمول بنائیں

سردیوں میں بچوں کی توانائی برقرار رکھنے کے لیے مضبوط ناشتہ بے حد ضروری ہے۔ انڈہ، دودھ، دلیہ، حلوہ، پراٹھا یا سبزی کے ساتھ روٹی جیسے دیسی آپشنز بچوں کو دن بھر متحرک رکھتے ہیں۔ ناشتہ چھوڑنے سے نہ صرف کمزوری ہوتی ہے بلکہ توجہ بھی متاثر ہوتی ہے، جس کا اثر پڑھائی پر پڑتا ہے۔

مناسب لباس اور تہہ دار کپڑوں کا انتخاب

اکثر والدین یا تو بچوں کو حد سے زیادہ گرم کپڑے پہنا دیتے ہیں یا بالکل لاپرواہی برتتے ہیں۔ تہہ دار لباس بہترین حل ہے تاکہ ضرورت کے مطابق کپڑے کم یا زیادہ کیے جا سکیں۔ سر، کان اور سینہ ڈھانپ کر رکھنا نزلہ زکام سے بچاؤ میں مدد دیتا ہے، خاص طور پر اسکول جانے والے بچوں کے لیے۔

ہلکی جسمانی سرگرمی کو معمول کا حصہ بنائیں

سردیوں میں بچے زیادہ وقت گھر کے اندر گزارتے ہیں، جس سے جسمانی سرگرمی کم ہو جاتی ہے۔ والدین گھر کے اندر ہی ہلکی پھلکی ورزش، رسّی کودنا، بال کھیلنا یا سادہ ایکسرسائز کروا سکتے ہیں۔ یہ سرگرمیاں بچوں کو چاق و چوبند رکھنے کے ساتھ ساتھ نیند بھی بہتر بناتی ہیں۔

اسکرین ٹائم کو محدود کریں

ٹھنڈ کی وجہ سے بچے موبائل اور ٹی وی کی طرف زیادہ راغب ہو جاتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ اسکرین ٹائم کے لیے واضح حدود مقرر کریں اور اس کے بدلے کہانی سنانا، ڈرائنگ، پزل یا بورڈ گیمز جیسی سرگرمیاں متعارف کروائیں، جو بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے بھی مفید ہیں۔

دیسی ٹوٹکے جو بچوں کے لیے فائدہ مند ہیں

سردیوں میں بچوں کو نیم گرم دودھ میں شہد یا تھوڑا سا ہلدی ملا کر دینا عام ہے، جو قوتِ مدافعت بہتر کرتا ہے۔ سونے سے پہلے پاؤں میں سرسوں یا زیتون کے تیل کی ہلکی مالش بھی بچوں کو سکون دیتی ہے اور نیند بہتر بناتی ہے۔

والدین کا رویہ سب سے اہم

یاد رکھیں کہ بچے والدین کی نقل کرتے ہیں۔ اگر والدین خود ایک منظم روٹین اپنائیں گے تو بچے بھی آہستہ آہستہ اس کے عادی ہو جائیں گے۔ سختی کے بجائے نرمی اور حوصلہ افزائی کے ساتھ بچوں کی روٹین بہتر بنانا زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔

سردیوں میں بچوں کی روزمرہ روٹین متاثر ہونا فطری بات ہے، لیکن تھوڑی سی توجہ، مناسب منصوبہ بندی اور محبت بھرے رویے سے نہ صرف بچوں کی صحت بہتر رکھی جا سکتی ہے بلکہ ان کی تعلیمی اور ذہنی کارکردگی بھی برقرار رہتی ہے۔ ایک متوازن روٹین بچوں کو سرد موسم میں بھی متحرک، خوش اور صحت مند رکھتی ہے۔

Load Next Story