کالعدم ایکشن کمیٹی اور 9 جولائی کی کال

آزاد کشمیر کی کالعدم ایکشن کمیٹی کی پانچ جولائی کی مظفر آباد لانگ مارچ کی کال ایک دفعہ پھر ناکام ہو گئی ہے۔


مزمل سہروردی July 07, 2026
[email protected]

آزاد کشمیر کی کالعدم ایکشن کمیٹی کی پانچ جولائی کی مظفر آباد لانگ مارچ کی کال ایک دفعہ پھر ناکام ہو گئی ہے۔ اور کالعدم ایکشن کمیٹی کا دھرنا راولا کوٹ سے باہر نہیں نکل سکا ہے۔ یہ چوتھی دفعہ ہے کہ مظفر آباد لانگ مارچ کی کال دی گئی ہے۔ اور نا کام ہو گئی ہے۔ چاروں دفعہ ناکامی کی ایک ہی وجہ ہے کہ لوگ نہیں آئے۔ جب لوگ باہر نہیں آتے تو دھرنا راولا کوٹ تک محدود رکھنا ان کی مجبوری بن جاتی ہے۔ اب کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے نو جو لائی کی دوبارہ کال دی گئی ہے۔

اعلان کیا گیا ہے کہ نو جولائی کے پروگرام کا اعلان آٹھ جولائی کو کیا جائے گا۔ سب کو علم ہے دوبارہ مظفر آباد جانے کی ہی کال دی جائے گی۔ کالعدم ایکشن کمیٹی کے دو ہی ہتھیار ہیں۔ پہلا مظفر آباد پہنچ کر اقتدار کے ایوانوں پر قبضہ کر لیا جائے۔ جیسے تحریک انصاف بھی ماضی میں کوشش کرتی رہی ہے۔ دوسرا پاکستان اورآزاد کشمیر کے درمیان جو راستے ہیں انھیں بند کر دیا جائے۔ ان کا بنیادی نعرہ ماضی میں یہی رہا ہے کہ بند کردو، سب کچھ بند کر دو۔ ماضی کے دو دھرنوں میں یہ کوہالہ کے پل پر پہنچ کر کوہالہ کا پل بند کر دیتے رہے ہیں۔ لیکن اس بار انھیں راستے بند کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔

بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ راستے بند کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں۔ اس لیے نو جولائی کو یہ مظفر آباد جانے اور راستے بند کرنے کی ہی کوشش کریں گے۔ لیکن انھیں اندازہ ہے کہ ا س بار قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایسی حکمت عملی ترتیب دی ہوئی ہے کہ اب تک ایک ماہ میں ان کے یہ دو مقاصد ناکام ہی رہے ہیں۔ پانچ جولائی کو بھی یہ اس میں ناکام رہے ہیں اور اب نو جولائی کو بھی یہ اس کی کوشش کریں گے۔ ایک اور کوشش جس میں کالعدم ایکشن کمیٹی ناکام رہی ہے ، وہ لاشوں کی سیاست ہے۔ انھوں نے بہت کوشش کی ہے کہ انھیں لاشیں مل جائیں اور وہ لاشوں کی سیاست کر سکیں۔

تصادم کا بہت ماحول بنایا گیا ہے۔ لیکن قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے فی الحال ایک مرطوب حکمت عملی کے تحت ان کی یہ کوشش ناکام بنائی ہے۔ وہ ایک ماہ سے راولا کوٹ بیٹھے ہیں، انھیں وہاں بیٹھنے دیا گیا ہے۔ کوئی بڑا ایکشن نہیں کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے تصادم نہیں ہو سکا ہے۔ تاہم راولاکوٹ میں انھوں نے جو دھرنا دیا ہوا ہے اسے بھی روکا نہیں جا رہا ہے۔ ایک ڈیڈ لاک ہے جو کالعدم ایکشن کمیٹی کو اب اپنے لیے بہت نقصان دہ محسوس ہو رہا ہے۔ انھیں اندازہ ہوگیا ہے کہ وہ اب لمبے عرصہ تک راولا کوٹ بیٹھ نہیں سکتے۔ انھیں اندازہ ہوگیا ہے کہ ان کو اب حکومت سے کوئی ڈیل نہیں مل رہی۔ حکومت کی سادہ پالیسی ہے کہ کوئی بات ہی نہیں کرنی۔ اب ان کے جو مطالبات ہیں ان پر بات ہی نہیں ہو سکتی۔

اس لیے ان کے لیے ایک ہی راستہ ہے کہ یہ خود ہی آرام سے گھر چلے جائیں۔  دوسری طرف تنظیم کالعدم ہو چکی ہے، مقدمات بحال ہو چکے ہیں، قیادت پر انعام ہے۔ سب کھیل خراب ہو چکا ہے۔ اس لیے وہ خالی ہاتھ گھر نہیں جانا چاہتے۔ انھیں گھر جانے کے لیے کم از کم ایک این آر او چاہیے، جو انھیں ہر بار آسانی سے مل جاتا تھا۔ لیکن اس بار نہیں مل رہا ہے۔ این آر او تو ہر بار میز پر موجود رہا تھا، اس بار نہیں ہے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ موجودہ صورتحال میں نو جولائی کو کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے لاشوں کی سیاست کی تیاری کی جا رہی ہے، انھیں اب لاشوں کے سوا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔ وہ مظفر آباد پہنچ نہیں سکتے، راستے بند کر نہیں سکتے، اس لیے لاشیں ہی ان کو حل نظر آرہا ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ راولا کوٹ کے دھرنے کے اطراف میں کالعد م ایکشن کمیٹی کے مسلح کارکن پہنچ گئے ہیں۔

وہ خود ہی ہوائی فائرنگ کر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے تصادم کا ماحول بنا رہے ہیں۔ پانچ جولائی کو بھی تصادم نہیں ہو سکا ہے۔ تاہم نو جولائی کے لیے تصادم کی تیاری نظر آرہی ہے جو بہت خطرناک ہے۔ کالعدم ایکشن کمیٹی کے ایک ماہ سے جاری دھرنے کی وجہ سے آزاد کشمیر میں پٹرول اور دیگر اشیا کی قلت بھی نظر آرہی ہے۔ ٹرانسپورٹرز کا مطالبہ ہے کہ پہلے دھرنا ختم کیا جائے وہ پھر آزاد کشمیر میں چیزیں لائیں گے۔ ان کے ٹرک لوٹ لیے جاتے ہیں، ان کو نقصان پہنچایا جاتا ہے، آگ لگا دی جاتی ہے۔ اس لیے پاکستان سے ٹرانسپورٹرز نے آزاد کشمیر جانے کی غیر علانیہ ہڑتال کی ہوئی ہے۔ اب آزاد کشمیر کے عوام بھی ان کے دھرنے سے تنگ آگئے ہیں۔ پہلے دو تین دن میں معاملہ ختم ہوجاتا تھا، جیت جاتے تھے۔ اس بار ایک ماہ سے کچھ نہیں ہوا۔ اس لیے لوگ تنگ آگئے ہیں۔

کالعدم ایکشن کمیٹی کے لیے آزاد کشمیر کے انتخابات بھی ایک مسئلہ بن گئے ہیں۔ ہر حلقہ میں انتخابی مہم شروع ہو گئی ہے۔ امیدواران میدان میں آگئے ہیں۔ جلسے جلوس ریلیاں شروع ہو گئی ہیں۔ آزاد کشمیر بنیادی طور پر قبیلہ اور برادریوں میں تقسیم علاقہ ہے۔ وہاں الیکشن بھی قبیلہ اور برادری کی بنیاد پر ہی ہوتے ہیں۔ اس لیے انتخابی مہم نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے دھرنے میں عوام کی دلچسپی کم کی ہے۔ لوگ انتخابات کی طرف متوجہ ہوگئے ہیں۔ لوگ حلقوں میں پہنچ گئے ہیں۔ کالعدم ایکشن کمیٹی نے انتخابات ملتوی کروانے کی بہت کوشش کی لیکن ان کی یہ کوشش بھی ناکام رہی۔ انتخابات کو بروقت کروانے کی حکمت عملی بھی کامیاب نظر آرہی ہے۔ ریاست کو اس کا فائدہ ہو رہا ہے۔

سیاسی جماعتیں انتخابات میں مصروف ہو گئی ہیں۔ کالعدم ایکشن کمیٹی کا ایشو کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ اس لیے میری رائے میں اب نو جولائی کو معاملہ فائنل ہو سکتا ہے۔ اگر تو کالعدم ایکشن کمیٹی لاشیں لینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو انھیں لگے گا کہ انھیں مظلومیت کا کارڈ مل جائے گا۔ ورنہ کھیل ختم۔ اس لیے نو جولائی فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔ ریاست کے پاس بھی کوئی راستہ نہیں، انھیں ہر حال میں روکنا ہے۔ انھیں آگے بڑھنے نہیں دیا جا سکتا۔ یہ مزید راولا کوٹ بیٹھنے کے لیے تیار نہیں۔ اس لیے فائنل راؤنڈ کی باری آگئی ہے۔

جہاں تک بیرون ملک ہونے والے جلوسوں اور ریلیوں کی بات ہے۔ تحریک انصاف کی مثال سامنے ہے۔اس سے کچھ نہیں ہوتا۔ نہ پہلے کچھ ہوا ہے نہ اب ہوگا۔ اس کا نقصان ہی ہوتا ہے۔ تحریک انصاف کو بھی نقصان ہی ہوا ہے۔ ان کو بھی نقصان ہی ہوگا۔ انتخابات بروقت ہو گئے۔ نئی حکومت بن گئی تو کھیل بدل جائے گا۔ شائد ایشوز ہی بدل جائیں گے۔ مہاجر نشستوں کے انتخابات ہو جائیں گے جو کالعدم ایکشن کمیٹی کی شکست ہوگی۔ معاملہ پھر اگلے پانچ سال پر چلا جائے گا۔