تجزیہ کاروں کے مطابق پیپلز پارٹی حکومت پر دباؤ بڑھا رہی ہے جب کہ قومی اسمبلی میں بلاول بھٹو کی تقریر سوائے انتخابی مہم کے کچھ نہیں ہے ۔ سابق وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے تو قومی اسمبلی میں (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کو جنم جنم کا ساتھی قرار دیا ہے، جب کہ جنم جنم کے ایک ساتھی کا دوسرے ساتھی کے ساتھ یہ رویہ قطعی طور نہیں ہوتا جو عام انتخابات سے ڈھائی سال قبل ہی پیپلز پارٹی نے اختیار کر رکھا ہے اور اسی رویے کی وجہ سے پیپلز پارٹی نے جی بی میں اپنا وزیر اعلیٰ منتخب کرا لیا ہے اور اب بلاول بھٹو کی تیاری جولائی میں آزاد کشمیر کے الیکشن میں کامیابی حاصل کرنا ہے، جس کے لیے وہ عملی طور حالات بہتر ہوتے ہی آزاد کشمیر جا کر اپنی انتخابی مہم کا آغاز کریں گے جہاں چند ماہ قبل ہی پیپلز پارٹی نے اپنا وزیر اعظم (ن) لیگ کی حمایت سے منتخب کرایا تھا جس سے پی پی کو انتخابی مہم میں سرکاری پروٹوکول اور سرکاری مراعات بھی میسر آئیں گی۔
گلگت بلتستان میں (ن) لیگی قیادت کی کوششوں کے باوجود وہ وہاں الیکشن نہیں جیت سکے اور اب مسلم لیگ ن نے آزاد کشمیر الیکشن کے لیے اپنے امیدوار نامزد کر دیے ہیں جب کہ پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کالعدم کر دیا ۔ کالعدم کمیٹی نے آزاد کشمیر میں جولائی میں انتخابات کرانے کی مخالفت کی ہے ۔ وفاق میں برسر اقتدار مسلم لیگ (ن) نہیں چاہے گی کہ جولائی کے الیکشن ملتوی ہو جائیں کیونکہ جولائی میں الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کو اپنی کامیابی اور پیپلز پارٹی کو اپنی واضح شکست نظر آ رہی ہے کیونکہ آزاد کشمیر الیکشن میں پیپلز پارٹی کو وہ خوش گوار حالات میسر نہیں جو (ن) لیگ کی سیاسی کمزوری سے پی پی کو جی بی میں میسر آئے تھے۔
پیپلز پارٹی کو یہ موقعہ حاصل ہے کہ ملک کا صدر ان کا اپنا شریک چیئرمین ہے۔ پیپلز پارٹی کے پاس پی پی چیئرمین بلاول بھٹو اور خاتون اول آصفہ زرداری جیسی قدآور شخصیات موجود ہیں جب کہ ذاتی اقتدار کے بغیر میاں نواز شریف کا انتخابی مہم چلانا مشکل دکھائی دیتا ہے جب کہ مسلم لیگ ن کی دیگر قیادت نے جی بی الیکشن میں دلچسپی ہی نہیں لی تھی مگر اب آزاد کشمیر میں تو جی بی جیسی صورت حال نہیں اور مسلم لیگی قیادت آزاد کشمیر جا کر انتخابی جلسے کر سکتی ہے۔
مسلم لیگ ن کی قیادت انتخابی جلسوں میں عوام کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور وہ اس وقت حکمران بھی ہے۔ بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو کی سندھ، بلوچستان، جی بی اور آزاد کشمیر میں حکومتیں ہیں جو وفاقی حکومت پر حاوی ہیں۔ اس لیے بلاول بھٹو نے (ن) لیگی حکومت پر دباؤ بڑھانے کی پالیسی پر کامیابی سے عمل شروع کر رکھا ہے اور کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ جیسے بلاول بھٹو کی تقاریر وفاقی حکومت کے خلاف انتخابی مہم کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں اور پیپلز پارٹی مزید ڈھائی سال انتظار کرنے کے موڈ میں نہیں اور اس نے وفاق پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
بلاول بھٹو جی بی اور قومی اسمبلی میں تو وفاقی حکومت پر تنقید کرتے رہے مگر یہ موقعہ اب انھیں آزاد کشمیر میں میسر نہیں جہاں ان کی اپنی حکومت ہے، وہ اپنی حکومت کی بجائے بعض وفاقی وزیروں پر مشکلات بڑھانے کا الزام لگا رہے ہیں جب کہ اصل ذمے دار کون ہے سب کو معلوم ہے۔
رانا ثنا اللہ کے مطابق وفاقی حکومت نے ایکشن کمیٹی کے زیادہ تر مطالبات منظور کر لیے ہیں اور کالعدم کمیٹی کے ساتھ معاہدے پر پیش رفت ہوئی ہے۔ وفاقی حکومت کو دباؤ میں رکھنے کے لیے الزامات لگانے والی پیپلز پارٹی کی قیادت اپنی آزاد کشمیر حکومت کیبعض فیصلوں سے خود دباؤ میں ہے مگر مشکلات بڑھانے کا الزام چند وفاقی وزیروں پر لگایا جا رہا ہے ۔ وفاق اور بلوچستان میں حکومتی حلیف پیپلز پارٹی اور اس کے چیئرمین وفاق پر الزامات لگا رہے ہیں مگر سندھ میں اپنی حکومت پر ان کی توجہ نہیں۔
وفاق پر دباؤ ڈال کر پیپلز پارٹی کینالز منصوبہ ختم کرا سکتی ہے جو سالوں سے اہم مسئلہ بنا ہوا ہے ۔ حیدرآباد، سکھر موٹروے کی تعمیر کے لیے وفاق پر دباؤ کیوں نہیں ڈالا جا رہا اور صرف الزام تراشی کی جا رہی ہے سکھر حیدرآباد موٹروے منصوبہ پی پی حکومت میں بڑی کرپشن کی نذر ہو چکا جس میں بعض بڑے افسر گرفتار بھی ہوئے جنھوں نے اربوں روپے کی جو کرپشن کی اس رقم سے تو موٹروے سندھ حکومت خود بنا سکتی تھی۔ جائز مطالبات منوانے کے لیے دباؤ قانونی طور جائز ہے مگر سیاسی دباؤ ہمیشہ کامیاب نہیں رہتا۔