چشم دید گواہ (دوسری قسط)

بلاشبہ بھٹو صاحب قابل اور مقبول بہت تھے مگر ملک کے زیادہ تر سیاستدانوں کی طرح ان کا کوئی ٹھوس نظرّیہ نہیں تھا۔


[email protected]

سعید مہدی صاحب نے اپنی خودنوشت میں سقوطِ مشرقی پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ 1971ء؁ کی جنگ نے دو قومی نظرئیے کی negation (نفی) کردی، پھر لکھتے ہیں 'It was a death blow for two Nation Theory'۔ اس وقت اندر گاندھی نے بھی تکبّر میں آکر کہا تھا کہ ’’ہم نے دو قومی نظرئیے کو خلیج بنگال میں بہادیا ہے‘‘۔ میں بصد احترام یہاں بھی مصنّف سے اختلاف کروں گا۔

دو قومی نظرّیہ کیا ہے؟ نہرو اور کانگریس کے دوسرے لیڈر کہا کرتے تھے کہ پورا ہندوستان ایک قوم ہے جس کی نمائیندگی کانگریس کرتی ہے، اس کے جواب میں برصغیر کے مسلمانوں کی سب سے توانا آواز گونجی’’ہر گز نہیں! ہماری تہذیب، ہمارا کلچر، ہمارا رہن سہن، ہمارے ہیرو، ہمارے ولن، ہمارے سوچنے کا انداز اور ہمارے کھانے کے آداب سب کچھ ہندؤں سے مختلف ہیں، لہٰذا ہندوستان میں ایک نہیں دو قومیں بستی ہیں۔ ہم مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں، اس لیے ہمیں علیحدہ وطن چاہیے‘‘۔ یہ آواز کسی نیم خواندہ مُلّا کی نہیں، روشن خیال بیرسٹر محمد علی جناح ؒ کی تھی، جس کے نظریاتی گائیڈ علّامہ اقبالؒ پہلے رہنما تھے جنھوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو اس نظرئیے سے روشناس کرایا۔

مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے یہ نظریہ ختم نہیں ہوا، یہ نظریہ ایک اٹل اور لازوال حقیقت ہے۔ دو قومی نظرّیہ تب ختم ہوتا اگر بنگلہ دیش اپنی علیحدہ مذہبی اور ثقافتی شناخت ختم کرکے بھارت میںضم ہوجاتا، 1971 میں دو ملکوں والا فارمولہ ضرور ناکام ہوا مگر دو قوموں والا نظرّیہ ختم نہیں ہوا، برّصغیر میں ایک کی بجائے دو اسلامی ملک قائم ہوگئے، زیادہ بھی ہوسکتے ہیں، بنگلہ دیش نے اپنی آزادی اور اسلامی تشخص قائم رکھا، اگر بنگلہ دیش کے عوام اپنی آزادی اور علیحدہ حیثیّت قائم رکھنے کے بجائے دوبارہ ہندوستان میں شامل ہونا قبول کرلیتے تو پھر کہا جاسکتا تھا کہ 1971 کی جنگ نے دو قومی نظرئیے پر مہلک وار کرکے اسے ختم کردیا۔ بنگلہ دیش کی کٹھ پتلی حکمران حسینہ واجد نے بھارتی حکمرانوں کی ہدایت پر بنگلہ دیش کا اسلامی تشخص ختم کرنے کی بڑی کوشش کی مگر بنگالی نوجوانوں کے عظیم انقلاب نے ملک کی اسلامی شناخت ختم کرنے والوں کی اپنی شناخت ختم کردی، بنگالی عوام نے بھارت کی غلامی اور لادینیت کی ہر علامت کو مٹادیا اور ملک کی اسلامی شناخت بحال کرکے دو قومی نظرئیے کی صداقت پر مہر ثبت کردی۔

مصنّف نے بھٹو صاحب کی حکومت کے خاتمے اور جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کا بڑی تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے، مگر کچھ جگہوں پر محسوس ہوتا ہے کہ مصنف نے اصل حقائق کے بجائے hearsay پر یقین کرلیا ہے۔ بھٹو صاحب کو معزولی کے بعد مری میں رکھا گیا تھا جہاں وہ ملک کے نئے حکمران جنرل ضیاء الحق کے قیدی تھے۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد جنرل ضیاء کی ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ہونے والی پہلی ملاقات کے بارے میں پیپلز پارٹی کے جیالوں نے کافی افسانے گھڑ رکھے ہیں، جن میں ضیاء الحق کی مونچھوں اور دانتوں کا ذکر بھی کیا جاتا ہے۔ مگر اس سلسلے میں سے سب سے مستند ذریعہ جنرل فیض علی چشتی ہیں جو اس وقت 10 کور کے کمانڈر کی حیثیت سے اس ملاقات میں موجود تھے۔

ضیاء الحق نے معزول وزیراعظم سے ون ٹو ون ملاقات کے بجائے Formal meeting کو ترجیح دی جس میں آرمی چیف کے ساتھ متعلقہ کور کمانڈر بھی شریک ہوئے۔ اس ملاقات کے عینی شاہد جنرل چشتی اپنے انٹرویوز میں جنرل ضیاء الحق کے ساتھ بھٹو صاحب کے روئیے کے بارے میں بتا چکے ہیں۔ بھٹو صاحب جانتے تھے کہ وہ ملک کے نئے حکمران اور فوج کے سپہ سالار سے مل رہے ہیں، اس لیے انھوں نے نہ تو ملنے سے انکار کیا اور نہ ہی کوئی نامناسب بات کی بلکہ انھوں نے انتہائی کرٹسی اور خوش اخلاقی کا مظاہرہ کیا، بھٹو صاحب بڑے ذہین سیاستدان تھے، وہ نئے حقائق کو سمجھ چکے تھے، وہ جانتے تھے کہ اگر کوئی ریلیف مل سکتا ہے تو اسی شخص سے مل سکتا ہے، اس لیے وہ جنرل ضیاء الحق کو ناراض کیوں کرتے، اور اس ملاقات کے نتیجے میں انھیں فوری ریلیف مل بھی گیا، وہ یہ کہ بھٹو صاحب کی درخواست پر مختلف جگہوں پر زیرِ حراست پیپلز پارٹی کے سینئر لیڈروں کو مری میں اکٹھا کردیا گیا۔ سیاستدان ریلیف لینے میں جب مکمل طور پر ناکام ہوجاتے ہیں تو پھر غصے کا اظہار کرتے اور سخت زبان استعمال کرنے لگتے ہیں۔

اس کے علاوہ کتاب میں بھٹو صاحب کے جیل میں آخری لمحات کا بھی ذکر ہے، اس بارے میں بھی حقائق کم اور افسانے زیادہ مشہور ہیں، اس ضمن میں سب سے مستند شخص اس وقت کا جیل سپرنٹنڈنٹ یار محمددریانہ تھا جو ہر روز بھٹو صاحب کے سیل کا معائنہ کرنے جاتا اور ان سے ہر روز ملتا تھا۔ وہ واحد شخص تھا جس سے بھٹو صاحب خوشگوار انداز میں دل کی بات بھی کرلیتے تھے، اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ اس کا سگا بھائی پیپلز پارٹی میں تھا۔

راقم کے بڑے بھائی صاحب ان دنوں راولپنڈی میں اینٹی کرپشن کے جج تھے۔ ایک روز جیل سپرنٹنڈنٹ کسی کیس کے سلسلے میں گواہی دینے کے لیے بھائی صاحب کی عدالت میں پیش ہوا۔ پیشی کے بعد انھوں نے اسے روک لیا اور گھر لے آئے، میں بھی وہیں موجود تھا۔ ہمارے پوچھنے پر کہ ’’کیا بھٹو صاحب کے ساتھ کبھی تشدّد بھی ہوا تھا؟‘‘ اس نے بتایا کہ ان کے ساتھ کبھی تشدد نہیں ہوا، اس نے بتایا کہ میں جب بھٹو صاحب کو ممکنہ سزا کے بارے میں بتاتا تو وہ مجھے کہا کرتے تھے کہ ’’یار تم موٹی عقل کے آدمی ہو، تم نہیں جانتے کہ جنرل ضیاء پر کس قدر عالمی دباؤ ہے، وہ مجھے کبھی سزا نہیں دے سکتا‘‘۔ سپرنٹنڈنٹ یار محمد نے آخری رات کی اصل کہانی کے واقعات بھی سنادیے کہ آخری رات بھٹو صاحب نے شیو بھی کی اور وصیّت لکھنے کے لیے کاغذ بھی منگوائے، یعنی انھوں نے یہ نہیں کہا کہ میری وصیّت قوم لکھے گی بلکہ وہ خود کاغذات پر کافی دیر تک لکھتے رہے، مگرآخر میں انھوں نے وہ سب کاغذات اپنے سگار سے جلادیے اور اس کے بعد وہ نیچے گدّے پر لیٹ گئے۔

چند روز پہلے تک بھٹو صاحب اس ساری ایکسرسائز کو ضیاء الحق کا ڈرامہ سمجھتے رہے کہ وہ یہ سب کچھ میرے اعصاب توڑنے کے لیے کررہا ہے مگر آخری رات وہ سمجھ گئے کہ یہ ڈرامہ نہیں حقیقت ہے۔ یار محمد کے بقول رات ڈیڑھ بجے جب وہ، مجسٹریٹ اور دوسرے عملے کے ساتھ انھیں پھانسی گھاٹ پر لے جانے کے لیے ان کے سیل میں گیا تو بھٹو صاحب لیٹے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر کے بقول وہ گہرے shock میں تھے، انھیں پھانسی گھاٹ تک پہنچایا گیا۔ سپرنٹنڈنٹ نے اپنے ایک پڑھے لکھے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ سے کہا کہ تم انگریزی میں کوئی بات کرو جس سے بھٹو صاحب کو حوصلہ ملے اور وہ کھڑے ہوکر تختۂ دار پر پہنچ جائیں۔ اس پر اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ نے بھٹو صاحب کے پاس جاکر انگریزی میں کہا

 "Sir your conduct will go down in history, The entire world is watching  as to how you conducted youself at this moment. اس پر وہ اٹھ کر کھڑے ہوگئے اور سہارے کے ساتھ پھانسی گھاٹ پر پہنچ گئے۔ جب رسّہ گلے میں ڈالنے میں کچھ رکاوٹ آئی تو انھوں نے سخت بیزاری سے کہا Finish it اس کے علاوہ آخری لمحات میں ان کی زبان سے کوئی اور لفظ نہیں نکلا۔ اس سانحے کے چشم دید گواہ کی زبانی ملک کے انتہائی قابل لیڈر کے آخری لمحات کا احوال سن کر ہماری آنکھیں بھیگ گئیں اور زبان سے بے اختیار نکلا فاعتبرو یا اُولی الاابصار

بلاشبہ بھٹو صاحب قابل اور مقبول بہت تھے مگر ملک کے زیادہ تر سیاستدانوں کی طرح ان کا کوئی ٹھوس نظرّیہ نہیں تھا۔ ان کے مقابلے میں قرونِ اولیٰ ہی نہیں آج کے جدید دور میں بھی بہت سے سیاسی راہنما ایسی ہی آزمائش سے گذرے، کل کی بات ہے کہ بھارت کے حکم پر حسینہ واجد نے پاکستان کا ساتھ دینے پر جماعتِ اسلامی کے درجنوں راہنماؤں کو پھانسیاں دے دیں، ان میں سے ہر ایک پورے اطمینانِ قلب کے ساتھ اپنے خالق اور مالک کو ساری رات یاد کرتا رہا اور پھر ہنستا مسکراتا ربِّ ذوالجلال کی عظمت کے نعرے لگاتا ہوا خود جاکر پھانسی گھاٹ پر جھول گیا۔ خالقِ کائنات ایسا غیر معمولی حوصلہ اور جرأت صرف انھیں عطا کرتا ہے جو حصولِ اقتدار کی بجائے کسی مقدّس مشن کے لیے یا کسی اعلیٰ اور ارفع نظرئیے کے لیے جدّوجہد کررہے ہوں۔

بہت سے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ بھٹو صاحب کی ہدایت پر ان کی فیملی نے صدر کے پاس رحم کی اپیل نہیں کی تھی، مگر اس کتاب میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ بھٹو صاحب کی پہلی بیوی امیر بیگم صاحبہ نے صدر کے پاس رحم کی اپیل کی تھی، اس کے علاوہ بھٹو صاحب کی دوسری بیگم نصرت بھٹو صاحبہ نے جنرل ضیاء الحق کو خط لکھا تھا کہ اگر بھٹو صاحب کی جان بخشی کردی جائے تو وہ انھیں لے کر بیرون ملک چلی جائیں گی بیگم نصرت بھٹو کی درخواست مان لی جاتی تو بہت بہتر ہوتا، مگر ضیاء الحق نے دونوں درخواستیں مسترد کردیں۔      (باقی کل ملاحظہ کیجیے)