سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم

وفاقی یا صوبائی بجٹ میں عوام یا معاشرے کے پسے ہوئے اور معاشی دبائو کا شکار طبقے کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا جو بے حد افسوسناک ہے۔


[email protected]

مرکز اور صوبوں کے بجٹ پاس ہوگئے ہیں، قومی اور صوبائی اسمبلیوںکے کئی ارکان نے بہت اچھی اور قابلِ عمل تجاویز دیں، مگر یوں محسوس ہوتا تھا کہ حکومت کے ذمے داران نہ تو یہ تجاویز سننے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور نہ ہی ان پر عمل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ عوام تو پہلے ہی اس پراسیس سے لاتعلق ہوچکے ہیں، اگر ایسی ہی صورتحال رہی تو ممبران بھی پارلیمنٹ کی کارروائی میں دلچسپی لینا اور قانون سازی میں مثبت کردار ادا کرنا چھوڑ دیں گے۔

وفاقی یا صوبائی بجٹ میں عوام یا معاشرے کے پسے ہوئے اور معاشی دباؤ کا شکار طبقے کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا جو بے حد افسوسناک ہے۔ معاشی طور پر کمزور طبقوں کو ریلیف دینے میں کبھی صوبۂ پنجاب سب سے آگے ہوا کرتا تھا مگر اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پنجاب میں کمزور طبقوں کے مسائل حل کرنا حکمرانوں کی ترجیحات میں ہی نہیں ہے۔

پنجاب ایک زرعی صوبہ ہے، یہاں کے کسان مسلسل زیادتیوں کا شکار ہورہے ہیں، مگر کسی کو ان کی داد رسی مطلوب نہیں۔ مظلوم کسانوں کے علاوہ ایک بہت بڑا طبقہ سرونگ اور ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کا ہے۔ ہر سال بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں کم از کم دس فیصد اور ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں بھی اتنا ہی اضافہ کیا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ نام نہاد اضافہ اونٹ کے منہ میں زیرے کی حیثیّت رکھتا ہے کیونکہ بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوچکا ہے اور اس اضافے کے مقابلے میں پنشن میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے مگر پھر بھی نہ ہونے سے نمک کی ایک چٹکی بھی بہتر ہے۔

بلوچستان جیسے چھوٹے اور پسماندہ صوبے نے بھی سرکاری ملازمین کی پنشن میں سات فیصد اضافہ کیا ہے، خیبر پختونخواہ میںبھی پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، سندھ میں تو غالباً دس فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ دوسرے تینوں صوبوں نے سات فیصد اضافہ کیا ہے مگر لوگ یہ دیکھ کر حیران اور ششدد ر رہ گئے ہیں کہ سب سے امیر صوبے کی حکومت کو بے چارے پنشنرز کے لیے سات فیصد کا معمولی اضافہ بھی منظور نہیں اور حکومت نے پنشن میں صرف ساڑھے تین فیصد اضافہ کیا ہے، شاید حکومت سمجھتی ہے کہ سات فیصد اضافہ ان کی اوقات سے زیادہ ہے۔ اتنا اضافہ کیا تو یہ بوڑھے فضول خرچی پر اتر آئیں گے اور اس عمر میں خراب ہو جائیں گے، سب سے امیر صوبہ اور اپنے ملازمین کو سب سے کم ریلیف۔ اس تنگ دلی پر بے چارے پنشنرز پنجاب حکومت کو یہی کہہ سکتے ہیںکہ

سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم

بخیلی ہے یہ فیاضی نہیں ہے

یاد رہے کہ گریڈ 17 سے بیس تک سات فیصد اضافہ تین ہزار سے دس ہزار تک ہی بنتا ہے، اس سے زیادہ نہیں۔

وہ سرکاری ملازمین جنھوں نے اپنی جوانی اور اپنی صلاحیتیں اس صوبے کی نذر کی ہیں ،کیا صوبے کو چلانے والوں کے دل میں ان کے لیے کوئی ہمدردی نہیں۔ یاد رکھیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کی مختلف حیثیتیں اور مختلف روپ تھے، یہ استاد تھے تو علی الصبح سائیکلوں، موٹرسائیکلوں اور بسوں کے ذریعے تعلیمی درسگاہوں میں پہنچتے اور کئی دہائیوں تک طلبا کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرتے رہے۔ یہ طبیب تھے تو اپنی ذہانت، قابلیت اور مہارت بروئے کار لاکر مریضوں کا علاج کرتے رہے اور انھیں معاشرے کے صحت مند انسان بناتے رہے۔

یہ انجینئر تھے تو عوام کی سہولت کے لیے بڑی بڑی عمارتیں، سڑکیں، پل، اسپتال، اسکول اور کالج تعمیر کرتے رہے، اور بجلی کے بڑے بڑے کھمبے ایستادہ کرکے عوام کو روشنی اور ٹھنڈی ہوائیں مہیّا کرتے رہے، ان میں سے کئی اپنے فرائض کی ادائیگی میں جاں سے بھی گذر گئے۔ ان میں عوام کے جان اور مال کے محافظ بھی ہیں، جو شہریوں کی جانیں بچانے کے لیے اپنی جانیں قربان کرتے رہے۔ یہ جب جوان تھے تو کئی دھائیوں تک حکومت نے ان کی جسمانی قوت، ذہانت، مہارت اورتجربے سے استفادہ کیا، اور اب وہ بوڑھے ہوگئے ہیں تو کیا حکومت کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ ان سے منہ موڑ لے، حکومت اگر ایسا کرتی ہے تو یہ صریحاً نا انصافی اور زیادتی ہے۔ پنشن پر گزارہ کرنے والوںکو ایسے سلوک کی ہرگز توقع نہیں تھی۔ پنجاب حکومت کو ایسے طرزِ عمل کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پنجاب حکومت تنخواہ اور پنشن دونوں میں دس فیصد اضافہ کرتی۔ مگر وہ سات فیصد کا بھی آدھا کر رہی ہے جو انتہائی نامناسب بلکہ ظلم ہے۔

دوسری طرف دیکھیں تو حکمرانوں کے اپنے اللے تللے اسی طرح قائم ہیں، انتہائی مہنگی لگژری گاڑیاں اور مہنگے جہاز بھی خریدے جا رہے ہیں، ضلعی افسروں کے دفتر دیکھیں تو لگتا ہے دبئی کے سیون اسٹار ہوٹل ہیں، سرکاری دفتروں میں رشوت عام ہے اور انصاف ناپید ہے۔کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اربوں روپے ان پراجیکٹس پر لگائے جا رہے ہیں جن کی نہ ضرورت ہے اور نہ ہی عوام کی طرف سے مطالبہ ہے۔ہاں اگر پنجاب حکومت کے پاس پیسے نہیں ہیں تو مظلوم کسانوں کی اجناس خریدنے کے لیے نہیں ہیں، اساتذہ کو مناسب معاوضہ دینے کے لیے نہیں ہیں اورریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن کے لیے نہیں ہیں، مگر بے فائدہ پراجیکٹس پر اربوں روپے اڑائے جارہے ہیں، اس طرح کے فیصلے کرنے والوں کو پہلے لوگوں کی بد دعائیں ملیں گی اور اس کے بعد انھیں عوام کی نفرت کا سامنا کرنا ہوگا۔حکمرانوں کو اب بھی سنبھل جانا چاہیے اور کمزور طبقوں سے زیادتی کرنے کے بجائے ان کے سر پر ہاتھ رکھنا چاہیے، وہ حکومت کی ہمدردی کے مستحق ہیں۔

حکمرانوں کویہ بات پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ پینشن کوئی خیرات نہیں ہے، یہ ایک سرکاری ملازم کی تیس پینتیس سال کی خدمات کا عوضانہ ہے۔ دنیا بھر میں نہ صرف ریاستیں اپنے ملازمین کو ایک خاص عمر کے بعد look after کرتی ہیں بلکہ قابلِ اعتماد ادارے، تنظیمیں اور کمپنیاں بھی اپنے ملازمین کو ایک خاص عرصے تک ملازمت کرنے کے بعد پنشن دیتی ہیں۔

یو این او میں صرف پانچ سال نوکری کرنے والا پنشن کا حقدار قرار پاتا ہے۔ بہت سے دوسرے ادارے دس سال سروس کرنے والے کو پینشن اور دوسری مراعات دیتے ہیں۔ فوج سے ریٹائر ہونے والے ملازمین اور ان کی فیمیلیز کو بہترین اسپتالوں (سی ایم ایچ) میں مفت علاج کی سہولت حاصل ہے، سول ملازمین کو ایسی کوئی سہولت حاصل نہیں ہے۔ سیکڑوں اور ہزاروں ریٹائرڈ ملازمین ایسے ہیں جن کا اور کوئی ذریعۂ آمدن نہیں ہے اور وہ صرف پینشن پر ہی گذارا کرتے ہیں اور اسی سے اپنی اور اپنی بوڑھی اہلیہ کی دوائیوں کا بندوبست کرتے ہیں اور بجلی اور گیس کے بل بھی ادا کرتے ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر وزیراعلیٰ پنجاب کو چاہیے کہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے سر پر ہاتھ رکھیں، ان کی پینشن کم از کم دس فیصد بڑھائیں، نہ کہ دوسرے صوبوں سے آدھی کردیں۔

چند روز پہلے ترکی کے صدر طیّب ردوان کابیان نظر سے گذرا جس میں انھوں نے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پینشن پاکستان سے کئی گنا بڑھا دی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’’ہم اپنے بزرگوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ اس عمر میں ان کا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے‘‘۔ کیا وزیراعلیٰ پنجاب، صدر طیب اردوان کی طرح ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کو اپنا بزرگ تسلیم کرتی ہیں، اور انھیں look after کرنااپنا فرض سمجھتی ہیں ؟