چین سے ہمیشہ خیر کی خبر آتی ہے۔ تازہ خبر ایک چینی مدبر ڈاکٹر وکٹر گا کا بیان ہے جس میں انھوں نے وہ نسخہ بیان کیا ہے جس پر عمل کر کے بھارت کو سندھ طاس معاہدے کا پابند بنایا جا سکتا ہے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ بیان غیر معمولی اور ایک اعتبار سے خیالی پلاؤ محسوس ہوتا ہے۔
سبب یہ ہے کہ بھارت بھی اسرائیل کی طرح نہ اقوام متحدہ کے فیصلے تسلیم کرتا ہے اور نہ عالمی عدالتِ انصاف کے فیصلے اس کے لیے کوئی اہمیت رکھتے ہیں۔ بھارت فی الاصل ایک استعماری طاقت ہے جو اپنے حجم اور اپنی طاقت کے زعم میں پڑوسی ریاستوں پر اجارہ داری قائم کرنا چاہتا ہے۔ گزشتہ 80 برس کی تاریخ یہی بتاتی ہے۔
بھارت نے اپنے تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ یہی رویہ اختیار کیا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بھارت کا کوئی پڑوسی ملک حتی کہ نیپال بھی اس سے خوش نہیں ہے۔ ساٹھ کی دہائی میں پاکستان کے فوجی حکمراں ایوب خان اور بھارت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے پانی کی تقسیم کے لیے عالمی بینک کی ثالثی میں جو معاہدہ کیا تھا، تاریخ میں اسے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
اسے ایک مثالی معاہدہ قرار دیا گیا جس نے پانی کے تنازعات کی وجہ سے دو پڑوسی ملکوں کے درمیان یقینی جنگوں کا راستہ بند کر دیا تھا۔ اس معاہدے کے لیے ایوب خان اور نہرو کی عالمی سطح پر تحسین ہوئی اور ان کی دانش مندی کو سراہا گیا۔ یہ معاہدہ واقعی قابل تحسین تھا لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، بھارت کی نیت بدلتی گئی۔
گزشتہ دو تین دہائیوں میں دنیا نے تسلسل کے ساتھ یہ خبریں سنیں کہ بھارت پاکستان کے حصے میں آنے والے دریاؤں پر آبی منصوبے بنا رہا ہے۔ پاکستان نے متعلقہ عالمی فورموں پر ہمیشہ یہ معاملات اٹھائے۔ یہاں تک کہ ثالثی عدالت نے بھارتی منصوبوں کو معاہدے کے منافی قرار دیا۔ عالمی برادری اور دنیا کے بڑے بڑے آبی ماہرین بھی بھارتی منصوبوں کو نہ صرف غلط بلکہ علاقائی امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔
اس کے باوجود بھارت کبھی ٹس سے مس نہیں ہوا۔ گزشتہ برس پاکستان کے خلاف چار روزہ جنگ میں بدترین شکست کے بعد بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل کردیا تو عالمی برادری نے اسے بھی امن کے خلاف سازش قرار دیا جب کہ ثالثی عدالت نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی اور واضح کیا کہ بھارت یک طرفہ طور پر معاہدہ منسوخ نہیں کر سکتا اور یہ کہ معاہدے کی شرائط اب بھی مؤثر ہیں۔ اس کے باوجود بھارت نے اپنی ضد برقرار رکھی اور ثالثی عدالت کا فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ یہ تصویر کا ایک پہلو ہے۔ تصویر کا دوسرا پہلو زیادہ ہول ناک ہے اور پریشان کرنے والاہے جس سے برادر محترم افتخار گیلانی نے اپنی ایک چشم کشا رپورٹ میں پردہ اٹھایا ہے۔
اس ضمن میں گیلانی صاحب نے ایک بنیادی اصول سے آگاہ کیا ہے جو اس سے پہلے میرے علم میں نہیں تھا۔ انھوں نے بتایا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں پانی کے ذخائر یعنی گلیشیروں کو محفوظ رکھنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر ایک مسلمہ اصول کی پاس داری کی جاتی ہے۔ اس اصول کے تحت میدانی علاقوں کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ بالائی علاقوں کی معاونت اور مدد کریں۔ بھارت اس اصول کی پاس داری کرتا ہے لیکن مکمل طور پر نہیں۔ وہ اس اصول کی پاس داری پک اینڈ چوز کی بنیاد پر کرتا ہے یعنی میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا تھو۔
اس اصول کے تحت میدانی علاقوں میں رہنے والوں کی یہ ذمے داری ہے کہ پہاڑی علاقوں کے مکینوں کے لیے خوراک، توانائی دیگر اقتصادی معاملات کا تحفظ یقینی بنائیں تا کہ وہ گلیشئروں اور جنگلات کا تحفظ یقینی بنا سکیں۔ گیلانی صاحب کے مطابق پاکستان آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں خوراک اور بجلی کی قیمتوں میں جو سہولت فراہم کرتا ہے، اس کی ایک وجہ یہی ہے۔ بھارت نے بھی ایسا کیا ہے لیکن مقبوضہ کشمیر کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا ہے۔
بھارت نے پانی کے بنیادی منبع یعنی گلیشیروں اور جنگلات کے تحفظ کے لیے آسام، مغربی بنگال، اترا کھنڈ، ہماچل پردیش، پنجاب اور اتر پردیش وغیرہ میں اسی قسم کے معاہدے کیے ہیں لیکن مقبوضہ کشمیر کو نظر انداز کر دیا ہے حالاں کہ مودی حکومت 2019 میں آئین میں ترمیم کر کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کر چکی ہے۔ اس لیے دیگر بھارتی ریاستوں کی طرح اصولی طور پر مقبوضہ کشمیر کے ساتھ بھی میدانی ریاستوں کو معاہدے کرنے چاہئیں لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ سبب یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے دریاؤں کا پانی پاکستان کی طرف جاتا ہے۔ اس پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے گلیشیر ختم ہونے لگے ہیں۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں تین ہزار سے زائد گلیشیر موجود ہیں جو پورے برصغیر کی فوڈ سکیورٹی کو یقینی بناتے ہیں۔ اب یہ گلیشیر ختم ہو رہے ہیں یا سکڑ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر سونا مرگ کے علاقے میں تھجواسن گلیشیر ہے جو کبھی 54 کلومیٹر تک پھیلا ہوا تھا اب یہ گلیشیر سکڑ کر صرف ڈھائی کلومیٹر تک محدود ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ بھارت کی تنگ نظری اور نفرت پر مبنی پالیسی ہے۔
اس کا ایک اور سبب آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی نفرت پر مبنی فرقہ وارانہ سیاست بھی ہے جس کے تحت لاکھوں افراد پر مشتمل رتھ یاترائیں نکالی جاتی ہیں جن کی وجہ سے بالائی علاقوں کا ماحول تباہ ہو چکا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بھارت کی فرقہ وارانہ سیاست نے بھی مقبوضہ کشمیر کے گلیشیر تباہ کر دیے ہیں۔ یوں گویا بھارت پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف اپنی نفرت میں صرف پانی کے وسائل ہی تباہ نہیں کر رہا بلکہ انسانی تہذیب کو بھی تباہ کر رہا ہے۔ اس سازش کی ایک کڑی اور بھی ہے۔ بھارت کے مرکزی وزیر برائے آبی وسائل سی آر پاٹل نے کہا ہے کہ نریندر مودی نے امیت شاہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی نگرانی میں ایک ایسا منصوبہ شروع کریں جو یقینی بنائے کہ دریائے سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی پاکستان نہ جا سکے۔
اس پس منظر میں ڈاکٹر وکٹر گاؤ کی تجویز غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ انھوں نے حکومت پاکستان کے تحت سندھ طاس معاہدے پر اسلام آباد میں ہونے والے ایک بین الاقوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین کو بھی سندھ طاس معاہدے کا حصہ بنایا جائے کیونکہ بھارت سے گزر کر پاکستان جانے والے دریاؤں کے سوتے چین سے پھوٹتے ہیں۔ یہ تجویز منطقی اور قابل عمل ہے۔ چین کو سندھ طاس معاہدے میں شامل کرنے کے لیے اس معاہدے پر از سر نو غور کرنا پڑے گا۔
بھارت نے گزشتہ چند دہائیوں میں پاکستان کو اس کے حصے کے پانی سے محروم رکھنے کے لیے جو اقدامات کیے ہیں، ان کے ہرجانے کے طور پر پاکستان ان دریاؤں کے حصول کا مطالبہ بھی کر سکتا ہے، فطری طور پر جن پر پاکستان کا حق ہے یعنی تین مزید دریا۔ بھارت نے یک طرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کر کے اس کا جواز پیدا کر دیا ہے۔ حکومت پاکستان کو فوری طور پر اس ضمن سرگرمی شروع کر دینی چاہیے۔ اس تجویز پر عمل درآمد بھارت کو سندھ طاس معاہدے پر اس کی روح کے مطابق پابندی پر مجبور کر دے گی۔