پاکستان میں ٹریفک حادثات اور ان میں مرنے والے افراد کی تعداد شاید دہشت گردی کی وارداتوں میں مارے جانے والوں سے زیادہ ہو گی۔ کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب کہیں نہ کہیں کوئی حادثہ نہ ہوتا ہو۔ صرف ٹریفک حادثات ہی نہیں بلکہ سیر وسیاحت کے لیے جانے والے افراد بھی اپنی غلطی یا ڈرائیور کی غلطی کی وجہ سے جان لیوا حادثے کا شکار ہوتے ہیں۔
یہ سلسلہ برسوں سے جاری ہے لیکن ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لیے جن ضروری اقدامات اور قوانین کی ضرورت ہوتی ہے، وہ آج تک وضع نہیں ہو سکے۔ اگر وضع ہوئے ہیں تو ان پر مؤثر انداز میں عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ بڑے شہروں کے اندر سب سے زیادہ حادثات کا شکار موٹرسائیکل سوار ہوتے ہیں۔
موٹرسائیکل کی سواری زندگی کا رسک بن چکی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کم عمر موٹرسائیکل سوار ایک الگ داستان ہیں۔ کم عمر موٹرسائیکل سوار نہ صرف خود حادثات کا شکار ہوتے ہیں بلکہ اپنے ساتھ دیگر لوگوں کو بھی حادثے میں لپیٹ لیتے ہیں۔ ملک کے نوے فیصد موٹرسائیکل سواروں کے پاس ٹریفک لائسنس نہیں ہوتا۔ اگر کسی کے پاس ٹریفک لائسنس ہے بھی تو اسے ٹریفک قوانین کا کوئی علم نہیں ہوتا اور نہ ہی اسے روڈ سینس ہوتی ہے۔ اگر بین الصوبائی شاہراہوں کا ذکر کیا جائے تو وہاں بھی آئے روز حادثات ہوتے رہتے ہیں۔
کہیں کوئی ٹرالر کسی مسافر بس سے ٹکرا جاتا ہے تو کہیں کوئی مسافر بس پہاڑی علاقوں میں غلط ڈرائیونگ کے باعث حادثے کا شکار ہو جاتی ہے۔ اگلے روز بلوچستان اور خیبر پختونخواء کی سرحد پر ضلع ژوب کے علاقے دانہ سرکے مقام پر بس گہری کھائی میں گر گئی جس کے نتیجے میں خواتین و بچوں سمیت 40 مسافر جاں بحق اور 8 زخمی ہوگئے۔ یہ حادثہ انتہائی افسوسناک ہے کیونکہ اس میں 40 مسافر جاں بحق ہوئے ہیں جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔
اب یہ حادثہ کیوں ہوا؟ اس کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا البتہ میڈیا میں اس حوالے سے بہت سی باتیں سامنے آئی ہیں۔ مقامی پولیس کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی مسافر بس کوئٹہ سے پشاور جارہی تھی، بریک فیل ہونے کے باعث حادثہ پیش آیا۔ ادھر وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون شاہد رند کے حوالے سے میڈیا نے بتایا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بس میں زیادہ مسافر سوار تھے، حادثہ کا شکار ہونے والی بس میں پیچھے خراب ہوئی بس کے مسافر بھی سوار تھے۔
ان سے یہی لگتا ہے کہ کہیں نہ کہیں کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے۔ اگر گاڑی کے بریک فیل ہوئے ہیں تو یہ بھی غفلت ہی ہے کیونکہ لمبی روٹ پر جانے والی بسیں، روانگی سے پہلے پوری طرح چیک کی جاتی ہیں۔ ان کی بریکس اور دیگر تکنیکی معاملات کو دیکھا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس مسافر بس کی مکمل جانچ نہیں کی گئی تھی۔ اگر بس میں مسافر زیادہ ہیں، ہلاکتوں کی تعداد سے بھی یہی لگتا ہے کہ بس میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار تھے۔
کیونکہ یہ بھی بات سامنے آئی ہے کہ اس بس میں ایک اور بس کے مسافر بھی سوار ہوئے کیونکہ وہ خراب ہو گئی تھی۔ اگر ایسا ہے تو پھر بھی ڈرائیور اور کنڈیکٹر وغیرہ کی غفلت سامنے آتی ہے۔ اس میں مسافروں کا بھی کہیں نہ کہیں قصور نظر آتا ہے۔ پاکستان میں عموماً چند ایک بڑی بس کمپنیوں کے سوا باقی لوکل بسیں ایس او پیز کا کوئی خیال نہیں رکھتیں۔ بسوں کے ڈرائیورز کی صحت کے حوالے سے بھی بہت سے سوالات اٹھتے ہیں۔ اکثر ڈرائیورز تھکے ہوئے ہوتے ہیں جو دوران ڈرائیونگ سو بھی جاتے ہیں۔ بہرحال ضلعی انتطامیہ اور متعلقہ افسران حادثے کی وجو ہات کا تفصیل جائزہ لے رہے ہیں، جب تک حادثے کی مکمل تحقیقات ہو نہیں جاتیں، اس وقت تک حادثے کی وجوہات کے بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں دی جا سکتی۔
دانہ سر قومی شاہراہN-50 پر واقع ایک اہم پہاڑی درہ ہے، جو بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے درمیان مرکزی زمینی رابطے کا کردار ادا کرتا ہے۔یہ مقام ژوب سے تقریبا 35 کلومیٹر اور ڈیرہ اسماعیل خان سے لگ بھگ 130 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ پاکستان میں عموماً شاہراہوں کی حالت بھی اچھی نہیں ہوتی۔ خاص طور پر پسماندہ صوبوں میں شاہراہوں کی صورت حال خاصی خراب ہوتی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں سڑکیں زیادہ چوڑی نہیں ہوتیں۔ بہرحال معاملہ کچھ بھی ہو یہ حادثہ انتہائی دل شکن ہیں۔
اس حادثے کی پوری تحقیقات ہونی چاہئیں کیونکہ میڈیا میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ شاید ڈرائیور نے جان بوجھ کر بس کو حادثے کا شکار کیا ہے۔ ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان کے ضلع ژوب میںدانہ سر کے مقام پر بس حادثے میں زخمی ہونے والے ایک مسافر نے ڈرائیور پر کوچ جان بوجھ کر کھائی میں گرانے کا الزام عائد کردیا۔ اس نے ویڈیو بیان میں بتایا کہ بس ڈرائیور ایرانی ڈیزل کے ڈبے لے کر پشاور جا رہا تھا، ڈیزل کے ڈبے شیرانی کے مقام پر چیک پوسٹ پر پکڑے گئے تھے۔
زخمی مسافر کے مطابق ڈرائیور کی اس معاملے پر مسافروں سے مبینہ تلخ کلامی ہوئی، زخمی مسافر نے الزام عائد کیا کہ تلخ کلامی کے بعد ڈرائیور نے جان بوجھ کرکوچ کھائی میں گرادی۔ یہ بات کہاں تک سچ ہے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا البتہ اس حوالے سے بھی تحقیات ضرور ہونی چاہئیں تاکہ وجوہات کا مکمل طور پر پتہ لگ سکے۔
پاکستان میں صرف ٹریفک حادثات ہی نہیں ہوتے بلکہ ناقص تعمیرات کی وجہ سے چھتیں بھی گرتی ہیں۔ مون سون کے دوران پہاڑی علاقوں میں جو سیاح سیر کے لیے جاتے ہیں وہ بھی بہت حادثات ہوتے ہیں۔ گزشتہ دنوں شمالی علاقے میں سیاحوں کی ایک کشتی ڈوبی تھی جس میں کئی لوگ جاں بحق ہوئے تھے۔ لاہور میں بھی ایک ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق ہو گئے تھے جب کہ ایک جگہ دیوار گرنے سے ایک بچہ جاں بحق ہو گیا تھا۔
ادھر ایک خبر کے مطابق لاہور میں 135 سرکاری اسکولوں کی حالت مخدوش ، پانچ ہزار نان رجسٹرڈ اسکولز اور پچاس ہزار سے زائد نجی اکیڈمیاں تاحال مانیٹرنگ سے محروم ہیں جب کہ شہر کی تین سو پچاس نجی عمارتوں کو پہلے سے ہی خطر ناک قرار دیا جاچکا ۔ لاہور میں اس وقت گیارا سو سرکاری اسکول اور پانچ ہزار رجسٹرڈ نجی اسکول چل رہے ہیں مگر ان عمارتوں کے فٹنس سرٹیفیکیٹ کے اجراء کی ذمے داری تاحال کوئی سرکاری محکمہ نہیں لے رہا۔
محکمہ تعلیم کے پاس کوئی ایسا میکنیزم موجود نہیں جس سے عمارتوں کی سالانہ یا ششماہی حالت کا جائزہ لیا جاسکے۔ یہ جواز اپنی جگہ ٹھیک ہوں گے لیکن سوال یہ ہے کہ باقی سرکاری ادارے کیا کام کر رہے ہیں؟ کیا محکمہ تعلیم اپنا وہ کام کر رہا ہے جس کے لیے وہ بنایا گیا ہے؟ کوئی عمارت درست تعمیر ہو رہی ہے یا نہیں ہو رہی، یہ دیکھنا محکمہ تعلیم کا کام نہیں بلکہ تعمیرات کو دیکھنے کے لیے باقاعدہ الگ محکمہ اور اسٹاف موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ محکمہ درست کام کر رہا ہے؟ دوسری جانب ٹیوشن سینٹر بند کرنے سے معاملہ حل نہیں ہو سکتا۔
اس میں ایک سوال یہ پیدا ہو جاتا ہے کہ جو مہنگے اسکول اور کالجز ہیں، کیا وہاں معیاری تعلیم دی جا رہی ہے؟ بہرحال وزیر اعلیٰ پنجاب متحرمہ مریم نواز شریف نے سانحہ کاہنہ میں جاں بحق بچوں کے دکھی والدین سے ملاقات کی ہے۔ انھوں نے متاثرہ والدین کو پرسادیا ، غمزدہ ماں کو گلے لگا کر دلاسہ دیا ۔ وزیر اعلیٰ نے دادرسی کے لیے سانحہ کاہنہ کے ہر جاں بحق بچے کے لیے 20 لاکھ اور زخمیوں کے لیے 5 لاکھ روپے کے چیکس دکھی خاندانوں کے سپرد کیے۔
متاثرہ خاندانوں کو دلاسہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ٹیوشن سینٹر میں جب ایک اینٹ گری تھی تو بچوں کو فوری طور پر چھٹی دے دینی چاہیے تھی، آپ کا دکھ اتنا بڑا ہے کہ میرے پاس لفظ ہی نہیں ہیں ، اللہ تعالیٰ آپ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے ، اللہ تعالی کی طرف سے آئے امتحان کو ٹال نہیں سکتی لیکن غفلت کرنے والوں کو ہرگز نہیں چھوڑوں گی ۔ ادھر کاہنہ میں نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے افسوسناک سانحے کے بعد صوبے میں نجی ٹیوشن سینٹرز اور اکیڈمیز کی ریگولیشن کا معاملہ ایک بار پھر اہمیت اختیار کر گیا ، اس تناظر میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ نجی ٹیوشن سینٹرز ، کوچنگ سینٹرز اور اکیڈمیز کو قانونی ریگولیٹری نظام میں لانے کے لیے تیار کیا گیا اہم ترمیمی بل متعلقہ قائمہ کمیٹی سے منظوری ملنے کے باوجود گزشتہ دس ماہ سے پنجاب اسمبلی سے منظور نہ ہو سکا۔
ماہرین کے مطابق ایسے موثر ریگولیٹری نظام سے نجی تعلیمی مراکز کی نگرانی مزید مضبوط ہوتی اور حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد کو بھی بہتر بنایا جا سکتا تھا۔ وزیر تعلیم پنجاب نے سانحہ باغبانپورہ کے مقام کا دورہ کیا جہاں انھوں نے لینٹر گرنے والی عمارت کا جائزہ لیا اور لینٹر گرنے سے جاں بحق ہونے والے بجے کے گھر جا کر فاتحہ خوانی کی ۔ صوبائی وزیر متاثرہ بچے کو سب سے پہلے نکالنے والے ستھرا پنجاب ورکرز سے بھی ملے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے تعریفی سند جاری کرنے کا اعلان کیا۔
وقت آ گیا ہے کہ پاکستان میں نظام گورننس کو بہتر کرنے پر سب سے زیادہ توجہ دی جائے۔ اس حوالے سے صوبائی حکومتوں کی ذمے داری سب سے زیادہ ہے کیونکہ تعلیم اور ٹریفک کے معاملات صوبائی اختیارات میں آتے ہیں۔ اسی طرح عمارتوں کی تعمیر بھی ایک صوبائی سبجیکٹ ہے۔ اس حوالے سے چاروں صوبوں کی حکومتوں کو اپنے گورننس کے معاملات پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔