صفحۂ اول
تازہ ترین
بجٹ
کھیل
فیفا ورلڈکپ
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
رائٹر پر جذبات غالب آجائیں تو حقائق پامال ہوجاتے ہیں۔
بلاشبہ بھٹو صاحب قابل اور مقبول بہت تھے مگر ملک کے زیادہ تر سیاستدانوں کی طرح ان کا کوئی ٹھوس نظرّیہ نہیں تھا۔
مصنّف نے ’’دوسری تقسیم۔ سوری مسٹر جناح‘‘ کے عنوان سے لکھے گئے چھٹے باب میں 1970 کے انتخابات اور اس کے نتائج اور مضمرات پر بحث کی ہے۔
کیا بنیاد کے بغیر کوئی عمارت کھڑی کی جاسکتی ہے؟ ہر گز نہیں۔
ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔
آغا شورش کا شمیری کے بعد اگر کسی صحافی نے سب سے جاندار نثر لکھی ہے تو وہ ہارون الرشید ہیں۔
سچّی اور بے لاگ بات تو یہ ہے کہ پچھلی چھ دہائیوں میں صحافت کا سب سے معتبر حوالہ اور جیّد نام وہی تھا جسے تین دن پہلے منوں مٹی تلے اُتار دیا گیا۔
آج سے ایک سال پہلے صورتحال بہت مختلف بلکہ تشویشناک تھی۔ پاکستان کے بارے میں بھارتی حکمرانوں خصوصاً نریندر مودی کا روّیہ انتہائی حقارت آمیز تھا۔
اس بارلاہور میں قیام خاصا طویل رہا اور اپریل کے آخری دس روز بے حد مصروف گذرے۔
ترقی یافتہ قومیں اپنے لیے جو ترجیحات طے کرتی ہیں، ان میں سڑکوں اور میٹرو بسوں وغیرہ کی اہمیّت ضرور ہے مگر سب سے بڑی ترجیح نہیں ہے۔