کراچی پھر بھارتی دہشت گردی کے نشانے پر

مودی کی انتہاپسند ہندوتوا سرکار اس وقت پاکستان کی ایران امریکا جنگ میں بطور ثالث عظیم کامیابی پر بری طرح تپی ہوئی ہے


عثمان دموہی July 05, 2026

نریندر مودی کی انتہاپسند ہندوتوا سرکار اس وقت پاکستان کی ایران امریکا جنگ میں بطور ثالث عظیم کامیابی پر بری طرح تپی ہوئی ہے۔ اب وہ پاکستان کو نیا نقصان پہنچانے کے لیے بے چین و بے قرار ہے اسی لیے اس نے پاکستان کے دشمن اسرائیل سے گہرے تعلقات قائم کر رکھے ہیں اور ان تعلقات کا مقصد اسرائیل کے ساتھ مل کر پاکستان کے وجود کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ خوش قسمتی سے اسرائیل کی کھلم کھلا اور مودی سرکار کی پس پردہ اسلام آباد امن معاہدے کو ناکام بنانے کی تمام تخریبی کوششیں ناکام و نامراد ہی رہی ہیں البتہ نیتن یاہو نے اپنے جارحانہ بیانات اور لبنان میں جارحیت کرکے ٹرمپ کے غصے کو اتنا بڑھا دیا تھا کہ وہ بات بات میں ایران کو دھمکیاں دینے لگے تھے مگر غصہ ختم ہونے کے بعد ایران کی تعریفیں کرکے اپنی بلاوجہ کی دھمکیوں کی تلافی بھی کرتے رہے۔

بہرحال جیسے تیسے اب اسلام آباد معاہدہ، امریکا، ایران اور دونوں ثالث یعنی پاکستان اور قطر کے دستخطوں کے بعد ایک حقیقت بن چکا ہے اور اسے اب کوئی گزند بھی نہیں پہنچ سکتی کیونکہ ٹھنڈے دماغ کے حامل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اپنی نگرانی میں سوئٹزرلینڈ میں اسلام آباد معاہدے کو آخری شکل دیتے وقت کمال ہوشیاری سے اس معاہدے کو محفوظ بنانے کے لیے تین کمیٹیاں بھی تشکیل دے دی تھیں تاکہ اس معاہدے پر بعد میں امریکی یا ایرانی سربراہوں کی جانب سے کسی بھی قسم کے منفی یا اشتعال انگیز بیانات کا کوئی اثر نہ پڑ سکے اور یہ معاہدہ اپنی اصل شکل وصورت میں برقرار رہے اور اس پر عمل درآمد ہو سکے۔

اب مودی پاکستان کی اس کامیابی پر اپنی بھڑاس نکالنے کے لیے طالبان دہشت گردوں کے ذریعے پاکستان کو پہلے سے زیادہ نقصان پہنچانے کے لیے سرگرم ہو گیا ہے۔ حال ہی میں کراچی میں بھارت کی پراکسی جماعت الاحرار نے پاکستان رینجرز کے کیمپ پر بزدلانہ حملہ کیا ہے۔ اس سے پہلے بھارتی پراکسیز پاکستان کے شمال مغربی سرحدی علاقوں میں اپنی دہشت گردانہ کارروائیاں کرتی تھیں مگر اس دفعہ ان کا کراچی کو نشانہ بنانا ایک خاص معنی رکھتا ہے کہ مودی کراچی کے امن کو پھر تباہ وبرباد کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اس دہشت گردی کی ذمے داری جماعت الاحرار نے قبول کی ہے۔

یہ تنظیم خاص طور پر پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے بھارت کی مالی معاونت سے کافی عرصے سے دہشت گردی میں مصروف ہے، ویسے تو طالبان حکومت خود ایک دہشت گرد حکومت ہے پھر وہاں طالبان کے علاوہ 24 سے 30 دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں جو بھارتی اور اسرائیلی پراکسیز کے طور پر کام کر رہی ہیں۔


اقوام متحدہ نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں ان دہشت گرد تنظیموں کی افغانستان میں موجودگی کی تصدیق کی ہے۔ یہ تمام دہشت گرد تنظیمیں پاکستان کے امن وترقی کو تہہ و بالا کرنے کے لیے اکٹھی کی گئی ہیں۔ افسوس اس امر پر ہے کہ طالبان پاکستان کے احسانات کا بدلہ دہشت گردی سے چکا رہے ہیں۔ طالبان افغانستان میں اقتدار حاصل کرکے افغانستان میں موجود بھارتی پراکسیز کے جال میں پھنس گئے اور وہ خود بھی ان کے ساتھ مل کر پاکستان پر دہشت گردانہ حملے کرنے لگے۔

پاکستان نے شروع میں طالبان کی حتی المقدور مدد کی تھی اور ان کی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے دوستی کرا دی تھی تاکہ ان کی مالی مدد جاری رہ سکے، کیونکہ دنیا کا کوئی بھی ملک نہ انھیں تسلیم کرنے کے لیے تیار تھا اور نہ مالی مدد دینے کے لیے آمادہ تھا بلکہ سب ہی انھیں دہشت گرد قرار دے رہے تھے۔ اس وقت وہ پاکستان کے احسانات کو بھلا کر بھارت کی گود میں جا بیٹھے ہیں اور بھارت انھیں مالی مدد کرنے کے عوض پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

بدقسمتی سے وہ خود تو دہشت گردی کر ہی رہے ہیں، وہاں موجود دیگر پراکسیز کو بھی پاکستان میں دہشت گردی کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ پاکستانی حکومت نے طالبان کے ساتھ بھارتی حکومت کو بھی دہشت گردی سے باز آنے کی تنبیہ کی ہے جس پر بھارتی حکومت نے پاکستان میں دہشت گردی کرنے سے صاف انکار کیا ہے جب کہ بھارتی فوج کے ایک ریٹائرڈ کرنل راجیش پاور نے تسلیم کیا ہے کہ افغانستان میں سرگرم پراکسیز کی بھارت اور اسرائیل مل کر مالی مدد کر رہے ہیں۔ یہ سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے۔ اس میں طالبان حکومت خود بھی شامل ہے۔ عالمی میڈیا نے بھی طالبان حکومت کی جانب سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی پشت پناہی کی خبریں شائع کی ہیں۔


ادھر ایران امریکا امن معاہدے کے طے ہو جانے کے فوراً بعد بھارتی حکومت نے اجیت ڈوول کو ایران حکومت سے چاہ بہار بندرگاہ کو پھر سے اپنے استعمال میں لانے کے لیے مذاکرات کے لیے بھیج دیا ہے۔ اس بندرگاہ کو بھارت پہلے بھی ترقی دینے کے بہانے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔ ایران سے تعلقات مزید کشیدہ ہونے کے بعد ٹرمپ نے بھارت کو چاہ بہار بندرگاہ سے نکلنے کا حکم دیا تھا۔ اب حالات کے سازگار ہونے پر بھارت پھر اس بندرگاہ کو حاصل کرکے پاکستان کے خلاف مزید دہشت گردی کو بڑھانا چاہتا ہے مگر اب حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ ایرانی حکومت سے کہے کہ وہ اسے بھارت کے حوالے کرنے سے گریز کرے۔

یہ بات تو ایرانی حکومت بھی جانتی ہی ہوگی کہ بھارتی مشہور زمانہ خفیہ ایجنٹ کلبھوشن یادیو اسی بندرگاہ کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کراتا رہا تھا مگر بعد میں پاکستانی ادارے کے ہتھے چڑھ گیا تھا جو ابھی بھی پاکستانی قید میں ہے۔ پہلے بھارت نے پاکستان کو ایک دہشت گرد ملک کے طور پر بدنام کر رکھا تھا مگر ایران امریکا امن معاہدے کے بعد اب بھارت کا پاکستان کے خلاف تمام پروپیگنڈا زائل ہو گیا ہے اور اب الٹا بھارت کو ہی دنیا بھر میں ایک دہشت گرد ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ ایک طرف اس کے طالبان سے گہرے تعلقات قائم ہیں تو دوسری جانب عالمی دہشت گرد اور انسانیت کے قاتل اسرائیل سے اسٹرٹیجک تعلقات استوار ہو چکے ہیں۔

کراچی میں دہشت گردانہ حملے میں ملوث گرفتار ایک دہشت گرد نے بھارت اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ کی تمام پول کھول کر رکھ دی ہے جس سے دونوں ممالک دنیا میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے ہیں۔