خدا کا وجود… دلائل اور شواہد (چوتھی قسط)

اب عقل ماننے لگی ہے کہ اس کا کیس بہت مضبوط ہے۔ اُدھر قافلہء ملحدین کی جانب یا مکمل خاموشی ہے یا اندھیرا ہے۔

zulfiqarcheema55@gmail.com

انتہائی پاکیزہ کردار کا حامل انتہائی سچا اور حق گو انسان چالیس سال تک اپنی چھوٹی سی بستی مکّہ میں عام لوگوں جیسی زندگی گذارتا رہا اور عام لوگوں جیسی باتیں کرتا رہا۔ مگر اچانک ایک روز اس نے بستی کے لوگوں کو یہ بتا کر حیران کردیا کہ ’’زمین وآسمان کو ایک عظیم الشان ہستی نے تخلیق کیا ہے، وہ پوری کائنات کا خالق بھی ہے اور کنٹرولر بھی ہے۔

خالق انسانوں کو تخلیق کرکے ان سے بے نیاز ہو کر نہیں بیٹھ گیا بلکہ وہ ہر انسان کے ہر عمل کی خبر رکھتا ہے۔ اس دنیا کو اس نے انسانوں کا امتحان لینے کے لیے پیدا کیا ہے، اس کے خاتمے کے بعد وہ اپنا دربار لگائے گا اور وہ یومِ حساب ہوگا جب ہر انسان کے اعمال کے مطابق اس کی جزا اور سزا کا فیصلہ ہوگا‘‘۔

ظاہر ہے کہ مجھ جیسا عقل اور شعور رکھنے والا انسان ایسی باتیں کرنے والے کی جانب ضرور متوّجہ ہوگااوراس کی بات ماننے یا نہ ماننے سے پہلے دیکھے گا کہ چالیس سال تک اس شخص نے کبھی معمولی سا بھی جھوٹ نہیں بولا، اب اگر اس کی بات غلط ہے تو اسے اتنا بڑا جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت پیش آئی ہے؟ اس کا اصل مقصدکیا ہے؟ وہ ایک انتہائی معاندانہ ماحول میں نہ صرف خود اپنے موقف پر قائم رہا بلکہ دوسروں کو بھی اپنے نظرئیے کا قائل کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ ایسا کرنا خونخوار بھیڑیوں کے منہ میں ہاتھ دینے کے مترادف تھا، مگر وہ ایسا کر گذرا۔ اس پر ظلم اور جبر کے پہاڑ توڑے گئے مگر وہ اپنے موقف پر ڈٹا رہا۔اسے کہاگیا کہ وہ ایسی باتیں کہنا چھوڑدے،اگر وہ اپنے نظرئیے کا پرچار نہ کرے تو پورے عرب کی سرداری اور سب سے خوبصورت عورت اسے سونپ دی جائے گی۔

 یہ اس زمانے اور حالات کے مطابق سب سے دلکش آفرز تھیں مگر اس نے ہر پیشکش کو ٹھکرادیااور اس کے پائے استقامت میں معمولی سی بھی لرزش پیدا نہ ہوئی۔ وہ تکالیف سہتا رہا مگر اپنے موقف پر قائم رہا۔ اب ایک باشعور شخص یہ دیکھے گا کہ اس کا مفاد یا motive  کیا ہے؟ میں قانون کا طالب علم ہوں جس میں کوئی چیز ثابت کرنے کے لیے  conduct اور  motive بنیادی اہمیّت رکھتے ہیں۔ اگر اس کا کوئی دنیاوی مفاد ہوتا تو وہ اتنی دلکش آفرز قبول کرلیتا، مگر اس نے تمام پیشکشیں مسترد کرکے نہ صرف مصیبتوں کو گلے لگالیا بلکہ اپنی اور اپنے جانثاروں کی جان کو خطرے میں ڈال دیا۔ آخر کیوں؟

اب یہ دیکھا جائے گا کہ وہ اس پیغام کے ذریعے اپنے لیے کون سی مراعات یا کون سا اسٹیٹس طلب کررہا ہے۔ ممکن ہے کچھ لوگوں کا خیال ہو کہ وہ شاید اپنے لیے مقامِ خدا کا طلب گار ہو۔ مگر وہ جو کلام اور پیغام سناتا ہے اس میں تو اس کے لیے صرف ’’ پیغام بر‘‘ کی ذمّے داری کا ذکر ہے۔ اس نے کائنات کی حقیقتوں یا روزِ قیامت کے بارے میں بھی کسی قسم کا علم یا اختیار رکھنے کا کوئی دعویٰ نہیں کیا۔ وہ تو ہر سوال کا یہی جواب دیتا ہے کہ ’’ہر چیز کی خبر اور علم رکھنے والا صرف اﷲ ہے۔ میں تو صرف اس کا پیغام آپ تک پہنچاتا ہوں‘‘۔اب میں یہ سوچوں گا کہ ایک انتہائی حق گو انسان کسی دنیاوی مفاد کے بغیر اتنی تکلیفیں برداشت کررہا ہے مگر معمولی سی بھی لچک دکھانے کے لیے تیار نہیں،آخر کیوں؟ یہ تبھی ہوسکتا ہے جب اسے اپنے پیغام کی صداقت پر ہزار فیصد یقین ہو۔

اتنا حق گو اور بے لوث شخص جو پیغام سنارہا ہے، وہ بھی حیرت انگیزاور غیرمعمولی ہے۔ اور پھر یہ دیکھ کر تواس کے مخالفین بھی حیران وششدد رہ گئے، کہ پیغامبر نے خدائی حکومت میں کوئی اختیار رکھنے کا دعویٰ نہیں کیا۔ اس پر بستی کے صاحبانِ دانش آپس میں کہنے لگے کہ یہ اب جس نوعیّت کی باتیں کررہا ہے، یہ صرف اس کی نہیں، یہ تو مکہ کے ہر شخض کی علمی اور عقلی سطح سے بہت بلند ہیں۔ یہ انسانی پیدائش کے مختلف مدارج بتارہا ہے۔

یہ انصاف کی اور انسانوں کے درمیان برابری کی بات کرتا ہے، عورتوں اور یتیموں کے حقوق بتا رہا ہے اور یہ جو اس نے وراثت کا پورا قانون بناکر دے دیا ہے، اس طرح کا پیچیدہ اور منصفانہ قانون تو عرب کے قابل ترین افراد اکٹھے مل کر بھی نہیں بناسکتے۔ اب اندر سے وہ اس کے دعوے کے قائل ہورہے ہیں اور ان کا نظریّہء الحاد پر اعتقاد ڈگمگانے لگا ہے، ہر نئی وحی آنے کے ساتھ گروہِ منکرین پر لرزہ طاری ہوجاتا ہے اور نظریۂ الحاد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگتا ہے۔ اس لیے فیصلہ ہوتا ہے کہ سرزمینِ عرب کے زبان و بیان کے تمام ماہرین اور شعراء کو کہا جائے کہ اس کلام کا توڑ پیش کریں۔ اِدھر یہ منصوبے بن رہے ہیں اور اُدھر وحی اترتی ہے کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا کر لاؤ، سب اکٹھے ہوکر اس جیسی ایک آیت ہی بنا کر لے آؤ۔ بڑے بڑے لسّان یہ چیلنج سن کر گنگ ہوجاتے ہیں، کوئی ایک بھی یہ چیلنج قبول کرنے کی ہمّت نہیں کرتا۔

اس کے ساتھ ہی کچھ عمر رسیدہ اسکالرز کی زبانی پتہ چلتا ہے کہ یہ پیغام پہلی بار انسانوں کو نہیں سنایا جارہا، بلکہ ہزاروں سال پہلے وقت کے ایک جلیل القدر انسان ابراہیم نے، جو اسی کی طرح سچّا اور حق گو تھا اپنی بستی کے لوگوں کو ہو بہو ایسا ہی پیغام سنایا تھا کہ زمین و آسمان کو کسی اور نے نہیں اﷲ نے تخلیق کیا ہے، تمام انسانوں کو اس کے سامنے پیش ہونا پڑ ے گا جہاں ان کے اعمال کے مطابق جزا اور سزا کا فیصلہ ہوگا۔ اس کے صدیوں بعد ایک اور غیر معمولی شخصیّت نے بالکل ویسا ہی پیغام اس وقت کے انسانوں تک پہنچایا۔ اُس کا نام موسیٰ تھا اور پھر سیکڑوں سالوں بعد ایک اور جلیل القدر ہستی عیسیٰ اِبن مریم نے انسانوں تک یہی پیغام پہنچایا، اس کے بنیادی نقاط بھی یہی تھے۔ اس کا مطلب ہے، صرف پیغامبر بدلتے رہے مگر سورس ایک ہی ہے یعنی پیغام بھیجنے والی ہستی اور اس کا پیغام ایک ہی ہے۔

مکّہ میں جو پیغام سنایا گیا ہے، اس میں بھی واضح طور پر کہا گیا ہے کہ یہ پیغام نیا نہیں۔ یہی پیغام ہم پہلے پیغامبروں کے ذریعے بھیج چکے ہیں۔ بات دل کو چھو رہی ہے، یہ سارے حقائق ، شواہد اور واقعاتی شہادتیں (circumstantial evidence) پیغامبر کا کیس مضبوط بنارہی ہیں۔ پوری کوشش کے باوجود مخالفین نہ پیغامبر میں کوئی کمزوری ڈھونڈ سکے اور نہ پیغام میں کوئی جھول تلاش کر سکے ہیں ۔اگر اب تک کی شہادتوں کا جائزہ لیں یعنی سب سے پہلے پیغامبرکا previous conduct  یعنی اس کے طرزِ عمل کا جائزہ لیں تو پورے عرب میں اس کے پائے کا سچّا اور پاکیزہ کردار انسان کوئی نہیں، پھر motive کا جائزہ لیں تو پوری کوشش کے باوجود مخالفین اس کا کوئی دنیاوی مفاد تلاش نہیں کرسکے ۔

پورے عرب کا حکمران بننے کے بعد بھی اس کا طرزِ زندگی انتہائی سادہ رہا اور اکثر اس کے ہاں ون ڈش یعنی ایک سالن بھی نہیں پکتا تھا۔اور پھر جو پیغام وہ سنارہا ہے، وہ بھی نیا بھی نہی۔ جو پیغام صدیوں سے کچھ اور جلیل القدر اور سچّے افراد انسانوں تک پہنچاتے رہے، یہ اُسی کا تسلسل ہے۔ اب عقل ماننے لگی ہے کہ اس کا کیس بہت مضبوط ہے۔ اُدھر قافلہء ملحدین کی جانب یا مکمل خاموشی ہے یا اندھیرا ہے۔

ان سے صرف یہی پوچھ لیا جائے کہ آپ انسانی جسم کے ایک عضو، جگر کے بارے میں حتمی طور پر بتادیں کہ کیا جگر خود بخود بن گیا ہے اور اس کے سارے functions اپنے آپ ہی شروع ہوگئے ہیں؟ تو کوئی ایک سائینسدان یا ماہرِ اجسام یہ نہیں کہے گا کہ یہ خود بخود ہی سب کچھ کررہا ہے۔ وہ اب مانتے ہیں کہ اس کے پیچھے کسی کی سوچ اور منصوبہ بندی کار فرما ہے۔ کس کی ہے؟ اس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ۔مگر دوسری جانب واضح جواب موجود ہے کہ صرف انسانوں کو نہیں پوری کائنات کو ایک عظیم الشان ہستی نے پیدا کیا ہے۔ اس ہستی کا مکمل تعارف بھی کرایا جاتا ہے اور انسانوں کو پیدا کرنے کا مقصد بھی بتایا جاتا ہے۔

اب گروہِ ملحدین کے پاس نہ ماننے کی صرف ایک دلیل رہ جاتی ہے کہ مانا کہ پیغامبر کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ اس کا کوئی دنیاوی motive بھی نہیں، اس ذمّے داری کے باعث اس نے ایک پرامن اور خوشحال زندگی چھوڑ کر اپنے لیے بے پناہ مصیبتیں مول لے لی ہیں اور جان خطرے میں ڈال لی ہے۔ اس کا پیغام بھی انسانی نہیں آسمانی لگتاہے۔ جس کی صداقت کی گواہیاں صدیوں سے دی جارہی ہیں مگر ہم خالق یا اﷲ کو اُس وقت مانیں گے جب اسے آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔

اس پر کچھ اہلِ دانش نے ان ملحدین سے کہا کہ ’’کچھ حقیقتیںعینی شہادت نہیں واقعاتی شہادت کی بناء پر تسلیم کی جاتی ہیں، جس طرح آپ اپنے باپ کے خانے میں جو نام لکھتے ہیں، وہ تو آپ آنکھوں سے یا ڈی این اے کے دیکھے بغیر صرف ماں اور باپ کی بات مان کر یقین کرلیتے ہیں، تو ہم دنیا بھر کے والدین سے زیادہ سچّے اور اُجلے کردار کی حامل ہستی محمدﷺ کی بات پر کیوں یقین نہ کریں جب کہ یہاں تو corroborative evidence (تائیدی شہادت) بہت مضبوط ہے۔ ‘‘

(جاری ہے)

نوٹ: اگلا کالم اس موضوع پر آخری کالم ہوگا جس میں زمین و آسمان تخلیق کرنے والی عظیم الشان ہستی اور اس کے پیغام کی صداقت پر بات ہوگی۔  

Load Next Story