چہار زنداں

کیا انسان واقعی آزاد ہے؟ یا پھر ہم سب ایسی ان دیکھی زنجیروں اور قید خانوں میں جکڑے ہوئے ہیں جنھیں ہم پہچانتے نہیں۔


زمرد نقوی July 06, 2026
www.facebook.com/shah Naqvi

کیا انسان واقعی آزاد ہے؟ یا پھر ہم سب ایسی ان دیکھی زنجیروں اور قید خانوں میں جکڑے ہوئے ہیں جنھیں ہم پہچانتے نہیں۔ یہ ایک چونکا دینے والا ایسا سوال ہے جو صدیوں سے فلسفے اور عمرانیات کے مفکرین کے ذہنوں پر چھایا رہا ہے۔ دنیا کا ہر شخص یہی سمجھتا ہے کہ وہ اپنے فیصلے خود کر رہا ہے ۔ کیا حقیقی آزادی حاصل کی جا سکتی ہے۔

آج ہم نامور مفکر ڈاکٹر علی شریعتی کی شہرہ آفاق کتاب کے بارے میں جانکاری حاصل کریں گے۔ چہار زندان ۔ یعنی انسان کے چار قید خانے ۔ اس کو سمجھنے کے لیے ایک تمثیل شریعتی اپنی کتاب میں پیش کرتے ہیں۔ فرض کریں ایک پرندہ بڑی جدوجہد کے بعد اپنے پنجرے کا دروازہ کھول لیتا ہے۔ بڑی خوشی سے باہر نکلتا ہے لیکن باہر آ کر اس کو احساس ہوتا ہے کہ وہ جس کمرے میں ہے اس کا دروازہ تو بند ہے۔ یعنی ایک اور قید ۔ پھر وہ کسی طرح اس کمرے کی کھڑکی توڑ کر نکلتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ پوری عمارت ہی باہر سے مقفل ہے۔ کیا انسانی آزادی کا معاملہ ایسا ہی کچھ نہیں ہے۔ ایک قید سے نکلتے ہیں تو خود کو ایک اور بڑی قید میں پاتے ہیں۔ یہاں پر ایک بنیادی سوال کھڑا ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ اس قید خانے میں اصل میں قید کون ہے؟ اور یہاں سے کتاب ایک بہت ہی چونکا دینے والا فرق بیان کرتی ہے۔ جو بشر اور انسان کے درمیان ہے۔ عام بول چال میں ہم بشر اور انسان کو ایک ہی معنے میں استعمال کرتے ہیں۔

فلسفیانہ اعتبار سے اصل میں فرق ہے کیا۔ کتاب کے مطابق بشر سے مراد حیاتیاتی اور طبعی وجود ہے۔ وہ مادی وجود جو بالکل جانوروں کی سطح پر کام کرتا ہے۔ جو پیدا ہوتا ہے۔ جس کی کچھ بنیادی جبلتیں ہیں۔ یعنی بھوک ، پیاس، نیند۔ جو کھاتا پیتا ہے افزائش نسل کرتا ہے اور بالآخر مر جاتا ہے۔ افسوس صد افسوس۔ یہ وجود پوری طرح حیاتیاتی تقاضوں کا غلام ہے۔ لیکن دوسری طرف انسان ایک ارتقائی اور باشعور بامقصد ہستی کا نام ہے۔ یعنی شریعتی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہر بشر انسان نہیں ہوتا۔ جی ہاں بشر سے انسان بننے کا ایک طویل اور کٹھن سفر ہے۔ جو مسلسل شعور اور جدوجہد سے طے ہوتا ہے۔ گویا ہم سب دنیا میں بشر کے طور پر وارد تو ہوتے ہیں لیکن انسان بننا ایک شعوری انتخاب ہے۔ ایک منزل ہے جسے حاصل کرنا پڑتا ہے۔

کتاب میں ان تین الہامی صفات کا تفصیلی ذکر ہے۔ جو انسان کو ایک ممتاز حیثیت عطا کرتا ہے۔ وہ تین عظیم صفات خود آگہی۔ ارادہ آزاد اور صلاحیت تخلیق ہے۔ اگر ہم پہلی صفت خود آگاہی کی بات کریں تو اس کا مطلب ہے اپنے وجود اپنی خامیوں، خوبیوں اور اس کائنات کا وسیع شعور۔ خود آگاہی کا مطلب یہ ہوا کہ ہم صرف زندہ نہیں ہیں بلکہ ہم جانتے ہیں کہ ہم زندہ ہیں۔ اور یہ ایک بہت بڑا فرق ہے۔ دوسری صفت جو ہے وہ ارادہ آزاد۔ اس سے مراد اپنی جبلت کے خلاف فیصلہ کرنے کی طاقت ہے۔ انسان وہ واحد معلوم مخلوق ہے جو اپنی طبعی جبلت کے خلاف فیصلہ کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک بھوکا سامنے پڑی خوراک کو کھانے سے خود کو نہیں روک سکتا۔ کیونکہ وہ تو جبلت کا غلام ہے۔ لیکن ایک انسان اپنی بھوک کے باوجود اپنا کھانا کسی اور کو دے سکتا ہے۔ یا کسی نظریے کی خاطر کئی دن تک فاقہ کر سکتا ہے۔

تیسری سب سے اہم صفت ہے صلاحیت تخلیق۔ جو چیزیں یا حالات قدرت نے بظاہر فراہم نہیں کیے انسان اپنے علم و ہنر سے انھیں خود وجود میں لا سکتا ہے۔ جی بالکل یعنی شہر بنانا۔ آرٹ سائنس یہ سب تخلیق ہی تو ہیں۔ یہاں اس نکتے پر ایک ایسی الجھن ہے کہ اگر انسان کے پاس انتخاب کی اتنی زبردست آزادی ہے اور نئی چیزیں تخلیق کرنے کی اتنی غیر معمولی طاقت موجود ہے تو پھر تاریخ میں جبریت کا فلسفہ اتنا مقبول کیوں رہا ہے۔ یہ ایک بہت اہم سوال ہے۔

ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ حالات انسان کو بالکل بے بس کر دیتے ہیں۔ کیا واقعی ہم مکمل طور پر آزاد ہیں۔ کیا محض قدرت یا معاشرے کا کوئی اسکرپٹ ادا کر رہے ہیں۔ کہیں یہ آزادی محض ایک سراب تو نہیں۔ یہ الجھن ہماری بالکل بجا ہے اور یہی سوال ہماری گفتگو کو اگلے اور بہت اہم مرحلے میں داخل کرتا ہے۔ ڈاکٹر علی شریعتی اس سوال کے جواب میں یہ نظریہ پیش کرتے ہیں کہ انسان ارادے کی آزادی کے ساتھ پیدا ضرور ہوا ہے لیکن اس کے گرد کچھ پہرے ہیں۔ اس کے گرد جبر کے تین بڑے پہرے اور بیرونی دیواریں موجود ہیں۔ جنھیں وہ ابتدائی تین زندان قرار دیتے ہیں۔